کیا امریکہ ناقابلِ تسخیر ہے؟۔۔۔ جی ہاں۔۔۔ مگر۔۔۔؟

کیا امریکہ ناقابلِ تسخیر ہے؟۔۔۔ جی ہاں۔۔۔ مگر۔۔۔؟
کیا امریکہ ناقابلِ تسخیر ہے؟۔۔۔ جی ہاں۔۔۔ مگر۔۔۔؟

  

اگر عالمی تاریخ کے کسی طالب علم سے یہ سوال پوچھا جائے کہ کیا امریکہ ناقابلِ تسخیر ہے تو بظاہر اس کا جواب اثبات میں ہوگا۔ اس اثبات کی سپورٹ میں چند در چند دلائل بھی ہوں گے۔ مثلاً اول یہ کہ امریکہ کی فوجی قوت دنیا میں سب سے زیادہ ہے، دوم یہ کہ اس کی سرزمین (مین لینڈ) دنیا کے دو عظیم سمندروں کے عین بیچ میں گھری ہوئی ہے،جس کسی نے بھی اس سرزمین پر حملہ کرنا ہے، اسے پہلے بحری یا ہوائی رسائی کے لئے ہزاروں بحری اور فضائی میلوں کا فاصلہ طے کرنا ہوگا۔۔۔ نقشے پر نگاہ ڈالئے۔ امریکہ کے ایک طرف بحراوقیانوس ہے اور دوسری طرف بحرالکاہل ہے۔ ان عظیم آبی رکاوٹوں کو عبور کرکے امریکہ پر زمینی، بحری یا فضائی حملہ نہیں کیا جا سکتا ۔ اس کے علاوہ امریکی افواج کی قوتِ ضرب دنیا کی کسی بھی فوج سے زیادہ ہے۔۔۔گراؤنڈ، نیول اور ائر فورس کے علاوہ اب ایک نئی اور چوتھی فورس بھی وجود میں آ چکی ہے۔ میری مراد خلائی قوت سے ہے۔ فضاؤں کو مسخر کرنے کا خواب تو مختلف ادوارِ تاریخ میں کئی قوموں نے دیکھا لیکن خلاؤں کی تسخیر کا تصور (اسلام کے سوا) کسی اور قوم یا مذہب کے پیروکاروں کے ہاں نہیں پایا جاتا۔ واقعہء معراج اس پر دال ہے۔ آنحضورؐ کا ہفت آسمانوں سے بھی پرے جا نکلنا، پھر اپنے مادی جسم کے ساتھ واپس زمین پر تشریف لے آنا انسانی عظمت کی بلندی کی وہ بشارت ہے جو معراجِ نبویؐ سے پہلے تک انسانی تخیل کی حدود سے باہر رہی۔ اس واقعہ ء معراج سے جو سبق عہدِ حاضر کی ترقی یافتہ اقوام نے سیکھا افسوس کہ وہ امتِ مسلمہ کے افراد اور دانشوروں کے لئے محض ایک معجزہ ہی بنا رہا۔

اقبال وہ پہلے شاعر ہیں جنہوں نے واقعہ ء معراج کو ایک ایسے انسانی زاویہ ء نظر سے دیکھا جس کی مثال کسی اور زبان کے شعر و ادب میں شاذ ہی ملتی ہے۔ لیکن جس طرح انہوں نے اس واقعہ سے انسانی شرف کے اوج کو اجاگر کیا ہے، وہ انہی کا حصہ ہے۔ان کے یہ اشعار دیکھئے:

راہِ یک گام ہے ہمت کے لئے چرخِ بریں

کہہ رہی ہے یہ مسلمان سے معراج کی رات

عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں

کہ یہ ٹُوٹا ہوا تارا مہِ کامل نہ بن جائے

خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے

کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفی ؐ سے مجھے

کہ عالمِ بشّریت کی زد میں ہے گردوں

عشق کی اک جَست نے طے کر دیا قصہ تمام

اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں

تو اے اسیرِ مکاں! لامکاں سے دور نہیں

وہ جلوہ گاہ ترے خاکداں سے دور نہیں

فضا تری مہ و پرویں سے ہے ذرا آگے

قدم اٹھا یہ مقام آسماں سے دور نہیں

عروجِ آدمِ خاکی کے منتظر ہیں تمام

یہ کہکشاں، یہ ستارے، یہ نیلگوں افلاک

میرے ذہن میں اقبال کے اردو کے اور بھی بہت سے اشعار آ رہے ہیں لیکن کالم اور موضوع کی تنگ دامنی سدِ راہ ہے۔ تاہم اتنا ضرور عرض کروں گا کہ اقبال نے فارسی میں بھی اس موضوع پر جو کچھ کہا ہے وہ بے مثال ہے۔۔۔ کاش اس کا عشرِ عشیر یہاں درج کر سکتا!۔۔۔ معراج کے واقعے سے اقبال اس قدر مغلوب تھے کہ ان کا فارسی کا ایک شاہکار مجموعہ ء کلام ’’جاوید نامہ‘‘ کے عنوان سے ہم سب کی توجہ کا طالب ہے۔ اس میں اقبال خود پیرِ رومی کی ہمراہی میں آسمانوں کی سیر کرتے ہیں۔ نئی نسل میں چونکہ فارسی کا ذوق ہی ختم ہو گیا ہے، اس لئے کیا حوالے دوں اور کیا عرض کروں۔ یہ کالم کسی کالج یا یونیورسٹی کے شعبہ ء فارسی کے کسی استادِ محترم کے لئے نہیں بلکہ ایک عام پاکستانی شہری کے لئے لکھ رہا ہوں۔

