بھارت کا میزائل شکن تجربہ اور ایف سولہ طیاروں کا سودا

بھارت کا میزائل شکن تجربہ اور ایف سولہ طیاروں کا سودا

  

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے، مجموعی طور پر ہمارے تعلقات بہتر ہیں۔ امریکی انتظامیہ پاکستان کو ایف 16طیاروں کی سپلائی کے حق میں پہلے بھی تھی اور آج بھی حق میں ہے مخالفت کانگریس کی طرف سے ہے سیاستدان اپنے حلقوں کی پوزیشن کو مدنظر رکھ کر بھی اس طرح کی مخالفت کرتے ہیں اگر پاکستان کو ایف 16 طیارے نہ دیئے گئے تو پاکستان اپنے دفاع کے لئے دوسرے ملکوں سے بھی طیارے خرید سکتا ہے۔ ضرب عضب میں ایف 16طیارے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کامیابی سے استعمال کئے گئے۔ امریکہ کو اس سلسلے میں پاکستان کی قربانیوں اور جدوجہد کا اعتراف ہونا چاہیے۔ پوری دنیا بھارت کو روایتی ہتھیاروں سے مسلح کر رہی ہے۔

گزشتہ روز امریکی دفتر خارجہ کے ترجمانوں نے بھی کم و بیش یہی باتیں کہی تھیں جو خواجہ آصف نے کی ہیں ملکوں کے تعلقات ہمیشہ قومی مفادات کے تابع ہوتے ہیں اور دوست ملکوں کے درمیان بھی ہمیشہ ہموار نہیں رہتے ان میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے۔ امریکہ نے افغانستان پر فضائی حملہ کیا تھا اور طالبان حکومت کو ختم کرکے اپنی افواج افغانستان میں داخل کرنی تھیں تو اسے پاکستان کی لاجسٹک سپورٹ درکار تھی، اس کے بغیر امریکہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا، چنانچہ اس نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ استوار کیا اور کولیشن سپورٹ کی مد میں پاکستان کو مختلف نوعیت کی امداد بھی دی، لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ دہشت گردی کی اس جنگ کا حصہ بننے پر جتنا نقصان پاکستان کا ہوا اتنا دنیا کے کسی دوسرے ملک کا نہیں ہوا، دنیا کے جس ملک کو بھی دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا وہ چند واقعات تک محدود تھا، جن کے بعد ان ملکوں نے کسی نہ کسی طرح اس پر قابو پا لیا لیکن پاکستان کو ان پندرہ سولہ برسوں میں مسلسل دہشت گردی کا سامنا رہا، ان برسوں میں بعض مہینے تو ایسے گزرے ہیں جب دہشت گردی کے واقعات تسلسل کے ساتھ ہوتے تھے اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا جب کہیں نہ کہیں دہشت گردی کی ہولناک واردات نہ ہوتی ہو، کوئی جگہ ان سے محفوظ نہ تھی، حتیٰ کہ دفاعی تنصیبات اور سیکیورٹی اداروں کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا تھا اعلیٰ سیکیورٹی افسروں اور جوانوں کو بھی شہید کیا گیا۔ ہسپتالوں اور مساجد تک میں دہشت گردی ہوئی اب پاکستان کی مسلح افواج کے دوسالہ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں اگرچہ دہشت گردوں کی کمر بڑی حد تک توڑ دی گئی ہے لیکن اب بھی یہ دہشت گرد کہیں نہ کہیں واردات کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

دہشت گردی کی اس جنگ میں پاکستان نے ایف 16طیارے کامیابی سے استعمال کئے جو اس وقت پاکستان ائر فورس کا حصہ ہیں مزید طیاروں کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس پر امریکی حکومت سے مذاکرات شروع کئے گئے، طویل مذاکرات کے بعد امریکہ نے پاکستان کو آٹھ ایف 16 طیارے دینے کا فیصلہ کیا جس پر بھارت نے احتجاج کیا جو امریکہ نے مسترد کر دیا۔ کانگرس میں بھی پہلی کوشش میں بھارت کو ناکامی ہوئی جس کے بعد امریکی حکومت نے آٹھ ایف سولہ طیارں کی پاکستان کو فروخت کا نوٹی فیکشن جاری کر دیا اور طیارہ ساز کمپنی کو طیارے بنانے کے لئے آرڈر بھی دے دیا گیا اب کانگرس کے تازہ حکم کے تحت فرق یہ پڑا ہے کہ پاکستان سے ان طیاروں کی پوری نقد قیمت طلب کی گئی جو قبل ازیں پاکستان نے 30فیصد ادا کرنی تھی اور باقی 70فیصد رقم امریکہ نے اس امداد میں سے ادا کرنی تھی جو پاکستان کو ملنے والی تھی۔ خواجہ آصف نے اور اس سے پہلے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ امریکی انتظامیہ اب بھی پاکستان کو طیارے فروخت کرنے کے حق میں ہے۔کانگرس کی مخالفت کی وجہ سے اگر امریکی حکومت کوئی راستہ نکالنے میں کامیاب نہیں ہوتی تو پاکستان کو متبادل ذرائع کی جانب رجوع کرنا ہوگا اس قسم کے جدید طیارے روس یا چین سے بھی مل سکتے ہیں اس لئے اس بات کا امکان ہے کہ پاکستان ان دونوں ملکوں سے اس ضمن میں بات چیت کا آغاز کرے روس سے جدید ہیلی کاپٹروں کی خریداری کا ایک چھوٹا سا سودا پہلے ہی طے ہو چکا ہے۔ جہاں تک چین کا تعلق ہے پاکستان اس کے تعاون سے جے ایف 17تھنڈر طیارے بنا رہا ہے۔ ان طیاروں کا جدید ورشن بھی دسمبر تک تیار ہو جائے گا اس سلسلے کو مزید آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

