نجی سکولز مالکان نے چھٹیوں کی ماہ کی یکمشت فیسیں وصول کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا

نجی سکولز مالکان نے چھٹیوں کی ماہ کی یکمشت فیسیں وصول کرنے کا سلسلہ شروع کر ...

  

لاہور(لیاقت کھرل) صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں نجی سکولز مالکان نے موسم گرما کی چھٹیوں سے تقریباً ایک ماہ قبل میں 4ماہ کی یکمشت فیسیں وصول کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور بچوں کے والدین کی کھال اتارنے کے لئے ایلیٹ سکولز، اسے پلس کیٹگریز، اور اسے کیٹگریز سکولز مالکان کی جانب سے موسم گرما کی چھٹیوں کے دوران سکولز بند ہونے کے باوجود سکیورٹی چارجز سمیت مختلف قسم کے ٹیکس اور چارجز بھی فیسوں کے ساتھ وصول کرنے کا انکشاف سامنے آیا ہے اور فیسوں کی وصولی کیلئے ووچرز اور سلپس کارڈز جاری کر دیئے گئے ہیں، ڈسٹرکٹ رجسٹریشن اتھارٹی(ڈی سی اوز) اور محکمہ تعلیم کے ضلعی سربراہوں ای ڈی اوز نے پنجاب اسمبلی سے پاس ہونے والے نئے قانون کے تحت سکولوں کی رجسٹریشن منسوخ جرمانے مقدمات درج کرنے اور قید کی سزائیں دینے کے لئے کارروائی کرنے کی بجائے آنکھیں بند کر رکھی ہیں جس پر والدین سراپا احتجاج بن کر رہ گئے ہیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے نئے قانون کے تحت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے، ’’پاکستان‘‘ کو محکمہ تعلیم کے ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق لاہور سمیت پنجاب بھر میں پرائیویٹ سکولز کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے قریب بتائی گئی ہے جس میں پچاس ہزار 751 سکولز رجسٹرڈ ہیں جن میں ایلیٹ سکولز، اے پلس کیٹگریزی اور اے کیٹگریزی سکولز کی تعداد سینکڑوں میں بتائی گئی ہے جو کہ ا رجسٹرڈ ہونے کے باوجود لوٹ مار میں لگے ہوئے ہیں اور اس میں لاہور میں 15ہزار کے قریب سکولز ہیں جن میں بھی ایلیٹ سکولز اور اے پلس اور اے کیٹگریز سکول بتائے گئے ہیں ۔کئی سالوں سے رجسٹرڈ تک نہ ہیں اور جو کہ اسی میں صرف 65سو 59سکولز رجسٹرڈ ہیں، پنجاب اسمبلی سے پاس ہونے والے نئے قانون 2016ء کے مطابق پرائیویٹ سکولز مالکان پر فیسوں میں خود بخود اضافہ کرنے پر پابندی اور سکولوں کی رجسٹریشن نہ کروانے پر 20ہزار روزانہ کے حساب سے جرمانہ جبکہ سکولز مالک کے خلاف مقدمہ درج ہو سکتا ہے ، اس میں ڈی سی اوز کو ڈسٹرکٹ رجسٹریشن اتھارٹی کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں، جس میں ڈی سی اوز کو ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کروانے کا پابند بتایا گیا ہے، ذرائع نے بتایا ہے کہ اس میں لاہور کے 140سکولوں سمیت پنجاب بھر کے 1000سکولوں کے مالکان کو اضافی فیس وصول کرنے پر نوٹس بھی جاری کئے گئے ہیں اس کے باوجود موسم گرما کی چھٹیوں سے قبل ہی سکولز مالکان نے 4ماہ کی یکمشت فیسیں وصول کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ سکولز مالکان کو اس میں ڈسٹرکٹ رجسٹریشن اتھارٹی (ڈی سی اوز) کی ٹیموں کے ارکان اور ای ڈی اوز کی مبینہ سرپرستی حاصل ہے، جس کے باعث غربت اور مہنگائی کے مارے بچوں کے والدین کی کھال اتارنے کے لئے چھری کو تیز کر رکھا گیا ہے اور ڈسٹرکٹ رجسٹریشن اتھارٹی (ڈی سی اوز) اور محکمہ تعلیم کے ضلعی سربراہوں(ای ڈی اوز) نے مبینہ طور پر اپنا حصہ ملنے پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور محض معمولی نوعیت کی کارروائی کر کے اوپر سب اچھے کی رپورٹ پیش کی جا رہی ہے ۔جس کے باعث سکولز مالکان کی لوٹ مار ایک مرتبہ پھر عروج پر پہنچ چکی ہے جبکہ اسی حوالے سے محمکہ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ ڈی سی اوز کی ٹیموں کے ہمراہ چھاپے مارے جا رہے ہیں، 500کے قریب سکولوں کے مالکان کو نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں، جس میں لاہور میں 140سکولوں کے مالکان کو شو کاز نوٹس جاری کئے گئے ہیں، جبکہ ای ڈی او تعلیم لاہور طارق رفیق کی کہنا ہے کہ اضافی فیس وصول کرنے پر پابندی اور سکولوں کی رجسٹریشن منسوخ جرمانے اور اس کے

مزید :

صفحہ آخر -