وفاقی بجٹ 17۔2016ء کے لئے تجاویز

وفاقی بجٹ 17۔2016ء کے لئے تجاویز
 وفاقی بجٹ 17۔2016ء کے لئے تجاویز

  

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی تیسری حکومت کاچوتھا بجٹ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ 3جون، 2016 ء کو قومی اسمبلی میں پیش کریں گے ۔ گزشتہ سال انہوں نے مالی سال2015-16ء کے لئے جون 2015 ء میں موجودہ حکومت کا تیسرابجٹ پیش کیاتھا ،جس کے مقاصدیوں تھے۔ (i)مجموعی قومی پیداوار میں 5.5 فیصدبڑھوتری ہوگی۔ (ii) مالی خسارہ جی ڈی پی کا 4.3 فیصد ہوگا. (iii) صوبائی سرپلس .2.97 ارب روپے ہو گا. (iv) وفاقی ٹیکس3418 بلین روپے جمع کیا جائے گا. جس میں سے ایف بی آر ریونیو کا ہدف 3104 بلین،روپے ہو گا. (v) سرکاری شعبے میں کام کرنے والے اداروں کاخسارہ کم کیاجائے گا۔( vi) بہتر معاشی اشاریوں اور مالیاتی خسارے پر کنٹرول حاصل کرکے اقتصادی کمزوریوں پر قابو پایاجائے گا. (VII)۔ زر مبادلہ کے ذخائر 19 بلین ڈالر ہوں گے۔. (viii) جاری حسابات کا خسارہ جی ڈی پی کا 1 فیصد ہو گا. (ix) 15۔2014 کے مقابلے میں 2015-16ء میں برآمدات میں 5.5 فیصد اور درآمدات میں6فیصد اضافہ ہوگا. (Xi) 15۔2014 ء میں 991 ملین امریکی ڈالرکی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے مقابلے میں2015-16ء میں 3.3 بلین امریکی ڈالر ہو گی۔ (Xii) بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر 15۔2014ء میں 17.9 ارب امریکی ڈالر کے مقابلے میں 2015-16ء میں 18.9 ارب ڈالر ہو جائے گی. (Xiii) افراط زر کی شرح 6 فیصد ہو گی۔ (Xiv) قرض لینے پر کنٹرول کیاجائے گا اور کل قرض جون 2015ء میں جی ڈی پی کے62.9 فیصد کے مقابلے میں جون 2018ء تک جی ڈی پی کے 60 فیصد کی سطح تک لایا جائے گا ۔

ان اہداف کے حصول کے لئے عمل درآمد کا جب جائزہ لیاجائے تو صورت حال یوں بنتی ہے کہ :

*۔۔۔مینوفیکچرنگ کے شعبے کی اصل نمو 6 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں جولائی 2015ء سے اب تک 4 فیصد رہی ہے. بڑھوتری کی بجائے زرعی شعبے میں پیداوار میں کمی واقع ہوئی۔ رواں مالی سال میں کپاس، چاول اور گنے وغیرہ جیسی اہم فصلوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کمی واقع ہوئی۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں اجناس کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے پاکستان کی زراعت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ توانائی کے شعبے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں جولائی 2015 ء سے 3.9 فی صد کا برائے نام اضافہ ہوا ہے۔ رواں مالی سال میں گزشتہ سال کے مقابلے میں برآمدات میں 14.5 فیصد کمی ہوئی۔سروسز سیکٹر ،جوکہ جی ڈی پی کا 59 فیصد ہے ،میں ملے جلے رجحانات ظاہر ہوئے ۔ ہول سیل اور ریٹیل فروخت میں کمی ہوئی ہے، جبکہ ٹرانسپورٹ ، سٹوریج اور مواصلات وغیرہ میں کچھ اضافہ ہوا ہے ۔بیرونی سرمایہ کاری میں کچھ اضافہ ہوا۔ کیونکہ سی پی ای سی کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری بہتر ہوئی ۔ ترقی کے لئے غلط ترجیحات کے تعین کی وجہ سے زیادہ اخراجات سڑکوں اور پلوں وغیرہ کی تعمیر پرہوئے ،اعلیٰ تعلیم (20 فیصد) اور نیشنل ہیلتھ سروسز(34فیصد) پر اخراجات میں کمی واقع ہوئی، جبکہ. پانی کے شعبے میں اخراجات میں53 فیصد کمی ہوئی۔ اگرچہ بجلی کے شعبے میں اخراجات میں131 فیصد کا اضافہ ہوا لیکن اس میں سے بڑا حصہ ایل این جی کے بجلی منصوبوں پر خرچ ہو رہا ہے۔ افراط زر کنٹرول میں رہا ،اسی طرح غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر 19 ارب ڈالر سے آگے بڑھ گئے۔

