’’ماہ میر‘‘ میر تقی میر پر ایک جراتمندانہ فلم

’’ماہ میر‘‘ میر تقی میر پر ایک جراتمندانہ فلم
 ’’ماہ میر‘‘ میر تقی میر پر ایک جراتمندانہ فلم

  

نازکی اس کے لب کی کیا کہئے

پنکھڑی اِک گلاب کی سی ہے

کہتے ہیں کہ میر نے جس ’’ماہ‘‘ کو سامنے بٹھا کر یہ شعر کہا تھا اس کا نام نورالسعادہ عرف نور خانم تھا اور وہی میر کی تمام تر رومانوی شاعری کی روح رواں تھی۔ یہودی حسب نسب کی حامل اس ایرانی دوشیزہ کے آباؤ اجداد کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، لیکن زمینی و آسمانی مصائب نے انہیں ایسے حالات سے دوچار کیا کہ نورخانم کی والدہ طیبہ خانم کو بچپن ہی میں ایک طوائف کے پاس بیچ دیا گیا۔ چنانچہ ان حالات نے ماں بیٹی دونوں ہی کو گائیکہ بنا دیا۔ نور خانم اپنی والدہ کے ہمراہ دہلی آئی تھی، جہاں اسے نواب قمر الدین بہادر اعتماد الدولہ نصرت جنگ نے جو شہنشاہ ہندوستان محمد شاہ بہادر غازی (وفات 1753ء ) کے دربار میں وزیر الممالک تھے، اپنے صاحبزادے میر انتظام الدین کی شادی خانہ آبادی کے موقع پر گاہے بگاہے منعقد ہونے والی موسیقی کی محفلوں میں شرکت کے لئے مدعو کیا تھا۔ نورخانم نے جب دہلی میں فارسی کلام گایا تو ہر طرف دھوم مچ گئی۔ لکھنے والے نے لکھا کہ اس کی آواز میں اپنی والدہ کی جھلک تھی، لیکن نو عمری کے باعث چاندی کی گھنٹیوں جیسی صفائی تھی، گویا سنگِ مر مر کا مجسمہ جس کی ہر لکیر انتہائی صفائی اور نزاکت سے تراشی گئی ہو۔ اس کی ہندی رواں تھی لیکن اس کے لہجے پر ایرانیت غالب تھی۔ میر کے راز داں کشن چند اخلاص جو بطورسفیر انہیں لینے ایران گئے تھے، بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ان سے زیادہ خوبصورت عورتیں نہیں دیکھیں۔ یہ محض اتفاق ہے کہ میرتقی میر پر بننے والی فلم ’’ماہ میر‘‘ دیکھنے سے قبل میں نے میر کے عشق کی داستان جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے تفصیل سے پڑھ لی تھی۔ یہ داستان ہندوستان کے معروف ادیب شمس الرحمن فاروقی نے ’’صحبتوں میں آخر۔۔۔‘‘ کے عنوان سے ایک افسانے کی شکل میں بیان کی ہے۔ شاید اس لئے کہ اس کی صداقت کے حوالے سے خوامخواہ کے متنازعہ سوالوں سے بچ سکیں۔ یہ افسانہ ان کے افسانوں کے مجموعے ’’سوار‘‘ میں پندرہ سال قبل کراچی سے شائع ہوا تھا۔ اس تناظر میں جو لطف مجھے یہ فلم دیکھنے میں آیا، شاید ہی کسی اور کے حصے میں آیا ہو۔ فلم کا پریمیئر شو، کراچی کے پوش علاقے میں واقع نوئے پلیکس (Nueplex) نامی سنیما ہال میں ہوا جو سب سے بڑی تین اسکرینوں پر مشتمل ملک کا سب سے بڑا سنیما ہال ہے۔

