نواز شریف کی تقریر سے 70نئے سوالات پیدا ہو گئے ،دستاویزی ثبوت پیش کرتے ،متحدہ اپوزیشن کا واک آؤٹ

نواز شریف کی تقریر سے 70نئے سوالات پیدا ہو گئے ،دستاویزی ثبوت پیش کرتے ،متحدہ ...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اپوزیشن نے وزیراعظم نوازشریف کے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کے بعد قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کر دیاہے۔قومی اسمبلی میں وزیراعظم نوازشریف کے خطاب پر اظہار خیال کرتے ہوئے خورشید نے کہا کہ انہوں نے آف شور کمپنی اور لندن فلیٹس کے بارے میں انتہائی معصومانہ سات سوالات پوچھے تھے لیکن وزیراعظم نوازشریف جدہ اور دبئی کو لے آئے ہیں ،نوازشریف کی تقریر سے 70نئے سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔خورشید شاہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے سوالات کے جواب نہیں دئیے ،اب ساری باتیں عوام کے سامنے ہیں اور عوام ہی فیصلہ کریں گے۔ان کا کہناہے کہ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کے خطاب کے بعد اب عوام جج کا کردار ادا کرتے ہوئے فیصلہ کریں گے ۔قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کے خطاب کے بعد پارلیمنٹ کے باہر متحدہ اپوزیشن کے ساتھ میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ پاناما لیکس کے انکشافات کے بعد اپوزیشن نے وزیر اعظم کو وضاحت کیلئے موقع دیا لیکن وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں اپوزیشن کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے بہت سے نئے انکشافات کردئیے۔انہوں نے کہا کہ شاید وزیر اعظم کے پاس اپوزیشن کے سوالوں کا جواب نہیں تھا اس لیے وہ اپنی وضاحت میں ایسی باتیں کر گئے جن کا ذکرا فسانے میں نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی وضاحت سے اپوزیشن کے سات سوالات ستر سوالوں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔خورشید شاہ نے کہا وزیراعظم کے خطاب کے بعد محسوس کیا کہ ہم ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے کے بجائے میڈ یا کے ذریعے عوام میں جائیں گے،عوام آج کے ایونٹ کے بہترین جج ہیں اوراب وہی فیصلہ کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اپو زیشن کا اجلاس آج بلا یا گیا ہے جس میں اگلے لائحہ عمل پر بات چیت کی جائے گی ۔دوسری طرف تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے وزیر اعظم سے جو سات سوالات کیے ان کے جواب میں وزیر اعظم کو لمبی لمبی کہانیاں سنانے کے بجائے دستاویزی ثبوت پیش کرنے چاہیے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے جو لندن میں فلیٹ خریدا اس کے دستا ویزی ثبوت پارلیمنٹ میں لے کر آیا تھا ،اسی طرح وزیر اعظم بھی مختصر جواب دیتے اور دستاویز ی ثبوت پیش کرتے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کے خطاب میں کوئی سچائی نہیں تھی اور وہ میرے حوالے سے گفتگو کرتے رہے۔قومی اسمبلی کے باہر متحدہ اپوزیشن کے ساتھ میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہوں نے 2005میں لندن میں فلیٹ خریدا جبکہ انہوں نے پہلا فلیٹ1993میں ،دوسرا اور تیسرا فلیٹ1995میں ،چو تھا فلیٹ 1996میں اور پانچواں فلیٹ2004میں خریدا۔ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندن کی جانب سے بیرون ملک خریدے گئے فلیٹوں کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔عمران خان نے کہا کہ وزیر اعظم نے اپنے بیٹوں کی آف شور کمپنیوں کا بتا یا لیکن مریم نواز کی آف شور کمپنی کا ذکر نہیں کیا ،نواز شریف نے 2011میں جو ٹیکس ریٹرن جمع کرائے اس میں کہا گیا کہ مریم نواز مجھ پر منحصر ہیں جبکہ مریم نواز دو آف شور کمپنیوں کی مالک ہیں۔انہوں نے کہ نواز شریف نے 1981سے 1993تک جو ٹیکس ریٹرن جمع کرائے ان کے مطابق نواز شریف کی ماہانہ آمدنی 26ہزار تھی اور وہ 80ہزار سالانہ ٹیکس دیتے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ اب پاکستان بدل چکا ہے ،اب یہ چیزیں نہیں چھپ سکتی بلکہ اب نواز شریف کی مزید جائیدادیں نکلیں گی ۔

مزید : صفحہ اول