شجاع آباد میں میو فیسٹیول

شجاع آباد میں میو فیسٹیول
شجاع آباد میں میو فیسٹیول
کیپشن: abdul hakeem ghori

  

شجاع آباد میں میو فیسٹیول کا انعقاد ہوا، جس میں میراث کی ثقافت کلچر اور رسم و رواج کو اجاگر کیا گیا۔اس فیسٹیول میں اصلاحی ڈرامہ ، موسیقی و رقص اور گیت و سنگیت کا رنگارنگ پروگرام تھا،جس میں ہزاروں شائقین نے شرکت کی۔اس ثقافتی فیسٹیول سے ہمارے سیاست دان، شاعر، ادیب اور دانشور بھی حیران ہیں۔ شجاع آباد میں جس کا نباتاتی حسن ”ہمہ اوست“ کی خاموش صدا جیسا ہے۔خاص طور پر جب صحرا کی پیاسی زمین کو سیراب کرنے کے لئے بادل آسمان پر گرجنے لگتے ہیں اور کوندتی ہوئی بجلی لہراتے ہوئے درخت دکھاتی ہے اور پھر ایک بھیگی ہوئی سیاہ رات کی کوکھ سے جب اجلی صبح کا جنم ہوتا ہے تو پتوں پر پھسلتی ہوئی بارش کی بوندیں ارشد جیسے صوفی مزاج نوجوان کو بھی اس فارسی شعر کی یاد دلاتی ہیں، جس میں ایک ایرانی شاعر نے کہا تھا کہ :

”اے ساون کے بادل سمندر پر مت برسو

آﺅ اور میرے گھر کے آنگن میں انگور کی بیل کو ہرا کرو

بارش کی وہ بوند جو شراب کا قطرہ بن سکتی ہے

وہ موتی کیوں بنے؟“

اس شہر کا حسن یہاں کی ثقافت کلچر اور رسم و رواج ہے۔یہ بارش کا بھی محتاج نہیں۔یہاں کی چاندنی راتوں میں ہر سنسان سڑک اس طرح دکھائی دیتی ہے،جیسے کوئی حسینہ سنگھار کرتے ہوئے میز پر اپنا رِبن بھول گئی ہو!....اور صرف چاندنی راتیں ہی کیوں!! یہاں کا موسم بہار محبت میں کی جانے والی بے انتہا باتوں کی طرح پھولوں سے امڈ آتا ہے۔جبکہ مجالیاتی ذوق رکھنے والوں کا تو خیال ہے کہ اس شہر کا سب سے خوبصورت موسم پت جھڑ کا ہوتا ہے۔جب درختوں کے رنگین پتے سے مے خوار تتلیوں کی طرح ہواﺅں میں جھومتے نظر آتے ہیں۔اگر اس وقت شہر کے اس حسن کو کسی بے جان گڑیا کی آنکھ سے دیکھنے کے بجائے سچل سرمست کی نظر سے دیکھا جائے تو زبان پر ان کے کلام کے یہ الفاظ لہرانے لگیں کہ!

”حیران ہوا، حیران ہوا!!

