سفیدوں سے اترنے والی روئی نے لوگوں کی ناک میں دم کر دیا

سفیدوں سے اترنے والی روئی نے لوگوں کی ناک میں دم کر دیا

سری نگر(کے پی آئی)بہار کے خوشگوار موسم کے ساتھ ہی روسی ساخت کے سفیدوں سے اترنے والی روئی نے لوگوں کی ناک میں دم کرکے رکھا ہے اور روئی کے گالوں(pollen) سے لوگ سانس اور الرجی کا شکار ہورہے ہیں۔کشمیر میں تقریبا 16.4ملین(ایک کروڑ 64لاکھ ) سفیدوں کے مختلف اقسام ہیں جن میں 75فی صد مادہ سفیدے ہیں۔ روئی کے گالوں سے نظام تنفس کی بیماری میں اضافہ ہورہا ہے اورلوگوں کوالرجی اور سانس کی دیگر بیماریوں سے احتیاطی تدابیر سے برتنے کا مشورہ دے رہے ہیں وہیں ماہر ین ماحولیات کا ماننا ہے کہ سفیدوں کو کاٹنا ایک مشکل کام ہے اور اس کیلئے مرحلہ وار طریقے پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔آج کے اس خوشگوار موسم میں بھی لوگ منہ اور ناک ڈھانپ کر چلنے پرمجبور ہیں کیونکہ سفیدوں سے گرنے والی روئی نظام تنفس کی بیماریوں کی بڑی وجہ بن رہی ہے ۔عدالتی احکامات کے بعد اگر چہ حکومتی سطح پر کئی بار روسی نوع کے سفیدوں کو کاٹنے اور نئے روسی سفیدہ لگانے پر پابندی لگانے کے دعوے کئے گئے تاہم زمینی صورتحال سے لگ رہا ہے کہسوکھے برف سے لوگوں کونجات دلانے میں مزید کارگر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔

ان دنوں شہر سرینگر کے ساتھ ساتھ دیہات اور قصبہ جات میں روئی کے گالے فضامیں تیرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور ہر ایک گھر ،سڑک،چوراہے اور میدان سفیدوں سے اترنے والی روئی سے سفید ہی سفید نظر آرہا ہے ۔فضا میں روئی کے تیرتے گالوں سے وادی کے شمال و جنوب میں سینکڑوں لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں اور ہر دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہورہا ہے ۔بچے اور خاص کر بوڑھے لوگ جہاں روئی کے انفکشن سے بیمار ہوجاتے ہیں وہیں راہ چلتے لوگوں کو نہ صرف اپنے منہ دھکنے پڑرہے ہیں بلکہ روئی آنکھوں میں چلے جانے کا ڈر بھی رہتا ہے اور اس صورتحال کی وجہ سے لوگوں میں زبردست تشویش کی لہر پیدا ہو گئی ہے۔ماہرین طب نے کہا کہ اگرچہ اس روئی سے کوئی زیادہ بڑی بیماری نہیں پھیلتی تاہم انفکیشن ضرور ہوتا ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سفیدوں سے گر رہی روئی نظام تنفس کے بالائی حصوں کو متاثر کرتی ہے اور بچوں میں انفکشن ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے اور اسے بچنے کیلئے ماسک سے منہ کو ڈھانپ لینا چاہئے ۔ معروف طبی صلاح کار ڈاکٹر نذیر مشتاق نے بتایا اس موسم میں سفید ے کے درختوں سے جو روئی کے گالے برستے رہتے ہیں ،و ہ بعض افراد میں شدید حساسیت پیدا کرسکتے ہیں اسلئے لوگوں کوباہر جاتے وقت ماسک کا استعمال کرنا چاہئے یا کم از کم رومال سے منھ اور ناک کو ڈھانپ لیں ۔انہوں نے کہا جن لوگوں کو ان روئی گالوں سے آنکھوں میں جلن پیدا ہو تی ہو وہ چشمہ لگاکر چلنے کو ترجیح دیں۔ڈاکٹر نذیر نے بتایا سفیدہ سے برستے رہتے یہ روئی کے گالے بعض اوقات سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں داخل ہوسکتے ہیں ،جس سے گلے اور پھیپھڑوں میں انفیکشن ہوسکتا ہے۔ شیر کشمیر زرعی یونیورسٹی کے ڈین فیکلٹی آف فارسٹری پرو فیسر خواجہ نوید قیصر نے بتایا کشمیر میں تقریبا 16.4ملین(ایک کروڑ 64لاکھ ) سفیدوں کے مختلف اقسام ہیں جن میں 75فی صد مادہ سفیدے ہیں ۔انہوں نے کہا صرف روسی سفیدے روئی پیدا نہیں کرتے ہیں بلکہ سفیدوں کے دیگر اقسام سے بھی روئی پیدا ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا اتنی تعداد میں درختوں کو کا ٹنا نہ صرف ایک مشکل کام ہوگا بلکہ اس طرح کے اقدام سے ماحول کاتوازن بگڑنے کا بھی احتمال ہے ۔انہوں نے کہا عدلیہ نے اسے اپنے نظرے سے لیا ہے اور ہم اسے اپنے نظرئے سے دیکھ رہے ہیں ۔انہوں نے بتایا سفیدوں سے اترنے والی روئی سے چھٹکارہ پانے کیلئے فروری اور مارچ مہینوں میں مادہ سفیدوں کی شاخ تراشی کرنے سے روئی پر80فی صد قابو پایا جاسکتا ہے۔پروفیسر قیصر نے کہا مارچ میں درختوں کے شگوفے نکل آتے ہیں اور سفیدوں کے شگوفے اپریل میں نکل آتے ہیں اور مادہ سفیدوں کے شگوفے سفید رنگ کے ہوتے ہیں جبکہ نر سفیدے کے شگوفے لال ہوتے ہیں اور اس طرح مادہ سفیدوں کی پہچان کی جاسکتی ہے اور شاخ تراشی کی جاسکتی ہے ۔انہوں نے کہا شاخ تراشی سے روئی سے بھی نجات مل سکتی ہے اورسفیدے کی لکڑی بھی جلد تیار ہوسکتی ہے ۔انہوں نے مزید بتایاسفیدوں کی روئی ایک اچھی کوالٹی کی روئی ہے اور اس کو استعمال بھی کیا جاسکتا ہے تاہم یہ روئی جمع کرنا بہت مشکل ہے ۔

مزید : عالمی منظر