بڑی کمپنیوں کو ٹیکس کا بوجھ عوام پر منتقل کرنے سے روکا جائے،میاں زاہد حسین

بڑی کمپنیوں کو ٹیکس کا بوجھ عوام پر منتقل کرنے سے روکا جائے،میاں زاہد حسین

کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینیئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ آمدہ بجٹ میں ٹیکس کے نظام کو عام فہم بنایا جائے تاکہ ٹیکس چوری اور ریفنڈ میں گھپلوں کا سد باب کیا جا سکے ، ٹیکس گزاروں اور ٹیکس وصول کرنے والوں کے مابین اعتماد کا رشتہ قائم کیا جا سکے۔ 2006 میں ٹیکس گزاروں کی تعداد سولہ لاکھ تھی جو اب دس لاکھ رہ گئی ہے جو سسٹم پر عدم اعتماد کا نتیجہ ہے جس سے ریاست اقتصادی طور پر کمزور اور اپنے بنیادی فرائض کی انجام دہی میں مشکلات کا شکار ہو گئی ہے۔میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ دولت کی منصفانہ تقسیم اور سماجی بہبود تو کجا حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کے قابل بھی نہیں رہی ہے اور صورتحال بدلنے کیلیئے ٹیکس کے نظام کو بدلنا ہو گا۔

ان ڈائیریکٹ ٹیکس پر ضرورت سے زیادہ انحصار نے غربت بڑھا دی ہے جس سے سنگین سماجی مسائل نے جنم لیا ہے اسلیئے براہ راست ٹیکس کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو غربت کی دلدل سے نکالا جا سکے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ حکومت فلیٹ ریٹ کے نظام کو ترجیح دینے پر سنجیدگی سے غور کرے جس سے ٹیکس گزاروں کا اعتماد بحال اوربہت سے دیگرمسائل از خود حل ہو جائینگے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں 58 اقسام کے ودہولڈنگ ٹیکس نافذ ہیں جبکہ مختلف محاصل کی پانچ ہزارلائنز لاگو ہیں۔ کارخانے داروں کی اکثریت کوصوبائی محاصل کے علاوہ پچپن مختلف اقسام کے وفاقی ٹیکس ادا کرنے پڑتے ہیں جسکے لیئے انھیں بڑی تعداد میں اسٹاف رکھنا پڑتا ہے اور اسکے باوجود کافی وقت ضائع ہوتا ہے جس کا منفی نتیجہ پیداوار پر پڑتا ہے ۔ حکومت کی کل آمدنی میں 75 فیصدحصہ ان ڈائیریکٹ ٹیکسوں کا ہے جبکہ ڈائریکٹ ٹیکسوں میں اسی فیصد حصہ ودہولڈنگ ٹیکس کا ہے ۔ٹیکس کی شرح کم کرنے سے ٹیکس چرانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہو گی جبکہ کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ فلیٹ ریٹ کو ملکی سطح پر نافذ کرنے سے قبل کسی ایک علاقہ یا کسی ایک شعبہ میں تجرباتی طور پر نافذ کیا جائے تو خوشگوار نتائج برآمد ہونگے۔ بعض بڑی مقامی اور غیر ملکی کمپنیاں اپنے اثر ورسوخ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے حصے کے کارپوریٹ ٹیکس کا بوجھ خاموشی سے غیر منظم شعبے اورعوام پر منتقل کر رہی ہیں جس کا نوٹس لیا جائے۔ دنیا بھر میں امراء نے ٹیکس سسٹم کو ہائی جیک کر لیا ہے جسکی وجہ سے اس وقت صرف 80افراد کے پاس دنیا کی نصف آبادی سے زیادہ سرمایہ جمع ہو گیا ہے۔ پاکستان میں اس سلسلے کو روکا جائے۔

مزید : کامرس