وہ کیا زمانے تھے، جب لوگ خط لکھا کرتے تھے (2)

وہ کیا زمانے تھے، جب لوگ خط لکھا کرتے تھے (2)
 وہ کیا زمانے تھے، جب لوگ خط لکھا کرتے تھے (2)

  

’’کیا زمانے تھے، لوگ خط لکھا کرتے تھے! اس حوالے سے اپنے پہلے کالم میں قدرے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ آج وہ عہد ہے،جہاں بہت سے لوگ خطوط نویسی کی چاشنی سے بھی محروم ہیں، بلکہ سرے سے واقفیت ہی نہیں رکھتے۔ چند ماہ پہلے کی بات، معروف ادیب عطاء الحق قاسمی جن سے میری پرانی نیاز مندی ہے اور جو90ء میں بذریعہ ڈاک مجھے ایک انٹرویو دے چکے ہیں۔ جب مَیں نے یادوں کے چراغ جلائے کیا ’’قاسمی صاحب! بہت دن ہو گئے۔ آپ نے مجھے کوئی خط نہیں لکھا۔ ازراہ مہربانی ایک خط تو لکھئے!‘‘ تو بجائے خط لکھنے کے وہ ہنس پڑے اور کافی دیر تک ہنستے چلے گئے اور پھر کہنے لگے ’’فیاض! اب خط نہیں لکھا جا سکتا۔ یار یہ آج کیا بات تم نے کہہ دی!‘‘ یہ کہا اور پھر ہنسنے لگے! اس سے مجھے یہ علم ہوا۔ عامتہ الناس کیا۔ اب تو اچھے خاصے بسیار نویس ادیب بھی خط نہیں لکھتے، بلکہ الٹا خط لکھنے کی بات پر ہنسنے لگتے ہیں۔!

تو معلوم ہوا۔ یہاں خط کے حوالے سے قحط الرجال کی سی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔ ظاہر ہے اس سے طبیعت کبیدہ خاطر ہو گئی۔ مَیں پرانے دور کا شخص ہوں۔ ریلوے سٹیشن، ریلوے لائن اور پوسٹ آفس کی عمارات دیکھ کر خوش ہونے والا۔ کیا عجیب بات ہے، پرانے لوگوں کا رومانس بھی پرانے طرز کی عمارتوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ بہرکیف خط نویسی کے آسمان پر گنجلک اور گھور بادل دیکھ کر دل بہت میلا ہوا، لیکن پھر گھن گھور گھٹا چھا گئی اور رم جھم برسات ہونے لگی۔ یا یہ کہا جائے صورت قدرے بہتر ہوتی دکھائی دی۔ خوشخبری یہ ملی کہ پاکستان تو ترقی یافتہ ممالک میں سے ہے۔ پرانی اور دقیانوسی خطوط نویسی سے نکل آیا ہے، مگر مغرب پر تاریکی چھائی ہوئی ہے اور خط لکھنے کا رجحان ترقی کرنے لگا ہے۔ خصوصاً بچوں اور نوجوانوں میں یہ حیرت انگیز اطلاع خصوصاً برطانیہ سے موصول ہوئی۔ کیا کہنے!خبر یہ ہے۔ اگرچہ برطانیہ میں ’’ ای میل‘‘ مقبول ذریعہ ہے، خطوط نویسی کا اور دُنیا بھر کی طرح ہاتھ سے خط لکھنے کا سلسلہ مدھم پڑ رہا ہے، مگر صورت حال بالکل ہی مایوس کن نہیں ہے۔ برطانوی نیشنل لٹریسی ٹرسٹ نے ایک سروے کا اہتمام کیا، جس میں یہ معلوم ہوا۔ کیا معلوم ہوا۔ یہ کہ!

سکولوں میں ہر آٹھ سے گیارہ سال کے تین میں سے ایک بچے میں ہاتھ سے خط لکھنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔14سے16سال کے نوجوانوں میں یہ رجحان قدرے کم ہے۔ اس کی وجہ ٹرسٹ کے ڈائریکٹر نے میٹرک کے دباؤ کو قرار دیا، لیکن اس بات کو خوش آئند قرار دیا کہ کم عمر بچے بہر حال خط لکھنے کے لئے وقت نکالتے ہیں! مزید برآں سروے سے معلوم ہوا، خط لکھنے کا عمل نامہ نگار اور وصول کنندہ دونوں کو ذاتی طور پر خوشی سے سرشار کرتا ہے اور یہ کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں میں خط نویسی کا رجحان زیادہ محسوس کیا گیا۔’’ ہر تین میں سے ایک لڑکی، مہینے میں کم از کم ایک تحریری خط ضرور لکھتی ہے!‘‘ واہ اور کیا چاہئے!

