فلپائن کے نو منتخب صدر نے ملک میں سزائے موت کی بحالی کی حما یت کر دی

فلپائن کے نو منتخب صدر نے ملک میں سزائے موت کی بحالی کی حما یت کر دی

منیلا ( آن لائن )فلپائن کے نو منتخب صدر روڈریگو دوترتے نے ملک میں سزائے موت بحال کرنے اور مخصوص حالات میں سکیورٹی فورسز کو گولی چلانے کی اجازت دینے کا ارادہ ظا ہر کر دیا ۔نو منتخب صدر روڈریگو دوترتے نے گذشتہ ہفتے کے انتخابات کے بعد نامہ نگاروں کے ساتھ اپنے پہلے بیان میں کہا ہے کہ وہ سزائے موت کو واپس متعارف کرانے کی کوشش کریں گے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ سکیورٹی فورسز کو ایسے مشتبہ افراد کو ’گولی مارنے کا اختیار دیں گے جو گرفتاری سے بچ رہا ہو یا پھر منظم جرائم میں ملوث ہوں۔ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ وہ ان پر کتنی آسانی کے ساتھ عمل در آمد کر سکیں گے تاہم تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان کی جیت کا سہرا جرائم کے خلاف ان کے سخت موقف کو جاتا ہے۔فلپائن کے صدر نے کہا ’میں کانگریس پر زور دوں گا کہ وہ پھانسی کے ذریعے موت کی سزا کو بحال کریں۔‘خیال رہے کہ فلپائن نے سنہ 2006 میں موت کی سزا کو ختم کر دیا تھا۔صدر نے کہا: ’اگر آپ مزاحمت کریں گے اور پرتشدد مزاحمت کریں گے تو پولیس کو میرا حکم گولی مار دینے کا ہوگا۔ منظم جرم کے خلاف جان لینے کے لیے گولی مار دینے کا حق ہوگا۔ آپ نے سنا یہ۔ تمام طرح کے منظم جرائم کے لیے گولی ماردینا۔‘اس سے قبل روڈریگو دوترتے کے ترجمان نے کئی تجاویز پیش کی تھیں جن میں شراب پر پابندی بچوں پر ’ملک گیر پیمانے پر کرفیو‘ شامل ہیں۔

مزید : عالمی منظر