پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے چیف ایگزیکٹو اور ایم ایس کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر ایس ایچ او شادمان اور سی سی پی او لاہور سے جواب طلب

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے چیف ایگزیکٹو اور ایم ایس کیخلاف اندراج ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے چیف ایگزیکٹو ندیم حیات ملک اور ایم ایس محمد ثقلین کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر ایس ایچ او شادمان اور سی سی پی او لاہور سے جواب طلب کر لیا۔جسٹس انوارالحق نے ڈاکٹر ثمرہ مجید، ڈاکٹر جویریہ جاوید کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزاروں کے وکیل نوشاب اے خان نے موقف اختیار کیا کہ پی آئی سی انتظامیہ کی کرپشن کیخلاف ڈاکٹرز پرامن احتجاج کر رہے تھے کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکاروں اور ایم ایس کی جانب سے بھجوائے گئے کرائے کے غنڈوں نے ڈاکٹرز کو تشدد کا نشانہ بنایا، خواتین ڈاکٹرز کو بالوں سے پکڑ کر سڑک پر گھسیٹا اور انکی بے حرمتی کی، پولیس متاثرہ ڈاکٹرز کی درخواست پر مقدمہ درج نہیں کر رہی۔انہوں نے بتایا کہ اعلی عدلیہ کے فیصلے موجود ہیں کہ ایک ہی واقعہ کے ایک سے زائدمقدمات درج ہو سکتے ہیں لہذا ڈاکٹروں پر تشدد میں ملوث پنجاب کارڈیالوجی کے چیف ایگزیکٹو، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمے کا حکم دیا جائے، ابتدائی سماعت کے بعد عدالت نے ایس ایچ او شادمان اور سی سی پی او لاہور سے 26مئی تک جواب طلب کر لیاہے۔

مزید :

علاقائی -