پی کے8میں تحریک انصاف کی شکست

پی کے8میں تحریک انصاف کی شکست
 پی کے8میں تحریک انصاف کی شکست

  

صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پی کے 8کے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ(ن)کے امیدوار ارباب وسیم نے تحریک انصاف کے امیدوار کو نہ صرف شکست دی، بلکہ تحریک انصاف کے امیدوار کی پوزیشن چوتھے نمبر پر چلی گئی ۔اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ صوبے کے عوام تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی دھرنا اور الزامات کی سیاست سے تنگ آچکے ہیں اور حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں ۔خیبرپختونخوا اور خصوصاً پشتون بیلٹ میں تحریک انصاف نے کلین سویپ کیا تھا اور پختونوں نے عمران خا ن کو صوبے سے کرپشن کے خاتمے،صحت ،تعلیم اور پولیس کے نظام کو ٹھیک کرنے کے لئے مینڈیٹ دیا تھا لیکن تین سال گزرنے کے بعد صوبے کے دارالحکومت پشاور میں کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہیں کیاگیا ۔بنوں کے جلسے میں عمران خان نے لوگوں سے سوال کیا کہ آپ تبدیلی محسوس کرتے ہیں ،صحت تعلیم اور پولیس کا نظام ٹھیک ہوا ہے؟تو جلسے میں شریک لوگوں نے نہ میں جواب دیا، جس سے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے نیا خیبرپختونخوا بنانے کے دعوے کی حقیقت کھل گئی ۔پنجاب کے خادم اعلیٰ محمد شہباز شریف گیارہ ماہ میں لاہور میں میٹرو کے منصوبے کو پایہء تکمیل تک پہنچاتے ہیں ۔آشیانہ ہاؤسنگ سکیم،لیپ ٹاپ سکیم ،خود روزگار سکیم اور اخوت سکیم کے تحت بلا سود قرضہ جات جیسے انقلابی منصوبے شروع کر سکتے ہیں اور گزشتہ تین سال میں لاہور کا نقشہ بدل دیا ہے ۔تحریک انصاف کی صوبائی حکومت عوام کو پشاور میں میٹرو بس کا تحفہ کیوں نہیں دے سکتی ؟

خادم پنجاب محمد شہباز شریف کے انقلابی منصوبوں ،ترقی اور خوشحالی کے ویژن سے خیبرپختونخوا کے عوام اتنے متاثر ہو چکے ہیں کہ صوبے کے مختلف اضلاع سے یہ صدائیں بلند ہو رہی ہیں کہ ہمیں بھی ایک خادم پنجاب محمدشہباز شریف چاہیے ۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے سرکاری مشینری کا استعمال کیا اور عمران خان نے جلسہ بھی کیا، لیکن پھر بھی پشاور کے عوام نے پی ٹی آئی کو مسترد کر دیا اور مسلم لیگ(ن)کے امیدوار کو واضح برتری دلوائی ۔مسلم لیگ(ن)کی ٹیم نے، جس میں صاحبزادہ پیر صابر شاہ، وزیراعظم کے مشیر امیر مقام ،ڈاکٹر عبد اللہ ایم این اے اور رحمت سلام خٹک شامل تھے، عوامی رابطہ مہم چلائی اور وزیراعظم محمد نواز شریف کی معاشی پالیسیوں کے ثمرات سے لوگوں کو آگاہ کیا ۔ایک طرف سرکاری مشینری کا استعمال، دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے قائدین کی یکجہتی اور اتفاق کے مظاہرے سے ذاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بھر پور طریقے سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی مہم چلائی اور کامیاب عوامی رابطہ مہم کے نتیجے میں الیکشن میں کامیابی حاصل کی ۔عمران خان نے اس حلقے میں اپنے امیدوار کی جیت کے لئے جلسہ بھی کیا تھا اور 9مئی کو ہونے والے جلسے کے بعد انہیں الیکشن کمیشن نے نوٹس بھی جاری کیا تھا، جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی نے تحریک انصاف کے مقابلے میں اپنے امیدواروں کو دستبردار کرایا ، لیکن جو نتیجہ آیا ہے اس سے یہ لگتا ہے کہ عام انتخابات میں بھی تحریک انصاف کو جو ووٹ ملے تھے، اس سے کم ووٹ ملے ہیں، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تحریک انصاف کی پالیسیاں عوام نے مسترد کر دی ہیں اور اس انتخاب میں شکست کے بعد انہیں بہت بڑا دھچکا لگا ہے ۔ان انتخابا ت کے لئے صوبائی حکومت نے ہر قسم کے وسائل استعمال کرنے کا تہیہ کر رکھا تھا اور وہ چاہتی تھی کہ وہ یہ انتخاب جیت جائے ،تاہم مسلم لیگ(ن)کی غیر متوقع جیت سے پی ٹی آئی پر مسلم لیگ(ن)کا دباؤ بڑھ گیا ہے ۔صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 8پر پی ٹی آئی کے کلین سویپ کا خواب پورا نہ ہو سکا ۔