افراط زر پر کنٹرول کے عوامل میں حکومتی کوششوں کی بجائے بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات اور اجناس کی قیمتوں میں کمی کاہاتھ ہے۔ اسی طرح سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ،برآمدات میں اضافہ اور دیگرحکومتی پالیسیوں کے اثرات کی بجائے قرضوں، سکوک بانڈزکی فروخت ، کولیشن سپورٹ فنڈسے حاصل ہونے والی رقوم اور باہر سے براہ راست امداد (سعودی عرب)کی وجہ سے ہے۔. بجٹ خسارے کا ہدف حاصل ہوجانے کا امکان ہے۔ ٹیکس آمدنی ہدف سے 30 ارب روپے کم ہونے کا امکان ہے۔ حکومت ٹیکس وصولی کے نظام کی بہتری میں بنیادی اصلاحات متعارف کرانے میں ناکام رہی ہے۔ بلاواسطہ ٹیکس بھی 67فیصد تک بالواسطہ ذریعہ یعنی ودہولڈنگ ٹیکس کے طور پر جمع کیاجارہاہے۔ قرضوں کے بوجھ میں جولائی 2015ء اور جنوری 2016ء کے درمیانی عرصے میں 1026بلین روپے کااضافہ ہوا ہے اور جنوری2016ء تک کل قرض 18174 بلین روپے سے زیادہ ہوگیا۔قرضوں کا بوجھ پاکستان کے مستقبل کے لئے سنگین خطرے کی گھنٹی ہے. معیشت کا بڑا حصہ غیر دستاویزی (undocumented) ہے اور پورا نظام کرپشن کے کینسر میں مبتلا ہے۔ حال ہی میں بلوچستان کے فنانس سیکرٹری کے گھر سے 63کروڑ روپے کی برآمدگی اورسابق وزیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم کے خلاف نیب کی طرف سے 430بلین روپے کرپشن کا ریفرنس آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے،جبکہ پاناما لیکس نے حکمران اشرافیہ اور دیگر بااثر گروہوں کی کرپشن کوبے نقاب کردیاہے۔اربوں روپے کرپشن اور کک بیکس کے ذریعے سے کمائی گئی دولت منی لانڈرنگ کے ذریعے سے بیرون ملک منتقل کرکے آف شور کمپنیاں بنائی گئیں اوریورپ ،امریکہ اور دوبئی وغیرہ میں جائیدادیں خریدی گئیں۔

*۔۔۔موجودہ اقتصادی صورت حال ، بدعنوانی کے اسکینڈلوں اور پانامہ پیپر لیکس کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ حکومت احتساب کے لئے مثبت اورٹھوس اقدامات کرے، تاکہ پاکستان میں یا پاکستان سے باہررکھی گئی دولت کوقومی خزانے میں واپس لایاجائے اور مجرموں کوکیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ حکومت عدالتی کمیشن کے قیام کے لئے مناسب قانون سازی کرے اور آئندہ بجٹ میں اس کو ترجیح اول بنایاجائے ۔ عدالتی کمیشن کے لئے ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آر)تمام جماعتوں کی مشاورت سے اتفاق رائے سے ترتیب دی جائیں اور عدالتی کمیشن کو مکمل طور پر با اختیار بنا کرایک محدود متعین مدت میں اپنا کام مکمل کرنے کاپابند بنایاجائے۔ علاوہ ازیں درج ذیل تجاویز وفاقی بجٹ میں شامل کرنے کے لئے وفاقی حکومت کے سامنے رکھی جاتی ہیں:

