ٹریفک حادثات کے حوالے سے بے حسی کیوں؟

ٹریفک حادثات کے حوالے سے بے حسی کیوں؟

  

روڈ ٹریفک حادثہ یقینا خدا کی مرضی نہیں۔ اس میں مختلف عناصر ملوث ہوتے ہیں۔ٹریفک حادثہ یا تو ڈرائیور کی غلطی، گاڑی کی خرابی، روڈ کی تعمیرمیں کمی و کوتاہی، یا پھر سڑک کو استعمال کرنے والے کی غلطی سے وقوع پذیرہوتا ہے، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ٹریفک حادثہ کے حوالے سے ہماری سوچ بحیثیت قومِ منفی ہے۔ ہم ٹریفک حادثے کو اس انداز میں لیتے ہیں، جیسے اس نے ہونا ہی تھا۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ایک موٹرسائیکل سوار جس کی موٹربائیک کی سپیڈ80سے 100کلومیٹرفی گھنٹہ کی رفتار ہو اور وہ بیچ سڑک موبائل فون نکال کر سنناشروع کردے تو یقینا یا تو اس کی بائیک سامنے کسی تیزرفتار گاڑی سے ٹکرائے گی یا پھر وہ پیچھے سے آنے والی گاڑی کا شکارہوکر یا تو زندگی کی بازی ہار دے گا یا پھر ہمیشہ کے لئے معذور ہوجائے گا۔یہی وجہ ہے کہ ٹریفک حادثات میں خاندانوں کے واحد سہارا نہ صرف اپنی جان ہاردیتے ہیں، بلکہ وہی خاندانوں پر بوجھ بن جاتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ کل 13لاکھ افراد ان ٹریفک حادثات کی نذر ہوتے ہیں، جبکہ 50ملین لوگ زخمی یا پھر معذور ہوجاتے ہیں۔ شاید کسی کو یقین نہ آئے کہ ابھی بھی دنیابھر میں ہونے والی اموات میں سے دسویں بڑی وجہ ٹریفک حادثہ ہی ہے اور ان ٹریفک حادثات کی وجہ سے سالانہ دنیا بھر میں 518بلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے اور ہر ملک کے جی ڈی پی پراس کا اثر 1سے 3 فیصد پڑتاہے۔ اِسی طرح تقریباً 90فیصد حادثات کم یا اوسطاً کم آمدن والے بشمول پاکستان میں وقوع پذیر ہوتے ہیں، جن میں دنیا کے مقابلے میں 50فیصد سے کم گاڑیا پائی جاتی ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزشن کے مطابق تقریباً 46فیصد لوگ جو ان ٹریفک حادثات کا شکار ہوتے ہیں وہ پیدل چلنے والے، سائیکل سوار اور موٹرسائیکل سوارہوتے ہیں۔ پاکستان میں خاندانوں کے واحد کفیل نوجوانوں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ روڈ ٹریفک حادثات ہی ہیں، جو بالاآخر ہمارے معاشی نظام پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ شاید کبھی کسی نے یہ نہیں سوچاکہ ان حادثات سے نجات نہ تو ہمیں امریکہ نے دلوانی ہے نہ برطانیہ ، نہ آسٹریلیااور نہ ہی کسی اور ملک نے بلکہ وطن ِ عزیزکی حفاظت اور ہم وطنوں کی حفاظت بھی ہم نے خود ہی کرنی ہے، کیونکہ یہ ملک ہمارا ہے اور ہمیں اس سے پیار ہے۔