دعوت نامہ ہمیں برادرم ساحر چودھری نے بھیجا تھا جو اس فلم کے پروڈیوسرز میں سے ایک ہیں۔ اپنے اسٹوڈیو میں اس فلم کی تیاری کا ذکر ساحر نے دو سال قبل اپنے گھر میں ایک عشایئے کے دوران کیا تھا جس کا اہتمام اس نے ہماری لاہور آمد پر کیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھے تب بھی اس کی بات پر یقین نہیں آیا تھا۔ کیونکہ دو سال قبل پاکستان کی فلمی صنعت کے حالات اتنے اچھے نہیں تھے اور پھر میر تقی میر جیسے اعلیٰ ادبی موضوع پر فلم اور وہ بھی پاکستان میں؟ بہرحال یہ ساحر ہی کا کمال تھا کہ اس نے اپنی ساحری سے ایک خواب کو حقیقت بنا دیا، بالکل ویسے ہی جیسے اپنی زندگی کے کئی اور خوابوں کو حقیقت کا روپ دے کر وہ ناممکن کو ممکن بنا چکا ہے۔ ’’ماہ میر‘‘ کی بدولت ہم نے (اہلیہ سمیت) میر تقی میر کا چاند اور اس پر فدا ہونے کے مناظر ہی نہیں دیکھے بلکہ انشاء اللہ خاں انشا سمیت اس زمانے کے دیگر معروف شعرا کی جھلک بھی دیکھی۔ دہلی کے نواب بھی دیکھے اور ان کے ساتھ میر کا خود سرانہ رویہ بھی۔ بقول فلم ڈائریکٹر انجم شہزاد کے ’’ماہ میر‘‘ کا آغاز دستاویزی فلم کے طور پر کیا گیا تھا، لاہور میں اسے آرٹ مووی کی شکل دینے کا فیصلہ ہوا۔ بہر حال جو بھی ہوا خواب ہوا کیونکہ روایت سے ہٹ کر میدان میں آنے والی فلم میر تقی میر پر اگر ایک جزوی دستاویز ہے تو میر کے جنونِ عشق پر مبنی ایک مکمل ڈراما بھی۔ گھسے پٹے موضوعات سے ہٹ کر ایک ادبی موضوع پر آرٹ مووی یقیناًایک جراتمندانہ اقدام ہے جس کا خوش آئند پہلو یہ ہے کہ اسے مقبولیت بھی حاصل ہوئی فلم میں چودھویں کے چاند کو محبوب کی خوبصورتی اور عاشق کی دیوانگی کی علامت کے طور پر استعمال کرتے ہوئے میر کے جنون عشق کا رشتہ بڑی عمدگی سے دور حاضر کے ساتھ جوڑا گیا ہے جس کے ایک نوجوان شاعر کو اسی انداز میں سماج سے بغاوت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس طرح میر نے کی تھی۔ بات اگر یہیں تک رہتی تو فلم اس کمال کو نہ پہنچ پاتی جو اس نے میر جیسی عشق و محبت کی ایک اور کہانی سے حاصل کیا۔ یہ کہانی جو بظاہر ایک سنجیدہ اور خشک پروفیسر کے گرد گھومتی ہے آہستہ آہستہ کھلتی ہے اور پھر پوری فلم پر چھا جاتی ہے۔ فلم میں میر تقی میر کا رول اگر فہد مصطفےٰ نے ادا کیا ہے تو دور حاضر کے میر جیسے باغی شاعر کا کردار بھی اس نے نبھایا ہے اور ایک سندھی نوجوان ہونے کے لحاظ سے خوب نبھایا ہے جس پر اسے جتنی بھی داد دی جائے کم ہے۔ نور خانم کا کردار ایمان علی نے احسن طریقے سے ادا کیا اور ثناء جاوید نے بھی بطور نام نہاد شاعر اپنے کردار میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ مجموعی طور پر فلم میں ہوٹل کے کم سن بیرے سے لے کر عمر رسیدہ پروفیسر کریم نے اپنے اپنے کردار کے ساتھ انصاف کیا ہے کسی نے کم اور کسی نے زیادہ بہر حال اس کا کریڈٹ فلم کے ڈائریکٹر انجم شہزاد ہی کو جائے گا جن کا چھوٹی اسکرین سے بڑی اسکرین کی طرف پہلا سفر تھا۔ فلم میں بہر حال جن دو افراد نے دھوم مچائی وہ دونوں ہی سیالکوٹ کے صہبائی تھے۔ ایک تو سرمد صہبائی جنہوں نے اسکرپٹ اور مکالمے لکھے اور دوسرے ان کے بھائی منظر صہبائی جنہوں نے پروفیسر کریم کا کردار اس مہارت سے ادا کیا کہ آخر میں وہی فلم پر چھائے ہوئے نظر آئے اور یوں لگا کہ یہ فلم دراصل انہی کے جنون عشق کی کہانی تھی۔یہاں یہ کہنا بھی بے جا نہ ہو گا کہ سرمد صہبائی کے لکھے ہوئے مکالمے منظر صہبائی سے بہتر شاید کوئی اور اس انداز میں ادا بھی نہیں کر پاتا کہ اُردو زبان کا جوہر کُھل کر سامنے آ جائے۔ ہاں البتہ عوام الناس کے لحاظ سے اُردو ذرا کچھ مشکل نوعیت کی تھی۔ سرمد صہبائی کا نام ادبی اور نظر و سماعت کی دُنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ یا تو کچھ نہ کچھ بہترین تخلیق کرتے ہیں یا پھر نہیں کرتے۔ میر تقی میر پر فلم کے لئے ان جیسے باغی شاعر اور جنونی عاشق سے بہتر اسکرپٹ رائٹر کوئی اور مل نہیں سکتا تھا اور پروفیسر کے کردار کے لئے منظر صہبائی سے بہتر اداکار نہیں جو اس سے قبل فلم ’’بول‘‘ میں حکیم صاحب کا رول ادا کر کے اپنا لوہا ’’لکس ایوارڈ‘‘ کی شکل میں منوا چکے ہیں۔ ’’ماہ میر‘‘ کی ایک اور بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ ادبی موضوع پر یہ فلم دانشورانہ سوچ کے حامل شائقین کے لئے زیادہ دلچسپی کا حامل ہو سکتی ہے، لیکن اس میں عوام الناس کی دلچسپی کی پہلو زندگی کے تضادات کے بارے میں اُٹھائے گئے وہ سوالات ہیں جو ڈھائی سال قبل بھی عام انسان کے ذہنوں میں مُعلّق تھے، چنانچہ یہ سوالات فلم دیکھنے والے ہر شخص کے ذہن میں گونجتے ہیں اور وہ اپنے اپنے طور پر ان کا جواب ڈھونڈتا ہوا سینما ہال سے باہرنکلتا ہے۔ ڈھائی سو سال سے قبل کے زمانے کو آج کے زمانے سے جوڑ کر اس زمانے اور اس کے سوالات کو دوباہ زندہ کر دینے کا معرکہ سرمد صہبائی ہی برپا کر سکتے ہیں۔

مزید : کالم