(i)مجموعی قومی پیداوار کی بڑھوتری کا ہدف 7 فیصد رکھاجائے، تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے روزگار مہیا ہوسکے۔ تینوں متعلقہ سیکٹرز یعنی صنعت ،زراعت اور سروسز میں یہ ہدف متناسب طریقہ سے تقسیم کردیاجائے اور پھر ساری توجہ اس ہدف کے حصول کے لئے لگائی جائے۔

(ii)ٹیکس مشینری اور ٹیکس وصولی کے نظام کی مکمل اصلاح کی جائے۔چھاپے مارنے کے فرسودہ طریقے کی بجائے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے خفیہ آمدنی اور چھپائے ہوئے اثاثوں کو بے نقاب کیاجائے۔ لوگوں کے بیرون ملک سفر ،بہت مہنگے تعلیمی اداروں میں بچوں کی تعلیم ، مہنگے ہسپتالوں میں علاج ،گاڑیوں اور دیگر جائیدادوں معہ شیئرز کی خرید و فروخت اور بجلی اور گیس کے بلوں کے ذریعے سے ایسا مربوط نظام ترتیب دیا جاسکتاہے، جس سے خفیہ آمدنی اور چھپائے ہوئے اثاثوں کو بے نقاب کرکے متعلقہ افراد /گروہوں سے ٹیکس وصول کیا جا سکتا ہے ۔

(iii) ٹیکس دستاویزات کو آسان فہم بنایاجائے اور آٹومیشن کے ذریعے واجب الاداٹیکس کاتعین کیاجائے۔ آڈٹ کے لئے بھی آٹومیشن سے کام لیاجائے۔

(iv)۔ٹیکسوں کے مقدمات اور ان کی اپیلوں کے نظام کو آٹومیشن اپنا کر سالہا سال تک لٹکانے کی بجائے چند مہینوں میں یہ کیس نمٹائے جاسکتے ہیں۔

(v) ایف بی آر کے لئے ریونیو کاہدف 4.5کھرب روپے سے کم نہیں ہونا چاہئے۔اس میں سے 65 فیصد براہ راست ٹیکس اور35فیصد بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے سے جمع کیاجائے۔ ٹیکس جی ڈی پی کا تناسب13فیصد ہدف رکھاجائے۔

(vi)برآمدات کے لئے 2016-17ء میں ہدف 40بلین ڈالر کا رکھاجائے جوکہ آسانی سے قابل حصول ہے۔اگر (i)متعلقہ شعبوں کو تسلسل کے ساتھ گیس اور بجلی کی سپلائی کو یقینی بنایاجائے۔(ii)گیس انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سرچارج ختم کیاجائے۔ (iii)تمام برآمدات کو ٹیکس کے حوالے سے زیرو ریٹ کیاجائے۔ (iv) ایکسپورٹرز کے ریفنڈ/ریبیٹ روکنے پر مکمل پابندی عائد کردی جائے۔(v) پاکستان کے بیرون ملک سفارت خانے اپنے اپنے متعین ملکوں میں ایسی پاکستانی مصنوعات /اشیاء کے لئے منڈیاں تلاش کریں جہاں ان مصنوعات /اشیاء کے لئے مانگ ہواور اس ضمن میں وہ ٹریڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اور فیڈریشن آف چیمبرزآف کامرس اینڈ انڈسٹری سے مسلسل رابطے میں رہیں ۔

(vii)حکومت بجٹ خسارے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو پورا کرنے کے لئے قرض لینے پر مکمل پابندی عائد کرے۔ قرض ،اگر لینے بھی ہوں ، تو صرف ترقیاتی کاموں اور معیشت میں پیداواری سرگرمیاں بڑھانے کے لئے خرچ کیے جائیں۔قرض کسی صورت بھی جی ڈی پی کا 60فیصد سے زیادہ نہ ہو۔

