نئی دہلی (آئی این پی ) بھارتی ریاست مہاراشٹر میں مغل بادشاہ اورنگزیب کے مقبرے کی سیکورٹی سخت کر دی گئی۔
بھارتی میڈیارپورٹس کے مطابق تاریخی مقبرہ کو تباہ کرنے کی دھمکیوں کے پیش نظر پولیس حکام نے گزشتہ روز مقبرہ کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ سیکیورٹی فورسز کی نئی کھیپ کو تعینات کیا گیا، جبکہ مقامی پولیس کی سیکورٹی پہلے سے موجود ہے۔مقبرہ کی حفاظت کے لئے انسپکٹر سطح کے 2 سینئر افسران 24 گھنٹے ڈیوٹی پر تعینات کئے گئے ہیں۔ مقبرہ کی طرف جانے والی سڑک پر دو مقامات پر ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور دو فکس پوائنٹس بھی بنائے گئے ہیں۔
مقبرہ پر آنے والے ہر شخص کی تلاشی لی جارہی ہے اور پھر جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ یہ اقدام سیکورٹی کے نظام کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ حال ہی میں اورنگ زیب کے حوالے سے تنازعہ کھڑا ہوا ہے۔ وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کی جانب سے دھمکی کے بعد اورنگ زیب کے مقبرے کی حفاظت کو بڑھا دیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق مہاراشٹر کے چھترپتی سمبھاجی نگر میں واقع مقبرہ پر آنے والے ہر شخص کو چیک کرکے جانے دیا جا رہا ہے۔
سینئر پولیس حکام نے اورنگ زیب کی خلت آباد مقبرہ کا دورہ بھی کیا۔ واضح رہے کہ مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے 10 مارچ کو کہا تھا کہ چھترپتی سمبھاج نگر میں واقع مغل بادشاہ اورنگ زیب کے مقبرے کو ہٹا دیا جانا چاہیے، لیکن ایسا قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے، کیونکہ پچھلی کانگریس حکومت نے اس جگہ کو آثار قدیمہ کے سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے تحفظ کے تحت دے دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تاریخی واقعات کے مطابق مغل افواج نے 1689 میں سمبھا جی مہاراج کو گرفتار کیا تھا اور انھیں زدوکوب کیے جانے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا، اس لیے وہاں اورنگزیب کے خلاف نفرت کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ رواں سال ریلیز ہونے والی تاریخی ایکشن فلم چھاوا نے، جو کہ سمبھاجی مہاراج کی زندگی پر مبنی ہے، تنازعہ کو مزید ہوا دی۔ فلم میں وکی کوشل نے سمبھاجی مہاراج اور اکشے کھنہ نے اورنگزیب کا کردار نبھایا ہے۔