اس حسن پر مَیں حیران ہوا“

اگر میو فیسٹیول جیسے ثقافتی پروگرام کا انعقاد کرنے والوں نے اس کے اختتام پر صدارتی خطاب کو آسان بنانے کے لئے نہیں، بلکہ حسن سے چھلکتے ہوئے پیالے جیسے شہر کو ایسی تفریح کے لئے موزوں سمجھا تو پھر ان کی خدمت میں دو باتیں پیش کرنا ضروری ہیں۔ایک تو میواتیوں کی طبیعت صوفیانہ ہے اور صوفی کا حسن خارجی نہیں، بلکہ داخلی ہوتا ہے، اگر ہندو یوگی خاموشی کی تلاش میں ہمالیہ کے دامن میں پناہ لیتے تھے تو یہ ان کا اپنا مزاج تھا، ورنہ ایک میواتی صوفی کے لئے تو صحرا بھی حسین ہو سکتا ہے اور تاریخ میں ایسے میواتی صوفیوں کی کوئی کمی نہیں، جنہوں نے صحراﺅں میں بیٹھ کر حسن تخلیق کیا۔ شاید اسی لئے کازانت زاکس نے کہا ہے کہ ”ویرانے میں یا تو مجنوں رہ سکتا ہے یا پیامبر“ اور ”میواتی“ تو وہ ہوتا ہے ،جس میں یہ دونوں سفات نزاکت کے ساتھ موجود ہوتی ہیں! اس لیے جو داخلی حسن اور حیرت کے پیمانے ہوتے ہیں انہیں باہر کی کیا پروا؟ ایک میواتی کی نظر میں شجاع آباد کسی سرسبز اور شاداب صحرا جیسا ہی ہے۔دوسری اور اہم بات کی ابتداءہم قرة العین طاہرہ کے اس جواب سے کرتے ہیں ،جس میں بادشاہ کے سارے سوالات کا ایک شعر میں جواب دیتے ہوئے اس نے کہا تھا کہ:

”تو من رسم راہ سکندری

اے من رسم راہ قلندری“

یعنی! تمہاری رسم و راہ سکندر جیسی، بادشاہوں جیسی اور راجاﺅں جیسی ہے، جبکہ میرا طریق فقیروں، درویشوں اور قلندروں جیسا ہے۔اس لئے تمہیں میری باتیں سمجھ میں ہی نہیں آئیں گی۔

میواتی بیان منصور ہے اور شجاع آباد شہر میکاولی!!

میواتیوں کی باتیں درست ہیں، مگر میکاولی ایک مزاج کا نام ہے، وہ مزاج کسی شعر، کسی رباعی یا کسی خاموش مسکراہٹ سے تبدیل نہیں ہو سکتا۔سازش اور محبت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔اس لئے سیاست اور میواتیوں کو خریدنا ممکن نہیں ہو سکتا۔اگر میواتیوں کی بات سیاست دان کی سمجھ میں آ گئی تووہ سیاست دان نہیں رہ سکتا۔سیاست کی آنکھ لالچی ہوتی ہے اور میواتی صوفی کو یہ دنیا”کچھ بھی نہیں“ نظر آتی ہے۔اس لئے اس کے لئے لالچ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔تاریخ میں آتا ہے کہ بہت بار ہندو حکمرانوں نے میواتیوں سے بات کرنے کی کوشش کی، مگر وہ ساری گفتگو بے معنی ہو کر رہ گئی، ان کے فکر کا صرف ایک ہی ایجنڈا تھا کہ ”لے کر رہیں گے پاکستان“۔

