اخلاقی حدود پر عمل سب ہی کی ذمہ داری ہے

اخلاقی حدود پر عمل سب ہی کی ذمہ داری ہے
 اخلاقی حدود پر عمل سب ہی کی ذمہ داری ہے

  

کولا بنانے والی ایک مشہور کمپنی کا اشتہار ٹی وی چینل سے نشر ہو رہا تھا۔ اشتہار دیکھنے کے بعد خاتون خانہ نے بر جستہ کہا کہ اشتہار میں جو حرکت کی گئی ہے ، اگر یہ حرکت ہمارا نواسہ کرے تو اس کی گوش مالی ضروری ہوجائے گی۔ اس حرکت کو اس کی بدتمیزی سے تعبیر کیا جائے گا۔ خاتون خانہ کو اس اشتہار پر یہ اعتراض تھا کہ اس اشتہار سے بچوں کا اخلاق متاثر ہوگا۔ اشتہار کیا ہے؟ سارے ہی چینل پر خوب نشر ہو رہا ہے۔ بڑا بھائی چھوٹے بھائی کو مختلف طریقوں سے ایذا دیتا ہے۔ ایک موقع پر چھوٹا بھائی کولا پی رہا ہوتا ہے تو بڑا اس کے منہ سے لگی ہوئی بوتل پر ہاتھ مارتا ہے، بوتل چھلک جاتی ہے، کولا اس کے جسم اور کپڑوں پر بھی گرتا ہے۔ بڑا بھائی ہنستا ہوا چلا جاتا ہے، چھوٹا کھسیانی سی ہنسی ہنستا ہے، جس کمپنی کا یہ اشتہار ہے وہ تو سوچتی ہو گی کہ اس کا اشتہار خوب چل رہا ہے۔ اسے یہ نہیں معلوم کہ اس اشتہار کو لوگ پسند نہیں کر رہے ہیں ۔ ایسے لاتعداد اشتہارات ٹی وی چینلوں سے نشر ہو رہے ہیں جو مختلف لحاظ سے معیوب تصور کئے جاتے ہیں، ہر ایک کے مختلف اسباب ہیں۔ ان اسباب پر اشتہار بنانے والے ، اشتہارات بنوانے والی کمپنیاں سوچتی ہی نہیں ہیں کہ کیا یہ اشتہار ملک کی اخلاقی قدروں، تقاضوں اور ضروریات سے ہم آہنگ ہیں، کیا یہ اشتہار اس قابل ہیں جو گھروں میں لوگ اہل خانہ کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ سکیں۔ ان میں دئے گئے جملے سن سکیں۔ اکثر مایوسی ہوتی ہے کہ آخر یہ کون سی دنیا کے لوگ ہیں جو اس ملک میں اخلاق باختہ اشتہارات تیار کر رہے ہیں جو ٹی وی پر نشر بھی ہو رہے ہیں۔ ضرورت سے زیادہ رقص، شور غوغا، اخلاقی پستی، ایذا رسانی اور صنفی اشتعال کی ان اشتہارات میں ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں جن پر افسوس ہوتا ہے۔ ایک موبائل کمپنی کے ایک اشتہار پر جو ایک اخبار میں شائع ہوا تھا، ملک بھر میں شدید رد عمل ہوا تھا۔ کمپنی کو وہ اشتہار ہی واپس لینا پڑا تھا۔

کیا اشتہارات کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جو چاہا ، نشر یا شائع کرا لیا۔ فوٹو گرافی کا انداز، کیمرا کے زاویہ، آنکھوں کے انداز، للچائی ہوئی آنکھوں سے مرد کا عورت اور عورت کا مرد کو دیکھنا ، عورت کو کندھے سے پکڑنا، وغیرہ ہمارے معاشرہ میں کم از کم اچھی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے۔ جملے اس قسم کے بولے جاتے ہیں جن پر شرم آتی ہے۔ چائے کا اشتہار ہے، مرد عورت سے کہتا ہے کہ کہاں جارہی ہو، رات کا حسن نہیں دیکھنا ہے۔ صابن کے ایک اشتہار میں عورت کے جسم کی غیر ضروری طور پر نمائش کی گئی۔ بعض واہیات اشتہارات کا تو تذکرہ میں دانستہ نہیں کر رہا ہوں۔ ایف ایم ریڈیو پر بھی بعض معیوب اشتہارات نشر ہوتے رہتے ہیں۔ این جی اوز کے بعض اشتہار ایسے ہوتے ہیں جو پرو پیگنڈہ کے سوا کچھ اور نہیں اور پروپیگنڈہ کا مقصد بھی پاکستان کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے ۔ کچھ عرصہ قبل ایک این جی او نے اشتہار دیا جو اقلیتوں کے حقوق کے سلسلے میں تھا، اس میں بعض جملے اس قسم کے تھے ۔’’ میں عیسائی ہوں اس لئے نوکری نہیں ملتی‘‘ ۔۔۔’’ مجھے کہا جاتا ہے کہ کلمہ سناؤ‘‘۔ وغیرہ۔ میں ذمہ داری کے سا تھ یہ بات لکھ رہا ہوں کہ پاکستان بھر میں ایسا کہیں نہیں ہوا ہوگا۔ یہ اشتہار دینے والوں کی ذ ہنی اختراع ہے۔ اشتہار میں کہا گیا تھا کہ ’’ ہندو لڑکیوں کو اغواء کر کے زبردستی مسلمان کیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ زبر دستی شادی کر لی جاتی ہے‘‘۔ کیا تمام ہندو لڑکیوں کو زبر دستی مسلمان کیا جاتا ہے ؟ کیا تمام لڑکیوں کے ساتھ ان کی ر ضا مندی کے بغیر شادی کی جاتی ہے ؟ حکومت ہو یا سیاسی جماعتیں یا غیر سرکاری تنظیمیں، یا مذہبی جما عتیں، کسی نے آج تک فردا فردا لڑکیوں کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے کی کوشش ہی نہیں کی ہے۔ سب سنی سنائی پر کام چلارہے ہیں۔ جب معاملات پر کوئی تحقیق ہی نہیں ہوئی ہے تو بعض واقعات کو بنیاد بنا کر پورے معاشرے کی بات کیوں کی جارہی ہے۔ پھر اس قسم کے جملوں پر مبنی اشتہار کیوں نشر ہوں؟ ٹی وی چینل ہوں یا ایف ایم ریڈیو، اشتہار ان کے لئے اہمیت کے حامل ہیں ،لیکن اس سے زیادہ اخلاقی قدروں اور شعائر کو اہمیت حاصل ہونا چاہئے۔ بعض ٹی وی چینلوں نے اپنے اداروں میں محتسب مقرر کئے تھے یا ہیں، تمام نے نہیں کئے ہوئے ہیں۔