(viii)منظور شدہ بجٹ سے زیادہ رقم خرچ کرنے کے لئے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی پیشگی منظوری کی شرط عائد کردی جائے۔

(ix) حکومت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے کام میں ہر طرح کی مداخلت روکے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک خودمختار ادارے کی حیثیت سے آزادانہ طور پر کام کرنے دے۔

(x) کپاس زرعی شعبے اور ٹیکسٹائل سیکٹر دونوں کے لئے ایک بہت ہی اہم فصل ہے۔ کپاس کے غیر معیاری بیج اور متعلقہ اداروں کی ناقص کارکردگی نے کپاس کے کاشتکاروں اور ٹیکسٹائل سیکٹر دونوں کو ایک سنگین بحران میں لاکھڑا کیاہے۔ حکومت کو کاشتکاروں سے ٹیکسٹائل سیکٹر میں استعمال ہونے والی کپاس کی کوالٹی کے مطابق کپاس اگوانی ہے، تاکہ مقامی ٹیکسٹائل سیکٹر کی ضروریات کے لئے بیرون ملک سے کپاس درآمد نہ کرنی پڑے اور اضافی کپاس بین الاقوامی منڈی میں اچھی قیمتوں پر فروخت ہوسکے۔کپاس کی اہمیت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ ایک ملین گانٹھوں کے اضافے سے 1/2فیصد جی ڈی پی میں اضافہ ہوتاہے۔

(xi) اسی طرح پاکستان چاول، آم اور کینو وغیرہ کی بہترین اقسام پیدا کرتاہے۔ حکومتی نظام کے ذریعے اس سیکٹر کوترجیح دے کر برآمدات کے ذریعے سے کثیر تعداد میں زرمبادلہ کمایاجاسکتاہے۔

(xii) گزشتہ چند برسوں سے پاکستان اضافی گندم پیداکررہاہے، لیکن بین الاقوامی منڈی میں کم قیمت ہونے کی وجہ سے اضافی گندم برآمد نہیں ہو پارہی۔ سٹوریج میں کمی کی وجہ سے ملک کے اندر غیر محفوظ سٹوریج میں رکھی ہوئی گندم خراب ہو رہی ہے۔ گندم کی خریداری میں بینکوں سے لی گئی رقوم میں مسلسل اضافہ اس کے علاوہ ہے۔ اگر حکومت تمام متعلقہ سٹیک ہولڈر ز سے مشاورت کرکے درست حکمت عملی بنائے تو اضافی گندم ایکسپورٹ کرکے زرمبادلہ کمایاجاسکتاہے، جس سے اندرون ملک سٹوریج کی خرابی اور بینکوں کے قرضوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات سے بچاجاسکتاہے۔

(xiii) حکومت اگر مناسب ترجیح دے تو پاکستان سے آلو اور دیگر سبزیوں کی برآمد ات میں اضافہ کیاجاسکتاہے۔

(xiv) زرعی شعبے کو گزشتہ دو سال سے سنگین بحران کا سامنا ہے۔ حکومت کے اعلان کردہ 341بلین روپے کے زرعی پیکج،جوکہ اصل میں 148 ارب روپے کا تھا ،کے باوجود مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکے، کیونکہ 30فیصد سے زیادہ کپاس اور چاول کے کاشتکاروں کو فی ایکڑ 5000روپے کی نقد امداد نہیں مل سکی۔ اصل حل نقد گرانٹ دینے میں نہیں، بلکہ زرعی مداخل کو سستا کرناہے، جس کے لئے زرعی مداخل پر عائد سیلز ٹیکس کو ختم کردیاجائے تو مطلوبہ مقاصد حاصل ہوجائیں گے۔

(xvi) ریسرچ اور ڈیویلپمنٹ پر حکومتی توجہ بہت کم ہے۔ اس سیکٹر میں خرچ کرکے ایسے بیجوں کو حاصل کیاجاسکتاہے جو مخالف موسمی حالات کااثر قبول نہیں کرتے اور پیداوار متاثر نہیں ہوتی۔ ایسی زرعی ٹیکنالوجی اور مشینری کی ایجاد کی ضرورت ہے جو بالخصوص چھوٹے کسانوں کی پہنچ میں ہو،تاکہ گزارہ والی زراعت کی بجائے منڈی کے تقاضوں کے مطابق زراعت رواج پاسکے۔