پاکستان میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کو دیکھتے ہوئے پاکستانی نثراد اور برطانیہ کے پہلے مسلم پارلیمنٹرین چودھری محمد سرور نے حال ہی میں ” سیف کمیونیٹیزپاکستان “ کے نام سے ایک تنظیم بنائی جس کا مقصد ان حادثات کی روک تھام ، لوگوں میں اس حوالے سے شعور اجاگر کرکے ایک محفوظ پاکستان کا قیام ہے۔ محفوظ پاکستان کا قیام ہی پاکستان کی پہلی جدید ایمرجنسی سروس ، پنجاب ایمرجنسی سروس (ریسکیو1122)کا ہے۔ جس نے اب تک 6لاکھ60ہزار سے زائد ٹریفک حادثات پر ریسپانڈ کیا ہے، جن کے متاثرین میں چھ لاکھ سے زائد مرد اور ایک لاکھ سے زائد خواتین شامل ہیں، جبکہ کل 8352افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔ ان حادثات میں کل 62, 418افراد شدید زخمی ہوئے اور ریسکیواہلکاروں نے بروقت ہسپتال منتقل کیاجبکہ 3 لاکھ 9 ہزار سے زائد افراد کو فوری ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ ریسکیو1122جانب سے تیار کی جانے والی ”روڈ ٹریفک حادثات ڈائری “ کے مطابق اب تک ان حادثات میں 43546افراد کی عمرایک سے دس سال، ایک لاکھ 95ہزار964افراد کی عمر11سے 20 سال، دو لاکھ 42ہزار597افراد کی عمر21 سے 30 سال، ایک لاکھ 53ہزار873افراد کی عمر31 سے 40سال، 79ہزار986افراد کی عمر41سے50سال، 39ہزار 318افرا د کی عمر58سے60سال جبکہ 25 ہزار 169افراد کی عمر 60 سال سے زائد ہے۔

ریسکیو1122جو پاکستان کے مایہ ناز ٹراما سرجن ڈاکٹررضوان نصیر کی کرشماتی شخصیت اور انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے اور جس نے پاکستان بالخصوص پنجاب ، خیبرپختونخوا ، گلگت بلتستان کے شہریوں میں ایمرجنسی کے متاثرین میں احساسِ تحفظ پیدا کیا ہے ، آج پاکستان کی سب سے بڑی ایمرجنسی ہیومینیٹیرین سروس بن چکی ہے، اِسی لئے بلاشبہ ڈاکٹررضوان نصیر پاکستان کا سچاہیرو اور شہریوں میں احساسِ تحفظ پیداکرنے کاپیامبرہے۔ انہوں نے ہی پاکستان میں جدید ایمرجنسی کا نظام متعارف کرایا اور انسان دوست خیالات اور عملی کاوشوں کی وجہ سے آج پنجاب ایمرجنسی سروس اپنا اوسط ریسپانس وقت سات منٹ برقرار رکھتے ہوئے18 لاکھ سے زائد لوگوں کو ریسکیوکرچکی ہے۔ اگریوں کہا جائے کہ ڈاکٹررضوان نصیر نے ایمرجنسی کے حوالے سے لوگوں کے ذہن تبدیل کردیئے ہیں تو غلط نہ ہوگا، اب لوگوں میں یہ شعور بیدار ہونے لگا ہے کہ روڈ ٹریفک حادثہ خدا کی مرضی نہیں ہے، بلکہ اس میں کہیں نہ کہیں ہماری اپنی غلطی اور کوتاہی شامل ہوتی ہے۔

ریسکیو1122کے اہلکاروں کے بارے میں معروف صحافی سلیم بخاری نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر رضوان نے پاکستان میں ”منی ڈاکٹر“ پید ا کر دیئے ہیں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہمارے ملک میں ڈاکٹررضوان نصیر جیسے بے لوث ، فرض شناس اور ایماندار لوگوں کی قدر نہیں کی جاتی ۔ جب پہلی بار انہوں نے پاکستان میں جدید ایمرجنسی کا نظام متعارف کرانے کا اظہار کیا تو مختلف کوارٹرزسے حوصلہ افزائی نہیں، بلکہ انہیں یہ کہا گیا.... ”ڈاکٹرصاحب یہ امریکہ نہیں پاکستان ہے“ ۔ ایسے حوصلہ شکن جوابات کے باوجود بھی انہوں نے ہمت نہ ہاری اور آج میڈیکل ایمرجنسی ہو، روڈ ٹریفک حادثہ ہو، فائرکیس ہو، ڈوبنے کے واقعات ہوں، دھماکہ ہو یا کسی بھی قسم کی ایمرجنسی ہو ریسکیو1122کے جانباز اہلکارمتاثرین کی مدد کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔      ٭

مزید :

کالم -