جب تمام ٹی وی چینلوں نے محتسب مقرر نہیں کئے ہیں تو پھر پیمرا کو کیوں نہیں تمام اشتہارات کا پیشگی جائزہ لینا چاہئے؟ کسی کو تو غلطیوں کی نشان دہی کرنا ہوگی، کسی کو تو اخلاقی حدود کی پابندی کرانا ہو گی ۔ فلم کا جائزہ لینے کے لئے سنسر بورڈ ہوا کرتا ہے۔ بورڈ کے اراکین پوری فلم دیکھنے کے بعد اس کی نمائش کی اجازت دیتے ہیں۔ٹی وی پر چلنے والے تمام اشتہارات کے نشر ہونے سے قبل جائزہ لینے کا کوئی انتظام کیوں نہیں ہونا چاہئے؟ ٹی وی چینل تو سنیما ہاؤس میں نمائش کی جانے والی فلم سے زیادہ مو ثر ہیں۔ ٹی وی گھر گھر میں موجود ہے۔ کئی اشتہارات ایسے ہوتے ہیں، جن کے بارے میں عام ناظرین کہتے ہیں کہ گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھا جا سکتا ہے۔ پیمرا کو چاہئے کہ اپنا سنسر بورڈ قائم کرے۔ یہ بورڈ تمام اشتہارات کو قبل از وقت دیکھے اور جائزہ لینے کے بعد اسے نشر کرنے کی منظوری دے۔ کہا جائے گا کہ یہ کیوں کر ممکن ہے کہ ہر اشتہار کو سنسر بورڈ دیکھ بھی سکے گا ، یا نہیں۔ آج کے دور میں جب ای میل اور دیگر سہولتیں موجود ہیں، اراکین کو اشتہار ای میل کئے جا سکتے ہیں۔ اراکین اپنے گھروں پر بیٹھے ہوئے ہی انہیں دیکھ کر اپنی رائے سے آ گاہ کر سکتے ہیں۔

پیمرا کا یہ بورڈ حکومت کے نامزد کردہ لوگوں کی بجائے پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختون خوا، آزاد کشمیر، گلگت اسمبلیوں کی ایک ایک خاتون اراکین ، قومی اسمبلی اور سینٹ کی ایک ایک خاتون رکن پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ اس بورڈ میں ان خواتین کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے جو نفسیات، عمرانیات، اور دینی مضامین کو بہتر طور پر سمجھتی ہیں اور ان پر دسترس رکھتی ہیں۔ ان کی رائے لینے کے بعد اشتہار کو نشر کرنے کی اجازت دینا چاہئے۔ اگر پیمرا کے تشکیل کردہ بورڈ پر اعتراض ہو تو پاکستان براڈ کاسٹر ایسو سی ایشن کو یہ فرض انجام دینا چاہئے ۔ اخبارات کے لئے آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کو یہ ذمہ داری ادا کرنا چاہئے۔ اس تماش گاہ میں یہ پابندی اس لئے نہیں ہے کہ ذرائع ابلاغ کی آزادی پر کوئی قد غن لگانا مقصود ہو، بلکہ معاشرے کو بد اخلاقی کی راہ پر لے جانے سے رو کنا مقصود ہے اور اخلاقی حدود پر عمل کرانے کی ذمہ داری تو سب ہی پر عائد ہوتی ہے۔

مزید : کالم