(xvii) پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے سٹوریج ڈیموں کو بنانا ترجیح اول قرار دی جائے۔ 1974ء کے بعد پاکستان نے کوئی بڑا سٹوریج ڈیم نہیں بنایا۔ علاوہ ازیں کسانوں کو برسات کے موسم میں اضافی پانی کو سٹور کرکے چھوٹے چھوٹے سٹوریج بنانے کی ترغیب دی جائے، تاکہ خشک سالی کے موسم میں کسان سٹور کیے ہوئے پانی کو استعمال کرسکیں ۔

(xviii) قابل ٹیکس خالص زرعی آمدن کے تعین کے لئے 80,000 روپے کی چھوٹ دی جاتی ہے اور اس سے اضافی رقم کو قابل ٹیکس گردانا جاتاہے۔ یہ صریح زیادتی ہے اور کاشت کاروں کے ساتھ امتیازی سلوک ہے ۔باقی ٹیکس گزاران کی طرح زرعی آمدنی کو بھی اُتنی ہی رقم چھوٹ میں دی جائے ،جتنی باقی شعبوں کے ٹیکس گزاران کو دی جاتی ہے۔

(xix) تعلیم اور صحت جیسے سماجی شعبوں میں جی ڈی پی کے 2 فیصد یا اس سے بھی کم اخراجات کے نتائج تباہ کن ہیں۔ آئندہ بجٹ میں حکومت تعلیم و صحت کے شعبوں میں سے ہر ایک کے لئے جی ڈی پی کا کم از کم 6 فیصد مختص کرے۔ تعلیم کے اس وقت کئی نظام موجود ہیں،جن کے نتیجے میں طبقاتی کشمکش جنم لیتی ہے، اس لئے ضروری ہے کہ صرف ایک ہی نظام تعلیم اپنایاجائے اور سلیبس ہماری نظریاتی ضروریات اور معاشرتی تقاضوں کے پیش نظر بنایاجائے۔ سرکاری ہسپتالوں اور سرکاری سکولوں میں بھی اسی معیار کی سہولتیں فراہم کی جائیں جس طرح نجی ہسپتالوں اور نجی سکولوں مہیا کی جاتی ہیں۔

(xx) حکومت ہر حال میں اپنے اخراجات کم کرے اور اخراجات کو ذرائع آمدن کے مطابق رکھاجائے۔ قرض کی اگر ضرورت ہو تووہ پیداوار بڑھانے اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے خرچ ہو،ناکہ جاری اخراجات کو پوراکرنے کے لئے ۔

(xxi)دیہاتی اور شہری دونوں علاقوں میں ساری آبادی کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے بجٹ میں وسائل مختص کیے جائیں۔

(xxii) فاٹا/پاٹا میں آئی ڈی پیز اور ماضی میں تباہ کن سیلاب اور زلزلے کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی کی طرف خصوصی توجہ دی جائے اور 2016-17ء میں ان تمام افراد کو اپنے اپنے علاقوں میں آباد کیاجائے۔

(xxiii) فاٹا /پاٹامیں ایف سی آر کے نظام کوختم کرکے پاکستانی قوانین کے تحت لانے کے لئے اقدامات کیے جائیں۔

(xxiv) خدمات کے شعبے میں زیادہ توجہ عام آدمی کے لئے سستے، معیاری اور محفوظ سفر کویقینی بنانے پر دی جائے تا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنایاجا سکے۔

(xxiv) ہنر مند مزدور وں کی دستیابی بڑھانے کے لئے پیشہ ورانہ اور تکنیکی تربیتی اداروں کا قیام عمل میں لایا جائے، جبکہ، مزدور کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 20,000 روپے مقرر کی جائے۔

مزید :

کالم -