اقبالؒ 21اپریل 1938ء کو جب فوت ہوئے تو خلاؤں کی تسخیر پر نظری اعتبار سے شائد مغرب میں کوئی کام ہو رہا ہو تو مجھے اس کی خبر نہیں لیکن روس کا پہلا خلائی سیارہ سپوتنک وفاتِ اقبال سے 19سال بعد (1957ئمیں) عملی طور پر سامنے آیا۔ اور پھر اس فیلڈ میں اتنی تیزی سے ترقی ہوئی کہ تیسری دنیا کا اوسط درجے کا میرے جیسا شہری اس کی حدود و ثغور کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے۔ خلائی سائنس صرف چند لوگوں/ اقوام کا ایک سپیشل کلب بن کے رہ گئی ہے۔ نظام شمسی کے مختلف سیاروں کی طرف حضرتِ انسان کا سفر بڑی تیزی سے جاری ہے۔ ہماری آئندہ نسلیں شائد کسی سیارے میں جا کر نئی بستیاں بسائیں ۔ لیکن آج برصغیر کی ’’خاکِ پاک ‘‘ پر پڑے ہم جیسے قدامات پرست لوگ تو یہی سوال کرتے رہیں گے۔۔۔نجانے کب تک؟

تو کارِ زمیں را نکو ساختی

کہ باآسماں نیز پرداختی؟

کون جانے مغربی اقوام نے واقعہ ء معراج کی صداقت کو سامنے رکھ کر ہی خلائی تسخیر کا آغاز کیا ہو! ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے سوا عصرِ حاضر کی ترقی یافتہ اقوام نے ہمارے سنہری ماضی سے اَن گنت اسباق اخذ کئے۔ مثلاً ہماری خلافتِ راشدہ میں مدینہ پہلا دارالخلافہ تھا۔پھر امویوں نے دمشق اور عباسیوں نے بغداد کا انتخاب کیا۔ ترکوں نے قسطنطنیہ کو اپنا دارالخلافہ بنایا۔ مسلم حکمرانی جتنی اور جس قدر پھلتی پھولتی رہی، اتنی اور اسی قدر اس میں زمینی تغیرات کی وسعت آتی چلی گئی۔ ان تغیرات میں پہلے یورپی اقوام نے سترہویں صدی عیسوی سے لے بیسویں صدی عیسوی کے وسط تک ایک اور اضافہ یہ کیا کہ انہوں نے اپنے اپنے دارالحکومتوں کو تو وہیں رکھا کہ جہاں وہ تھے لیکن دنیا کے مختلف براعظموں میں جن جن ممالک کو فتح کیا، ان میں اپنے گورنر جنرل اسی طرح مقرر کئے جس طرح مسلمانوں کی خلافتوں کے ادوار میں تھے۔۔۔یہ طرزِ حکمرانی مسلمانوں ہی کی تقلید تھی۔

پھر جنگ عظیم دوم کے خاتمے کے بعد ایٹم بم اور میزائل کی ایجاد نے امریکی سرزمین کو جواب تک محفوظ و مامون چلی آ رہی تھی زیرِ خطر (Vulnerable) بنا دیا۔ آج دنیا کے کسی بھی خطے سے ایک بین البراعظمی میزائل اڑ کر امریکہ کے کسی بھی حساس ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ امریکی فضائی دفاع کا نظام لاکھ ہمہ گیر، ہمہ قوت اور ہمہ جہت ہو گا لیکن انسان کی بنی ہوئی مشینوں میں غلطی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کی دونوں بڑی طاقتوں نے ایک دوسرے کے خلاف لاکھ جوہری اور میزائلی ڈیٹرنٹ ترتیب دے رکھے ہوں گے لیکن 100 فی صد فول پروف سسٹم تو دنیا میں کسی بھی شعبے میں آج تک ایجاد نہیں ہو سکا۔ خلاؤں کی عسکریت (Militarization) نسبتاً ایک نیا موضوع اور ایک نیا دفاعی نظام ہے۔ کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا SDI (سٹرٹیجک ڈیفنس انی شی ایٹو) کا بڑا شہرہ تھا جسے سیاروں کی جنگ کا نام بھی دیا گیا۔ لیکن اچھا ہوا اُس دور کی دونوں سپرپاورز کو جلد ہوش آ گیا وگرنہ دو برس پہلے چین نے اپنے ہی ایک خلائی سیارے کو ایک سیارہ شکن میزائل سے تباہ کرکے خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔ یہ اس بات کا بھی اعتراف تھا کہ خلائیں بھی اب محفوظ نہیں رہیں۔ ہمارا مواصلاتی نظام جس پر ہمارے کمپیوٹرں اور ٹیلی مواصلات کا دارومدار ہے وہ آن کی آن میں تباہ کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔ مغرب نے تو اس موضوع پر کئی دستاویزی فلمیں بنا ڈالی ہیں ۔