ذاتی طور پر راقم الحروف کو برطانیہ میں ہاتھ سے تحریر کردہ خط کے رجحان سے طمانیت کا احساس ہوا۔ اس سروے کی خوبصورت بات کا تعلق خود میری ذات سے بھی بنتا ہے۔ ابھی دس گیارہ برس کی عمر تھی کہ ایک دوست کو خط لکھا کرتا تھا۔ اس کے والد اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ فرمایا کہ ’’یہ بچہ بڑے ہو کر ادیب اور صحافی یا وکیل بنے گا!‘‘

سروے میں کہا گیا ’’جو بچے مہینے میں ایک بار خط لکھتے ہیں وہ اپنی عمر سے دو گنے عمر کے بچوں سے زیادہ اچھے مصنف بنتے ہیں، ان بچوں کے مقابلے میں جو تحریری خط نہیں لکھتے!‘‘ علاوہ اس کے خطوط نویسی کرنے والے نوجوانوں نے اِس بات کا بھی اظہار کیا کہ اگر وہ اچھے مصنف بن گئے، تو بڑے ہو کر انہیں خط نہ لکھنے والے بچوں کے مقابلے میں بہتر ملازمت مل سکتی ہے! سروے میں یہ بھی اندازہ ہو اکہ ’’جو نوجوان ہر روز خط لکھتے ہیں ان کی تحریری صلاحیتیں انہیں، اپنی کلاس میں دوسروں سے بہتر اور آگے جا کر زندگی میں ممتاز کرتی ہیں!‘‘

یہاں مجھے70ء کی دہائی کا دوست جو کرسچن تھا۔ یاد آیا ’’صادق جوزف‘‘ بلاشبہ اس حقیقت کے علمی اظہار کے طور پر نظر آیا۔ وہ نہایت غریب باپ کا بیٹا تھا، مگر پڑھائی میں اچھا تھا۔سنِ صغیر سے خط لکھنے کا شوق رکھتا تھا۔ بڑا ہوا تو ایک کالج قائم کیا اور پرنسپل بنا۔ مجھے جوزف اور پھر ڈاکیہ چاچا ابراہیم آج تک فراموش نہیں ہوئے۔ زندگی میں آنے والے یہ عجیب و غریب کردار تھے۔ صادق جوزف طالب علم تو تھا ہی، مگر ساتھ ہی وہ فلمی ہفت روزہ ’’نگار، نور جہان اور کردار‘‘ وغیرہ بھی پڑھتا تھا اور گاہے، دیکھی جانے والی فلموں پر تبصرے بھی لکھا کرتا تھا۔ کراچی کورنگی کے اے ایم شفیق اور سکھر کے محمد بخش تاج سے قلمی دوستی بھی تھی۔ جونہی وہ سکول سے نکلنا،چچا ابراہیم کی تلاش میں لگ جاتا اور پھر جب اسے چچا دکھائی دیتا۔ وہ دور ہی سے ہاتھ اُٹھا کر شور مچا دیتا ’’ارے او چاچا ابراہیم۔ اماں یار ہمارا بھی کوئی خط پَتر لاؤ ہو۔ یا سب سَندیسے دشمنوں میں ہی بانٹتے رہو گے!‘‘ جوزف دراصل خود کو فلمی ہیرو گمان کرتا تھا۔ اُس کی اُردو کی لکھائی بھی بہت شاندار ہوا کرتی تھی۔ لفظ کیا موتی پرویا کرتا تھا۔ جس دن چاچا ابراہیم اسے کسی خط یا پوسٹ کارڈ کی خوشخبری دیتا۔ جوزف قلقاریاں بھرنے لگتا اور دور ہی سے یا ھو، وہ مارا کے نعرے مارتا اور پھر خط پاتے ہی زندہ باد چاچا ابراہیم کہتا اور باقاعدہ جپھی ڈال دیتا۔۔۔۔ اور کہتا۔ ’’چاچا ابراہیم! مسلمانوں میں کوئی اور جنت میں جائے یا نہ جائے۔ تم ضرور جاؤ گے اور پھر وہ دانت بھینچ کر مجھ پر حملہ آور ہو جاتا، کیونکہ مَیں اس کی ہیئت کذائی پر مسکرا رہا ہوتا تھا۔ بہرکیف جوزف کے ساتھ نے مجھے بھی خط و کتابت کا عادی بنا دیا اور پھر وہ دن آیا جب یاروں دوستوں سے ہوتے ہوئے بات بڑے بڑے ادیبوں، صحافیوں، علمائے کرام اور سیاست دانوں تک جا پہنچی۔ مَیں دورِ لڑکپن سے دورِ جوانی میں آ رہا۔ یہاں پہنچ کر مجھے احساس ہوا۔ نامور ادیب محمد خالد اختر مجھے اپنی گور سے کہہ رہے ہیں، میرا خط فراموش نہ کرنا، مختصر، مگر اچھا ہے۔اور میرا خیال ہے، مجھے محمد خالد اختر کا خط دینا چاہئے! اُن کا ناول، ’’چاکیواڑہ میں وصال‘‘ فیض احمد فیض کا پسندیدہ ناول ہے۔(جاری ہے)

مزید :

کالم -