2014کے مقابلے میں2015میں جرائم سے متعلق کم مقدمات درج کئے گئے

2014کے مقابلے میں2015میں جرائم سے متعلق کم مقدمات درج کئے گئے

سری نگر(کے پی آئی)مقبوضہ کشمیر پولیس کا کہنا ہے کہ 2014کے مقابلے میں2015میں جرائم سے متعلق کم مقدمات درج کئے گئے ۔ جموں وکشمیرکرائم برانچ کے مطابق قتل ،اقدام قتل ،عصمت ریزی ،اغواکاری ،ڈکیتی،چوری ،آتشزدگی اور چھیڑ چھاڑ وغیرہ جرائم میں سن2014میں ملاکر25390مقدمات درج کئے گئے جبکہ2015میں جرائم سے متعلق25269مقدمات درج کئے گئے ۔حیرت انگیز طور پر ضلع سرینگر میں ہر قسم کے جرائم کے حوالے سے 2015میں 3077مقدمات درج کئے گئے جبکہ 2014میں ان کی تعداد 287تھی ۔ 2015 میں قتل کے 133مقدمات درج کئے گئے ۔ غیر ارادتا قتل کے حوالے سے سال 2015کل ملاکر 30مقدامات درج کئے گئے اقدام قتل کے تحت 2015میں جموں وکشمیر میں کل ملاکر 430مقدمات درج کئے گئے۔عصمت ریزی کے حوالے سے 315، اغوا کاری سے متعلق 1152،چھیڑ چھاڑ کے حوالے سے 1342مقدمات درج کئے گئے ۔ گھریلو ملازمین پر تشدد کے حوالے سے 2015میں 535مقدمات درج کئے گئے ۔

کرائم برانچ کا کہنا ہے کہ 2015میں جہیز اموات کے حوالے سے 6واقعات رونما ہوئے جبکہ 2014میں ان کی تعداد 5تھی۔ کرائم برانچ کے مطابق سال 2014اور2015میں زیر حراست ہلاکت کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ کرائم برانچ کے مطابق ڈکیتی کے حوالے سے2015میں 63مقدمات درج کئے گئے اورچوری کی 1431وارداتیں رونما ہوئی ۔ گاڑیوں کی چوری کے حوالے سے 800واقعات رونما ہوئے جبکہ 2014میں ان کی تعداد 717تھی ۔ جنگلات چوری کے سال 2015میں 363مقدمات درج کئے گئے ۔ ریاست جموں و کشمیر میں فرقہ وارانہ حقوق سے متعلق 2015میں 4مقدمات درج کئے گئے ۔آر مز ایکٹ کے تحت ریاست بھر میں 2015میں 146مقدمات درج کئے گئے جبکہ 2014میں ان کی تعداد 180تھی ۔غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق ایکٹ کے تحت 2015میں 44مقدمات درج کئے گئے جبکہ 2014میں ان کی تعداد 37تھی۔

مزید : عالمی منظر