امریکہ نے پہلے مسلمانوں اور پھر دوسری یورپی اقوام کے تتبع میں اپنا دارالحکومت محفوظ بنائے رکھا اور دوسرے ملکوں میں جنگ و جدال کا بازار گرم کئے رکھا۔ مقصود یہ تھا کہ جنگ کے شعلوں کو اپنی سرزمین کی طرف نہ بڑھنے دیا جائے۔ آج امریکہ کے بحری، فضائی ا ور زمینی مستقر ملکوں ملکوں پائے جاتے ہیں۔ جن میں لاکھوں امریکی ٹروپس مستقل طور پر ’’آباد‘‘ ہیں۔ علاوہ ازیں موبائل بحری مستقروں کی تعداد دس ہے جن کو طیارہ بردار بحری جہاز یا نیول ٹاسک فورس کا نام دیا جاتا ہے۔ ایک ایک طیارہ بردار (ایئر کرافٹ کیرئر)پر ہزاروں بحری ا ور زمینی ٹروپس مقیم ہوتے ہیں جو مختلف سمندروں (بحر الکاہل، بحر اوقیانوس، بحر ہند اور بحیرۂ روم) کے پانیوں پر رواں دواں رہتے ہیں۔ یہ سمندری پلیٹ فارم ہر لحاظ سے خود کفیل ہوتے ہیں۔۔۔ راشن، پانی، خوراک، گولہ بارود، ہتھیار، ٹرانسپورٹ، تیل، ورکشاپیں، سب کچھ ان پر موجود ہے۔اس دیو قامت بحری جہاز کے اردگرد درجنوں دوسرے مسلح جنگی بحری جہاز (کروز فریگیٹ، ڈسٹرائٹر، کارویٹ وغیرہ) اور آبدوزیں ہمہ وقت موجود رہتی ہیں۔ درجنوں بلکہ سینکڑوں طیارے اس جہاز کے عرشے سے ٹیک آف اور اس پر لینڈ کر سکتے ہیں۔ اپنے ٹیلی ویژن پر یہ مناظر آپ آئے روز دیکھتے ہیں۔ یہ طیارہ بردار اس لئے بنائے گئے ہیں کہ دنیا میں جہاں کہیں پتہ چلے کہ ان کی سرزمین (Mainland) خطرے میں ہے۔ توسینہءآب پر دوڑتے ہوئے یہ موبائل جنگی پلیٹ فارم بمعہ سازو سامان اور افرادی قوت وہاں پہنچا دی جائے اور خود زمینی سرحدوں سے دور سمندر میں رہ کر مطلوبہ مقاصد حاصل کر لئے جائیں۔۔۔ اس طریقِ جنگ کا مظاہرہ ہم کئی بار عراق، لیبیا اور شام میں دیکھ چکے ہیں لیکن ایک فرق کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔ اور وہ فرق یہ ہے کہ اس ہیبت ناک عسکری قوت کو صرف ان اقوام و ممالک کے خلاف ہی لانچ کیا جاتا رہا ہے جن کے پاس ’’جوابی وار‘‘ کی اہلیت موجود نہ ہو۔ تاہم امریکہ ہو یا روس، چین ہو یا فرانس، برطانیہ ہو یا کوئی اور ترقی یافتہ ملک اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ ان کا اپنا آشیانہ ایک شاخِ نازک پر استوار ہے۔ ایران کے ساتھ امریکہ کی حالیہ نیوکلیئر ڈیل، شمالی کوریا کے پانچویں دھماکے اور چھٹے دور مار میزائل کے تجربات اور پاکستان کے جوہری اور میزائیل پروگرام کے پیش نظر پوری کی پوری ناٹو کا چودہ برس افغانستان میں رہنے کے بعد دم دبا کر واپس چلے جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ ناقابلِ تسخیر نہیں۔۔۔ اس پر حملہ کر کے اس پر قبضہ تو شائد نہ کیا جا سکے لیکن اس پر کاری جوہری ضرب لگا کر باہمی خودکشی کا ارتکاب ضرور کیا جا سکتا ہے۔ یہ ارتکاب (تخت یا تختہ) اگرچہ ایک عاقبت نا اندیشانہ (Reskless) آپشن ہو گیلیکن جب اپنی موت سامنے ہو تو دشمن کو مار کر مر جانا، عین حیات بھی ہے۔

مزید :

کالم -