بجٹ اور نئے ٹیکس؟

بجٹ اور نئے ٹیکس؟

بجٹ کی آمد آمد ہے، مئی تیزی سے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جون کی ابتدا وفاقی اور اس کے بعد صوبائی میزانیوں سے ہو گی۔ اس حوالے سے شہری تشویش میں مبتلا ہیں کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں آمدنی میں اضافے کے لئے ٹیکسوں میں اضافے اور نئے ٹیکس لگانے کی مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ ایک تجویز کے مطابق سیلز ٹیکس کی شرح بڑھانے، بجلی پر دی جانے والی سبسڈی میں کمی، گیس پر دی جانے والی رعایت کی واپسی اور بعض نئے ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ ہوا ہے، اس میں ان تاجر حضرات پر دو فیصد فکسڈ ٹیکس عائد ہوگا ،جن کا بجلی کا سالانہ بل چھ لاکھ روپے سے زائد ہوگا ،دوسرے معنوں میں پچاس ہزار روپے ماہانہ سے زیادہ بل والے ایک نیا ٹیکس دیں گے۔ مہنگی بجلی اور تاجر حضرات کے گاہکوں کے لئے سجاوٹ اور روشنی کے علاوہ ایئرکنڈیشننگ سے اتنا بل تو آسانی سے بن جاتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ تاجر برادری کی اکثریت اس زد میں آئے گی۔کاروباری اور صنعتی حلقے پہلے سے عائد ٹیکسوں کی شرح پر معترض ہیں اور ان میں کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں، آئی ایم ایف کی ہدایت پر اب ٹیکسوں میں اضافہ اور نئے ٹیکس لگانے کی تجاویز سے ان میں اضطراب پیدا ہو رہا ہے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ پیچ در پیچ اور بالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار ہے، حکومت صنعت و تجارت سے تعلق رکھنے والے حقیقی نمائندوں سے بات چیت کر کے بالواسطہ ٹیکس ختم کرے، براہ راست اور کم از کم ٹیکس لگائے جائیں۔ اس طرح خود حکومت کو بھی فائدہ ہوگا کہ ٹیکس ادائیگی کا رجحان بھی پیدا ہوگا۔

مزید : اداریہ