خود مختاری اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات پر تشویش

خود مختاری اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات پر تشویش
 خود مختاری اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات پر تشویش

  

پینتالیسویں پاکستان نیوی سٹاف کورس کے کانووکیشن کی سٹاف تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف دی نیول ایڈمرل محمد ذکاء اللہ نے کہا کہ ہمارا ملک جغرافیائی طور پر بے پناہ عالمی مفادات کے حامل خطے میں واقع ہے۔ اس بات کا ثبوت خطے میں غیر علاقائی قوتوں کی موجودگی ہے جو معاشی اور سیکیورٹی مفادات کے حصول کی متمنی ہیں۔ وسیع وعریض ایشیا میں موجود ان قوتوں اور دیگر شراکت داروں کی توجہ سمندر کی جانب مبذول ہو رہی ہے اور بحری فورسز کو اسٹرٹیجک اور روایتی انداز سے ترقی دینے کے لئے کثیر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ نیول چیف نے کہا کہ ہمارے پڑوس میں ایک حاکمانہ اور جابرانہ سوچ مستحکم ہورہی ہے، ہم اپنی خود مختاری اور قومی سیکیورٹی کو لاحق خطرات سے پہلو تہی نہیں کرسکتے۔ محدود بجٹ کے باوجود حکومت خاطر خواہ وسائل فراہم کر رہی ہے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ناقابل تسخیر دفاع کو یقینی بنانے کے سلسلے میں مطلوبہ مقاصد کے حصول کے لئے ان وسائل سے بھر پور فائدہ اٹھائیں۔ گریجویٹنگ آفیسرز کو نصیحت کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قائد کی حیثیت سے آفیسر کو مضبوط قوت فیصلہ کا حامل ہونا چاہئے، کیونکہ ہم نہ تو فیصلہ سازی میں پس وپیش اور نہ ہی پرکھنے کی صلاحیت میں کمی کے متحمل ہو سکتے ہیں، چنانچہ اس کورس کے دوران سیکھی جانے والی مہارتوں کا بہترین استعمال کرتے ہوئے فیصلہ سازی کے عمل میں مثبت کردار ادا کریں۔

2014ء میں بھارت میں جارحیت پسند سیاسی جماعت، بی جے پی برسراقتدار آئی، تو اس نے نئی عسکری حکمت عملی کی بنیاد رکھی۔ یہ ’’جارحانہ دفاع‘‘ کہلاتی ہے جس کا دوسرا نام ’’مودی دوال ڈاکٹرائن‘‘ بھی ہے۔بھارتی حکمران اس حکمت عملی کی مدد سے مملکتِ پاکستان کے خلاف خفیہ و عیاں حملے کر کے اسے زیادہ سے زیادہ کمزور کرنا چاہتے ہیں۔دوسری جانب وہ اپنی افواج کو نہایت طاقت ور بنا رہے ہیں۔ آج بھارت عالمی مارکیٹوں سے اسلحہ خریدنے والا دنیا کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے،اسی باعث اس کا دفاعی بجٹ 40کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ پاکستان کا 7 کھرب 81 ارب روپے کا بجٹ اس کے سامنے معمولی نظر آتا ہے۔ بھارت کے حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ وہ چین کی زبردست عسکری طاقت کا مقابلہ کرنے کے لئے جنگی تیاریاں کر رہے ہیں، تاہم حقائق یہ اشارہ کرتے ہیں کہ ان تیاریوں کا نشانہ پاکستان ہے، چین نہیں، نہ بھارت میں چین سے مقابلے کی صلاحیت ہے۔

امریکہ بھارت کو علاقائی فوجی طاقت بننے کے لئے پانچ جنگی بحری بیڑوں کی تیاری میں مکمل تعاون فراہم کر رہا ہے۔ سابق بھارتی وائس ایڈمرل وجے سخوجا کا کہنا ہے کہ بھارتی نیوی بحری بیڑے سے بھاری جنگی اور مال بردار طیارے اڑانا چاہتی ہے۔امریکی صدر باراک اوباما نے دورۂ بھارت کے دوران مودی حکومت کو یقین دہانی کروائی تھی کہ پانچ جنگی بحری بیڑوں کی تیاری میں امریکہ بھارت کو جدید الیکٹرانک نظام فراہم کرے گا، جس پر مودی حکومت نے چینی افواج کا مقابلہ کرنے کے لئے دوسرا بحری بیڑہ بنانے کا کام تیز کردیا ہے۔بحری بیڑہ 2018ء تک بھارتی بحریہ میں شامل ہو جائے گا۔ بھارتی نیشنل میری ٹائم تھنک کے ڈائریکٹر وجے سخوجا نے عالمی میڈیا کو بتایا کہ جنگی بحری بیڑے میں بڑے اور چھوٹے بحری بیڑے شامل ہوں گے۔ سابق وائس ایڈمرل ارون کمار سنگھ نے بتایا کہ بھارت امریکہ سے جدید ہتھیار بھی خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

آج کے دور میں جہاں بری اور فضائی افواج ملکی سرحدوں کے دفاع کا اہم فریضہ ادا کرتی ہیں، وہاں بحریہ کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اپنی سمندری حدود اور ساحلی پٹی کے دفاع کی بنیادی ذمہ داری اسے انجام دینا ہوتی ہے۔ بھارت اپنی بری اور فضائی افواج کو جدید خطوط پر منظم اور استوار کرنے کے لئے جدید اسلحے کے ڈھیر لگا رہا ہے اور اس نے اپنی بحریہ کو بھی جدید ترین اسلحہ سے لیس کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ بھارتی عزائم ڈھکے چھپے نہیں، وہ اپنی عسکری قوت اور اسلحہ کے بل بوتے پر جاپان کے ساحلوں تک سمندروں پر حکمرانی کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ اس تناظر میں نیول چیف کا بیان اہم اور بروقت انتباہ ہے۔ ملک کی سلامتی کے تحفظ کے لئے تینوں مسلح افواج کو ہمہ وقت الرٹ رہنا ہوگا۔ نیول چیف نے پاکستان نیوی، پاک آرمی، پاکستان ایئر فورس کے 50 اور دوست ممالک اردن، انڈونیشیا ، بنگلہ دیش، ترکی، جنوبی افریقہ ، چین، سری لنکا، سعودی عرب، عمان، ملائیشیا اور نائجیریا کے 18 آفیسرز کو وارسٹڈیز(میری ٹائم) میں ماسٹرز کی ڈگریاں تفویض کیں۔

مزید :

کالم -