پروفیسر اصغر اقبال کیخلاف مبینہ طور پربلاجواز انکوائریاں کرنے اور انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانے کے معاملے پر وائس چانسلر مجاہد کامران سے 19مئی تک جواب طلب

پروفیسر اصغر اقبال کیخلاف مبینہ طور پربلاجواز انکوائریاں کرنے اور انتقامی ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ کشمیریات کے پروفیسر اصغر اقبال کے خلاف مبینہ طور پربلاجواز انکوائریاں کرنے اور انہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانے کے معاملے پر وائس چانسلر مجاہد کامران سے 19مئی تک جواب طلب کر لیاہے۔جسٹس شاہد وحید اور جسٹس علی اکبر قریشی پر مشتمل دورکنی بینچ نے کیس کی سماعت شروع کی تو پروفیسر اصغر اقبال کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر اصغر اقبال نے کشمیر کے موضوع پر سرکاری ٹی وی کے ایک پروگرام میں شرکت کی اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی کشمیر پالیسی پر نظر ثانی کرے اور کشمیری لیڈر شپ کے ساتھ مل کر کشمیر پالیسی بنائی جائے۔ پروگرام کے اختتام پر ان سے پروگرام کی میزبان اور پروڈیوسر نے بدتمیزی کی اور وائس چانسلر کو درخواست گزار کے خلا ف ای میل کر کے کارروائی کا مطالبہ کیا، درخواست گزار کے وکیل نے مزید موقف اختیار کیا کہ وائس چانسلر نے معاملہ کی تحقیق کئے بغیر انہیں شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید انکوائری کی دھمکی بھی دے دی ،ڈاکٹر اصغر اقبال نے اس شوکاز نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں آئین آزادی اظہاررائے کی اجازت دیتا ہے اور وہ کسی کے کہنے پر اپنے موقف سے نہیں ہٹ سکتے ،اس کے بعد وائس چانسلر نے ڈاکٹر سردار اصغر اقبال کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا اور انہو ں نے ڈاکٹر سردار اصغر اقبال کو فوری طور پر ہاسٹل کی سپرنٹنڈنٹ شپ سے الگ کرنے کا حکم جاری کر تے ہوئے ایک ہفتہ کے اندر گھر خالی کرنے کاکہا، انہوں نے استدعا کی کہ درخواست گزار کے خلاف بلاجواز انکوائریاں روکنے کا حکم دیا جائے۔

مزید : علاقائی