لاہور تعلیمی بورڈ کی پیپر چیکنگ کی پالیسی قانون سے متصادم ہے،ہائیکورٹ

لاہور تعلیمی بورڈ کی پیپر چیکنگ کی پالیسی قانون سے متصادم ہے،ہائیکورٹ

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ بادی النظر میں لاہور تعلیمی بورڈ کی پیپر چیکنگ کی پالیسی قانون سے متصادم ہے،تعلیم کا حصول ہر شہری کا بنیادی حق ہے،عدالتیں طالب علموں کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کریں گی۔مسٹرجسٹس سید منصور علی شاہ نے یہ ریمارکس علی یاور نامی طالب علم کی درخواست کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل کو مخاطب کرکے دیئے ۔درخواست گزار کا موقف ہے کہ لاہور بورڈنے ایف اے کے انگریزی کے مضمون میں اسے قوانین کے برعکس کم نمبر دئیے جس سے طالبعلم پوزیشن میں پیچھے رہ گیاہے،انہوں نے کہا کہ پیپر چیکنگ کی یکساں پالیسی نہ ہونے سے طالب علموں سے امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے،لاہور بورڈ کے قانونی مشیر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ طالب علم نے 5 سطروں کے مختصر سوال کا 7سطروں میں جواب دیا جس کی وجہ سے اس کا ایک نمبر کاٹ لیا گیا،عدالتی حکم پر طالب علم کے انگریزی کے پرچے کو کمرہ عدالت میں کھولا گیا، عدالت نے پیپر کا جائزہ لینے کے بعد ریمارکس دیئے کہ دو سطریں زیادہ لکھنے سے ممتحن نے کس قانون کے تحت 50فیصد نمبر کاٹ لئے،عدالت نے لاہور بورڈ کے قانونی مشیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پیپر آپ اور ہم بھی دیتے رہے ہیں مگر کسی طالب علم کو ایک دو سطریں زیادہ لکھنے کی یہ سزا تو نہیں دی جا سکتی کہ اس کے 50فیصد نمبر ہی کاٹ لئے جائیں،عدالت نے لاہور بورڈ کے کنٹرولر امتحانات کو طالب علم کی درخواست کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنے کی ہدائت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

مزید : علاقائی