2013ء کے انتخابات میں پشاور کے ساتوں صوبائی حلقوں پر پی ٹی آئی نے کامیابی حاصل کی تھی ،تاہم ارباب اکبر حیات کی وفات کے بعد پی کے 8کے حلقے پر 12مئی کو دوبارہ ضمنی انتخابات ہوئے اور پی ٹی آئی اس الیکشن میں اس امید کے ساتھ اتری کہ وہ اس حلقے میں بھی کامیابی حاصل کر کے پشاور میں کلین سویپ کر لے گی، لیکن پی ٹی آئی کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا اور اسے اس حلقے میں ایک بار پھرشکست کا سامنا کرناپڑا۔ وزیراعظم نواز شریف نے پشاورمیں ضمنی الیکشن میں کامیاب ارباب وسیم حیات کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ پشاورکے باشعورعوام نے منفی سیاست کومسترد کردیا ہے ۔مسلم لیگ (ن) کے امیدوارکی کامیابی عوام دوست پالیسیوں پرکھلے اعتماد کا اظہارہے، جبکہ عوام نے ترقی کے ایجنڈے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخواکوترقی یافتہ اورپُرامن صوبہ بنا کردم لیں گے۔ امید ہے ارباب وسیم عوام کی ترقی وخوشحالی کے لئے کام کریں گے۔نیاخیبرپختونخوا بنانے کا کھوکھلا نعرہ لگانے والوں کوعوام نے رد کردیاہے ۔دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے بھی پہلی بار خیبرپختونخوا کے کسی ضمنی یا عام انتخابات کے کسی حلقے کے لئے دلچسپی کا اظہار کیا ہے ، انہوں نے مسلم لیگ(ن)کے کامیاب امیدوار کو مبارکباد پیش کی اور تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پشاور کے ضمنی انتخابات میں منفی سیاست کرنے والوں کو شکست کا سامنا کرناپڑا ہے ۔مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی کامیابی عوام کا وزیراعظم کی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار ہے ۔ضمنی الیکشن میں عوام نے خدمت کی سیاست کو کامیاب کرایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ عوام احتجاج کی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں ۔شہباز شریف نے کہا کہ مخالفین کو بھی منفی سیاست ترک کر کے عوام کی خدمت پر توجہ دینی چاہیے ۔

خیبر پختونخوا میں ضمنی انتخاب میں نواز لیگ کی کامیابی پر مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مبارکباد کا پیغام دیا ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کی نشست پی کے آٹھ پشاور کے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی کامیابی کے حوالے سے اپنے پیغام میں مریم نواز نے لکھا ہے کہ مخالفین کو ان کے ہوم گراؤنڈ پر ہرانے سے بہتر کچھ نہیں ہو سکتا ۔ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ مسلم لیگ (ن) فیملی کو مبارک ، کوئی اور نہیں بس شیر۔خیبرپختونخواا کے صوبائی صدر پیر صابر شاہ نے کہا کہ عمران خان نے کئی بار کہا ہے کہ آئندہ الیکشن میں خیبرپختونخوا میں الیکشن مہم چلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔پشاور الیکشن میں عمران خان کے جلسے کے باوجود نتائج سب کے سامنے ہیں ۔پشاور میں ضمنی الیکشن میں عوام نے نواز شریف کی کارکردگی اور پالیسیوں پر اعتماد کر کے نیا پاکستان بنانے والوں کی مقبولیت کا پردہ چاک کر دیا ہے۔عمران خان کو الزامات کے سواکچھ نہیں آتا ۔خیبرپختونخوا کے عوام کی حالت زار عمران خان کو نظر نہیں آتی ۔انہوں نے کہا کہ بنوں جلسے میں عمران خان کو جواب مل گیا کہ خیبرپختونخوا میں پولیس کا نظام درست نہیں ۔کرپشن اور بھتہ خوری عروج پر ہے اور عوام کوئی تبدیلی محسوس نہیں کر رہے ہیں ۔خیبرپختونخوا میں سکولوں کی حالت ،محکمہ صحت کے ملازمین کی حالت صاف نظر نہیں آتی ۔ملازمین اپنے حقوق کے لئے آوازیں بلند کر رہے ہیں ۔وزیراعظم نواز شریف نے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ضرب عضب شروع کی ۔خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر سے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا ہے ،جبکہ توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے اقدامات کر رہی ہے اور انشاء اللہ 2018ء تک ملک سے لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا ۔بلوچستان یں امن قائم کر کے پاکستان کا جھنڈا بلند کیا اور اقتصادی راہداری منصوبوں سے بلوچستان سمیت ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔

مزید :

کالم -