جہاں تک بھارت کا تعلق ہے وہ اسلحہ جمع کرنے کی دوڑ میں سرپٹ دوڑے جا رہا ہے۔فرانس سے جدید ترین رافیل طیارے خرید رہا ہے امریکہ سے بھی ہتھیار خرید رہا ہے بلکہ امریکہ کی اسلحہ ساز کمپنیاں بھارت میں کارخانے لگا رہی ہیں، اسی جنگی جنون نے بھارت کو سُپرسانک میزائل شکن میزائل بنانے پر آمادہ کیا۔ حالانکہ بھارت خطے کا بڑا ملک ہے اسے سلامتی کے کوئی مسائل درپیش نہیں، پاکستان کو تو خود سب سے بڑا خطرہ بھارت سے ہے جو ایک بار پاکستان کو دولخت کرنے میں کردار ادا کر چکا ہے مئی 1998ء میں بھارت نے ایٹمی دھماکہ بھی کر دیا جس کے جواب میں پاکستان کو ایٹمی تجربہ کرنا پڑا، اگر ایسا نہ کیا جاتا تو پاکستان کی سلامتی کے خطرات بڑھ جاتے، بھارت کی دھمکیوں کی وجہ سے پاکستان کو یہ راستہ اختیار کرنا پڑا، اب پاکستان کے ایٹمی ہتھیار ڈیٹرنس کا کام کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے 71ء کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کوئی بڑی جنگ نہیں ہوئی، کارگل کا بحران بھی محدود رہا اور کشمیر سے نکل کر عالمی سرحدوں تک نہیں پھیلا، پاکستان بار بار واضح کر چکا ہے کہ وہ نہ تو ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہے نہ کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے لیکن عجیب بات ہے اسلحہ کے انبار جمع کرنے والا بھارت آٹھ ایف 16 طیاروں سے خوفزدہ ہے اور اسی خوف کی نفسیات نے اسے واشنگٹن میں لابی کرکے اس سودے کو فسنح کرانا پڑا۔ بھارتی رویئے کے برعکس پاکستان نے کبھی بھارت کے ہتھیار جمع کرنے پر اعتراض نہیں کیا لیکن اس ضمن میں پاکستان کے متعلق بھارت کا رویہ ہمیشہ منفی رہا جس کا تازہ ترین مظاہرہ ایف 16طیاروں کی خریداری کے سودے کے وقت کیا گیا۔

امریکہ پاکستان سے ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ تو کرتا رہتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی دفاعی ضروریات کا خیال بھی رکھنا چاہیے۔ امریکہ اگر تسلیم کرتا ہے کہ ایف 16 طیارے پاکستان کی ضرورت ہیں تو امریکی انتظامیہ کو اس ضمن میں کانگرس کو بھی قائل کرنا چاہیے تھا اور ڈیل کا اسی طرح دفاع کرنا چاہیے تھا جس طرح ایران کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل کا کیا گیا۔ کانگرس ایران کے ساتھ اس ڈیل کے بھی حق میں نہیں تھی یہاں تک کہ کانگرس نے امریکی صدر کو بائی پاس کرکے اسرائیلی وزیراعظم کو خطاب کی دعوت دی جنہوں نے اپنے خطاب میں ایرانی قیادت کو رگیدا۔ کانگرس کے اوباما انتظامیہ کے مخالف ارکان نے تمام تر سفارتی نزاکتوں اور احترامات کو پاؤں تلے روندتے ہوئے ایرانی قیادت کو براہِ راست ایک خط بھی لکھ مارا جس میں ایران سے کہا گیا کہ وہ صدر اوباما کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل نہ کرے اور اگر ایسا کرے گا تو اوباما کے بعد آنے والا صدر اس ڈیل کو منسوخ کر دے گا، ان ارکان کانگریس نے یہ بات بھی ملحوظِ خاطر نہ رکھی کہ اس ڈیل میں ایران اور امریکہ اکیلے نہیں ہیں۔ 5دوسرے ممالک بھی فریق ہیں اسی لئے اس ڈیل کو ایران اور 5+1 کے درمیان ڈیل کا نام دیا گیا۔ صدر اوباما کو داد دینی چاہیے کہ وہ اس معاملے پر کانگرس کے سامنے ڈٹ گئے، وہ تو اس معاملے پر کانگرس کے فیصلے کو ویٹو کرنے کا اعلان بھی کر چکے تھے لیکن اس کی نوبت نہیں آئی، آ جاتی تو صدارتی ویٹو بھی بروئے کار آ جاتا۔ اب بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکہ اگر پاکستان کو ایف16 دینے پر تیار ہے تو کانگرس کو بھی قائل کیا جائے۔

مزید :

اداریہ -