مَیں نے سنا ہے کہ ایک سلطنت کے قریب جنگل میں ایک میواتی صوفی رہتا تھا۔بادشاہ نے اس کی بہت تعریف سنی تھی۔اس لئے بادشاہ نے اس میواتی صوفی کی دعوت کی اور اس کو لانے کے لئے اپنا خوبصورت رتھ بھیجا۔جب صوفی میواتی بادشاہ کے محل میں داخل ہوا تو بادشاہ نے تخت سے اتر کر اس کا استقبال کیا اور صوفی کا نام لے کر کہا کہ آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔میواتی صوفی نے کہا کہ ”میں شکریہ ادا کرتا ہوں، مگر جو نام آپ نے لیا اس نام کا کوئی صوفی دنیا میں نہیں ہے۔ ”بادشاہ حیران ہوا“۔ بادشاہ نے کہا کہ اگر اس نام کا کوئی صوفی نہیں ہے تو پھر رتھ پر بیٹھ کر کون آیا ہے؟ صوفی نے رتھ کی طرف اشارہ کرکے کہاکہ یہ کیا ہے؟ بادشاہ نے جواب دیا کہ ”یہ رتھ ہے“۔ صوفی نے کہا کہ ”اپنے ملازموں سے کہو کہ گھوڑے الگ کریں“۔ بادشاہ نے حکم دیا اور گھوڑے الگ ہو گئے۔ صوفی نے گھوڑوں کی طرف اشارہ کرکے پوچھا کہ ”کیا یہ رتھ ہیں؟ بادشاہ نے جواب دیا کہ ”یہ تھ کیسے ہو سکتے ہیں؟ یہ تو گھوڑے ہیں“۔ پھر صوفی نے کہا کہ ”رتھ کے ڈنڈے الگ کرا دیں“.... ڈنڈے الگ ہو گئے۔صوفی نے پھر بادشاہ سے کہا کہ ”کیا یہ ڈنڈے رتھ ہیں؟.... بادشاہ نے کہا کہ نہیں ،یہ ڈنڈے ہیں۔ صوفی نے باقی بچے ہوئے تختے بھی ایک طرف رکھوا دیئے اور پوچھا :”کیا یہ تختے رتھ ہیں“؟ بادشاہ نے کہا: ” نہیں یہ تختے ہیں“.... تو صوفی نے آخر میں پوچھا :”اب رتھ کہاں ہے“؟ بادشاہ حیران رہ گیا، کیونکہ جو جو چیز الگ ہوتی گئی، بادشاہ نے اسے رتھ ماننے سے انکار کیا اور آخرمیں کچھ بچا بھی نہیں۔بادشاہ کو صوفی میواتی کی بات سمجھ میں آ گئی اور اس نے بادشاہت کو چھوڑ دیا اور اس کے ساتھ چل پڑا جب ایسے سادہ لوح میواتی صوفی کی بات بادشاہ کی سمجھ میں آتی ہے تو پھر اس کے لئے تخت و تاج بے معنی بن جاتے ہیں۔

میواتیوں کی مذکورہ کاوش جو پنجاب میں میواتیوں کے کلچر و ثقافت کو جدید دنیا کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ایک اچھی کوشش ہے۔اس سے نئی نسل کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ تمام انسانوں کی عزت و احترام برابر ہے۔یہاں سب مسلمان برابرہیں۔اگر چودھری ناصر محمود ناصر کی رہنمائی میں یہ گروپ مادری بولی کے ذریعے پورے پنجاب میں ڈراموں ثقافتی پروگراموں کے ذریعے آگاہی پھیلانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آگے چل کر تھیٹر کے اداکار، کہانی کار اور ہدایت کار میواتی کلچر و ثقافت کے اچھوتے آئیڈیاز پیش کریں گے ،جس میں سادگی، محبت، اخوت اور بھائی چارے کا درس ملتا ہے۔میواتی کلچر و ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے سب سے بلند صدا ان ادیبوں اور دانشوروں کی ہونی چاہیے، جن کو مخاطب کرتے ہوئے شیخ ایاز نے لکھا تھا کہ

”میرے دیدہ ورو

میرے دانشورو!

پاﺅں زخمی سہی ڈگمگاتے چلو

راہ میں سنگ آہن کے ٹکراﺅ سے

اپنے زنجیر کو جگمگاتے چلو!

میرے دیدہ ورو اپنی تحریر سے

اپنی تقدیر کو نقش کرتے چلو

تھام لو ایک دم

یہ عصائے قلم

ایک فرعون کیا

لاکھ فرعون ہوں

ڈوب ہی جائیں گے“

مگر اس ثقافتی پروگرام میں کسی علیحدگی پسند اور قومیت کا نعرہ لگانے والوں کو للکارا نہیں گیا۔علیحدہ صوبوں کی باتیں کرنے والے انسان دشمن کردار کی بھرپور مذمت نہیں کی گئی، بلکہ ایک وحدت کی پاکستانی نظریئے کی بات کی گئی کوشش یہ کی گئی کہ منصور کو مجبور کیا جائے کہ وہ میکاولی کی دست پربیعت کرے۔میکاولی ہر اچھی اور سچی چیز کو اقتدار کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر منصور تخت اقتدار پر نہیں بلکہ تختہ دار پر مسکراتا ہے۔

مزید :

کالم -