عام طور پر کمپنی کو پیسے دینے پڑتے ہیں لیکن اب یہ کمپنی اپنی گاڑی میں بیٹھنے کیلئے آپ کو پیسے دینا چاہتی ہے کیونکہ۔۔۔

عام طور پر کمپنی کو پیسے دینے پڑتے ہیں لیکن اب یہ کمپنی اپنی گاڑی میں بیٹھنے ...
عام طور پر کمپنی کو پیسے دینے پڑتے ہیں لیکن اب یہ کمپنی اپنی گاڑی میں بیٹھنے کیلئے آپ کو پیسے دینا چاہتی ہے کیونکہ۔۔۔

  

سان فرانسسکو (نیوز ڈیسک) آج کے دور میں کسی بھی قسم کی سواری کا ادائیگی کے بغیر استعمال ممکن نہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ممکن ہے کہ کوئی نیک دل شخص آپ کو لفٹ دے دے اور سفر مفت ہو جائے، مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی کمپنی آپ کو اپنی گاڑی میں بٹھائے اور پیسے مانگنے کی بجائے الٹا آپ کو ہی ادائیگی کر دے۔

ویب سائٹ یاہو ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق ایسا بالکل ممکن ہے، اگر آپ ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کی گاڑی میں بیٹھیں۔ گوگل ایسے افراد کی تلاش میں ہے کہ جو اس کی سیلف ڈرائیونگ کار میں روزانہ چھ سے آٹھ گھنٹے بیٹھنے کی نوکری پر تیار ہوں اور اس نوکری کے بدلے فی گھنٹہ 20 ڈالر (تقریباً دو ہزار پاکستانی روپے) کی ادائیگی پر بھی تیار ہے۔

مَردوں کو دیکھتے ہی خواتین کی پہلی نظر ان کے جسم کے کس حصہ پر پڑتی ہے؟ جدید تحقیق میں ایسا انکشاف کہ مردوں کے سب خیالات غلط ثابت ہوگئے

گوگل کی سیلف ڈرائیونگ کار جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہے اور یہ چلنے، رکنے، رفتار بڑھانے اور موڑ مڑنے جیسے سب کام خود ہی کرے گی، البتہ اس میں بیٹھے شخص کی ذمہ داری ہوگی کہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں وہ گاڑی کا کنٹرول سنبھال لے۔ اگر آپ ڈرائیونگ کا اچھا ریکارڈ رکھتے ہیں، بہترین کمیونیکیشن سکلز کے مالک ہیں، بی ایس یا بی اے کی ڈگری رکھتے ہیں اور 40 الفاظ فی منٹ کی رفتار سے ٹائپنگ کرسکتے ہیں تو آپ اس نوکری کے لئے درخواست دینے کے اہل ہیں۔

سیلف ڈرائیونگ کار کو پرہجوم سڑکوں پر چلانے کا تجربہ پہلے سے جاری ہے، البتہ اس کے اندر ٹیسٹ ڈرائیور کو بٹھانے کا فیصلہ حال ہی میں سامنے آیا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -