دنیا کے سب سے مہنگے،20 ارب ڈالر کے 2 ایٹم بم

دنیا کے سب سے مہنگے،20 ارب ڈالر کے 2 ایٹم بم
دنیا کے سب سے مہنگے،20 ارب ڈالر کے 2 ایٹم بم

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) ہنستے بستے شہروں کو لمحوں میں ملیا میٹ کر دینے والا ہتھیار ایٹم بم انسانی تاریخ کا مہلک ترین ہتھیار ہی نہیں بلکہ مہنگا ترین ہتھیار بھی ہے۔ ان ہتھیاروں پر کتنا سرمایہ صرف کیا جاتا ہے اس کا اندازہ جنگ عظیم دوئم میں جاپان پر گرائے جانے والے دو امریکی ایٹم بموں کی قیمت سے کیا جاسکتا ہے۔

یہ حیرت انگیز معلومات ایک خصوصی رپورٹ ”یو ایس نیوکلیئر ویپن کاسٹ سٹڈی پراجیکٹ“ میں سامنے آئیں۔ یہ رپورٹ اگست 1998ءمیں مکمل کی گئی اور اس کی بنیاد پر ایک کتاب بھی شائع ہوئی جس کا نام ”اٹامک آڈٹ“ تھا۔ ویب سائٹ بروکنگز کے مطابق اس رپورٹ میںا نکشاف کیا گیا کہ امریکا نے جنگ عظیم دوئم میں اپنے ایٹمی ہتھیاروں پر تقریباً 20 ارب ڈالر (تقریباً 20 کھرب پاکستانی روپے)صرف کئے۔ یہ تخمینہ دوسری جنگ عظیم میں کئے گئے اخراجات کی 1996ءمیں بننے والی قیمت کی بنیاد پر لگایا گیا۔ امریکا نے یہ دو ایٹم بم جاپانی شہروں ہیرو شیما اور ناگاساکی پر گرائے تھے، جس کے نتیجے میں دونوں شہر مکمل طور پر برباد ہوگئے تھے۔

دنیا کی تاریخ کا سب سے خطرناک ایٹمی ہتھیار تیار کرلیا گیا، چند سیکنڈ میں کسی بھی ملک کا مکمل صفایا کرسکتا ہے

رپورٹ کے مطابق 20 ارب ڈالر کے کل اخراجات میں 1940ءسے 1942ءکے درمیان نیشنل ڈیفنس ریسرچ کونسل پر کئے گئے اخراجات، اور آفس آف سائینٹفک ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پر کئے گئے اخراجات بھی شامل ہیں۔

اس خصوصی پراجیکٹ کو ”مین ہٹن پراجیکٹ“ کا نام دیا گیا تھا اور اس کے لئے 46 عددB-29 بمبار طیاروں میں خصوصی تبدیلیاں کی گئیں، 509thکمپوزٹ بمبار گروپ کے افسروں کو خصوصی تربیت دی گئی، اور تنیان آئی لینڈ میں موجود فوجی یونٹوں کی لاجسٹک سپورٹ کے لئے بھی بھاری اخراجات کئے گئے۔ اس جزیرے کو جاپان پر حملے کے لئے لانچنگ پوائنٹ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ان تمام سرگرمیوں کے اخراجات 20 ارب ڈالر کے اخراجات کے علاوہ تھے، البتہ انہیں ایٹمی حملے کے مجموعی اخراجات میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس