کچا پلاٹ کی رہائشی خاتون نے 9 ماہ قبل اغواء ہونیوالی جواں سالہ بیٹی کی بازیابی کیلئے لاہور ہائیکورٹ پہنچ کرمیڈیا سے مدد مانگ لی

کچا پلاٹ کی رہائشی خاتون نے 9 ماہ قبل اغواء ہونیوالی جواں سالہ بیٹی کی ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)رائیونڈ سٹی کے علاقے کچا پلاٹ کی رہائشی بزرگ خاتون نے 9 ماہ قبل اغواء ہونے والی جواں سالہ بیٹی کی بازیابی کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے بعدانصاف کے لئے لاہور ہائیکورٹ پہنچ کرمیڈیا سے مدد مانگ لی۔55سالہ شیماں بی بی کا کہنا ہے کہ اس کی بیٹی نسرین بی بی کو ستمبر 2015ء میں ملزم محمد رفیق، حنیف اور علی شیر نے اغواء کیا جس مقدمہ چک بیدی پاکپتن میں درج ہے، خاتون نے مزید کہا کہ9ماہ گزرنے کے باوجود اس کی بیٹی کو پولیس بازیاب نہیں کرا سکی ہے، ملزموں نے ہائیکورٹ سے ضمانتیں کرا رکھی ہیں، پولیس ضمانتیں منسوخ کرانے کے لئے کوئی اقدامات کر رہی ہے اور نہ ہی بیٹی کو بازیاب کرایا جا رہا ہے، خاتون نے بتایا کہ پولیس کی پشت پناہی پر ملزم پارٹی مقدمے کی پیروی کرنے پر انہیں دھمکیاں دے رہی ہے، بیٹی کی بازیابی کے لئے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے کئی چکر لگائے مگر انصاف نہیں ملا، اب وزیر اعلیٰ ہاؤس کا عملہ چہرہ دیکھتے ہی آگ بگولہ ہوجاتا ہے اور انہیں دھکے دے کر وزیر اعلیٰ ہاؤس سے نکال دیا جاتا ہے، ملزموں کے خوف اور دھمکیوں کی وجہ سے آبائی علاقہ چھوڑ کر لاہور منتقل ہو گئی ہوں، خاتون نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے اپیل کی ہے کہ اس کی بیٹی کو بازیاب کرایا جائے اور ملزموں کی ضمانتیں منسوخ کی جائیں۔

مزید :

علاقائی -