پاکستان میں 2013ءکے انتخابات اور ترک میڈیا

پاکستان میں 2013ءکے انتخابات اور ترک میڈیا
پاکستان میں 2013ءکے انتخابات اور ترک میڈیا

  

پاکستانی میڈیا کی طرح ترک میڈیا نے بھی ہمارے انتخابات میں گہری دلچسپی دکھائی ہے۔ترکی کے صدر اور وزیراعظم نے انتخابی نتائج کے فوراً بعد مبارکباد کی کال کی اور اپنی حکومت اور عوام کی جانب سے ہر ممکن مدد کا اعادہ بھی کیا۔ انتخابی مراحل سے لے کر نتائج اور نئی حکومت کی تشکیل کے تمام مراحل تک ترک میڈیا مسلسل بریکنگ نیوز، فیچرز، ڈاکومنٹریز،خصوصی رپورٹ اور خصوصی اشاعت و مضامین کا اہتمام کرتا رہا۔ ترکی کے تمام اہم اخبارات، جن میں زمان، جمہوریت،ڈیلی بوگن،انا طولیہ اور جہان نیوز ایجنسی ،طرف، ایکٹونیوز ،پوستا ،حریت، صباح، میلیت، ترکیہ، سٹار، وزچو وطن، اکشام، ینی شفق اور مشہور ٹیلی ویژن اسٹیشن سمان یولو، ٹی آر ٹی، چینل 7،چینل ڈی ، اے ٹی وی ،سٹار ٹی وی ، این ٹی وی، چینل اے اور چینل ترک وغیرہ نے پاکستان میں انتخابات کی خبروں کو بطور خاص کوریج دی ہے۔

ترکی کے سرفہرست اخبار زمان نے 11مئی کو یہ شہ سرخی لگائی:”فوجی بغاوت کے ذریعے جلاوطن ہونے والے کی انتخابات اور جمہوریت کے ذریعے واپسی“....ایک دوسرے اخبار بوگن نے یہ سرخی جمائی ہے:”ترکی میں پاکستانی انتخابات کی کامیابی کا جشن“.... روزنامہ ”جمہوریت“ نے لکھا ہے کہ پاکستان کے یہ انتخابات تاریخی اور انتہائی اہم ہیں ۔روزنامہ ”حریت“ اور ”صباح“ نے پاکستانی انتخابات کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ترکی کے صدر عبداللہ گل اور وزیراعظم رجب طیب اردگان نے پاکستان میں انتخابات کے پُرامن انعقاد کو ایک مثبت قدم قرار دیا ہے اور جمہوریت کی جانب ایک اہم پیس رفت کہا ہے۔دونوں لیڈروں نے میاں محمد نوازشریف کو بذاتِ خود کال کرکے انہیں اس تاریخی کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور دونوں برادر اوردوست ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے پر زور دیا۔ترک میڈیا نے اس خبر کو بھی بطور خاص کوریج دی ہے۔

اسلام آباد میں موجود انا طولیہ اور جہان نیوز ایجنسی نے بھی ان انتخابات کے بارے میں خصوصی کوریج کی ہے۔جہاں تک ترک الیکٹرانک میڈیا کا تعلق ہے تو ویڈیو اور ٹی وی چینلوں نے بڑے اہتمام کے ساتھ بین الاقوامی نیوز بلیٹن میں پاکستانی انتخابات کو بھرپور کوریج دی ہے۔سرکاری ٹیلی ویژن ٹی آر ٹی ،این ٹی وی اور سمان یولوٹی وی نے پاکستان میں انتخابات کے تمام اہم مراحل اور نتائج کو ٹیلی کاسٹ کیا، خصوصی طور پر میاں محمد نوازشریف کی نتائج کے بعد کی وکٹری تقریر کو بار بار ٹی وی سکرین پر دکھایا۔ مجموعی طور پر ترک میڈیا نے پاکستان میں انتخابات کے انعقاد کو مثبت طور پر ایک پیش رفت قرار دیا ہے اور ان کے انعقاد،نتائج اور حکومت کی تشکیل کے مراحل کو خصوصی کوریج دی ہے۔ترک میڈیا مجموعی تاثر پاکستان کے انتخابات کے بارے میں اچھا رہا ہے۔انتخابات سے قبل توقع کی جارہی تھی کہ پاکستان میں وقت پر انتخابات الیکشن کمیشن کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔سیکیورٹی خدشات اور امن و امان کے مسئلے کا بھی تذکرہ کیا جارہا تھا،تاہم مجموعی طور پر پُرامن اور بہتر انتخابات کا انعقاد ترک میڈیا کے لئے بھی ایک خوش کن خبر تھی۔

ترکی میں میاں محمد نوازشریف کا پہلے سے بھی تعارف موجود ہے، میڈیا اور عوام میں ان کی مقبولیت مثبت طور پر اجاگر ہوئی ہے۔پاک ترک تعلقات کی مزید مضبوطی کے لئے بھی ان سے اچھی توقعات وابستہ کی جارہی ہیں.... انہیں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کا حکم دینے، موٹروے بنانے، گوادر کی بندرگاہ اور معاشی اصلاحات بہتر بنانے کے سلسلے میں ترکی میں یاد کیا جاتا ہے، انہیں ترک دوست حکمران کے طور پر سمجھا جاتا ہے، تاہم میڈیا میں ان اور ان کی حکومت کے سامنے درپیس چیلنجوں کا بھی ذکر خاص طور پر کیا گیا ہے، انہیں پاکستان میں موجود توانائی کے بحران ، دہشت گردی اور امن و امان کا مسئلہ ،بیروزگاری، مہنگائی، بگڑتی ہوئی معاشی و اقتصادی صورت حال، افغانستان اور بھارت اور امریکہ سے تعلقات نیز پاکستان کے اندرونی حالات بلوچستان اور کراچی اور خےبرپخونخوا کے صوبوں میں خراب صورت حال سے نمٹنے کا بھی ٹاسک درپیش ہے،تاہم ترک میڈیانے توقع ظاہر کی ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت ان مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت، اہلیت اور تجربہ رکھتی ہے۔ مجموعی طور پر ترک میڈیا، عوام اور حکومت ترکی نے پاکستان میں انتخابات کے نتائج کو جمہوری سفر کی طرف اہم قدم اور مثبت پیش رفت قرار دے کر خوشی کا اظہار کیا ہے۔اللہ کرے اگلے پانچ سال پاکستان میں امن، خوشحالی اور بہتری لائیں(آمین)     ٭

مزید :

کالم -