متفقہ ٹی او آرز کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے،الگ الگ پیمانہ نہیں چلے گا ،سب کو ایک ہی ترازو میں تلنا ہو گا :نواز شریف

متفقہ ٹی او آرز کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے،الگ الگ پیمانہ نہیں چلے گا ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ میرے پاس نہ چھپانے کیلئے پہلے کچھ تھا نہ آج ہے ، میرے خاندان کے صنعتی اور کاروباری اداروں نے گزشتہ 23 سال کے دوران تقریبا10 ارب روپے کے ٹیکس اور حکومتی محصولات کی شکل میں ادا کئے جبکہ 15 برس میں ذاتی طور پر تین کروڑ 60 لاکھ روپے ٹیکس ادا کر چکا ہوں۔ آج عالی شان گاڑیوں میں گھومنے، بڑے بڑے قطعہ ہائے زمین پر پھیلے محلات میں رہنے والے، ہیلی کاپٹروں اور جہازوں میں سفر کرنے والے مناسب سمجھیں تو وہ بھی اس ایوان اور قوم کو آگاہ کریں کہ ان کے سفر کا آغاز کیسے ہوا، معاملہ اب ایسے ہی ختم نہیں ہو گا، بات چل نکلی ہے تو اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جانا چاہئے۔ سپیکر قومی اسمبلی اپوزیشن کی مشاورت کیساتھ ایک کمیٹی بنائیں جو متفقہ اور جامع ٹی او آرز تشکیل دیں اور پھر کمیشن بنے جس کے سامنے اپنی تمام تر تفصیلات پیش کر دوں گا۔قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں ایک رپورٹ منظرعام پر آئی جسے پانامہ پیپرز کا نام دیا گیا اور اس میں پانامہ میں قائم آف شور کمپنیوں کی نشاندہی کی گئی جس سے پاکستان کے شہریوں اورپاکستان سے تعلق رکھنے والے سمندر پار پاکستانیوں کا تعلق بتایا گیا۔ اس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ان کمپنیوں کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کوئی شخص بدعنوانی کا مرتکب ہوا ہو۔ اس رپورٹ میں میرے 2 بیٹوں کا ذکر بھی آیا جو گزشتہ کئی برسوں سے وہاں مقیم ہیں اور وہاں کے قوانین اور ضابطوں کے تحت دیگر پاکستانیوں کی طرح اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔ میرے رفقاء کی رائے تھی کہ چونکہ پانامہ پیپرز میں میرا کہیں ذکر نہیں اس لئے مجھے پہل کرنے اور خود کو احتساب کیلئے پیش کرنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن میرا اپنا ردعمل یہ تھا کہ اگرچہ میری ذات کا ان پیپرز سے تعلق نہیں لیکن چونکہ میرے خاندان کا ذکر آیا ہے اس لئے یہ معاملہ ایک خودمختار اور بااختیار کمیشن کے سپرد کر دینا چاہئے جو حقائق سامنے لائے۔ میں نے اپوزیشن کی طرف سے کسی مطالبے سے بھی پہلے قوم سے خطاب کیا اور سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج صاحبان کی سربراہی میں کمیشن کے قیام کا اعلان کیا۔ میں پختہ ریقین رکھتا ہوں کہ اپنی زندگیاں انصاف کے اعلیٰ ترین ایوانوں میں گزارنے والے جج صاحبان ریٹائرڈ ہونے کے بعد بھی امانت و دیانت کے ساتھ منصفانہ اور غیر جانبدانہ طریقے سے بے لاگ انصاف کے تقاضے پورے کر سکتے ہیں لیکن مجھے افسوس ہے کہ مثبت ردعمل کے بجائے سابق جج صاحبان کو نشانہ بناتے ہوئے ایسا ماحول پیدا کر دیا گیا کہ نہایت اچھی شہریت کے حامل سابق چیف جسٹس صاحبان کیلئے کمیشن کی سربراہی قبول کرنا مشکل ہو گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس کے بعد پھر ایک کمیٹی قائم کرنے کی تجویز سامنے آئی جس پر حکومت نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا لیکن اس کے باوجود پیش رفت نہ ہو سکی۔ پھر ایف آئی اے سے تحقیقات کرانے کا کہا گیا اور یہ مطالبہ بھی تسلیم کرتے ہوئے اپوزیشن سے کہا کہ اپنے اعتماد کے افسران کو نامزد کر دیں لیکن اس پیشکش کو بھی نظرانداز کر دیا گیا۔ پھر واحد مطالبہ یہ آیا کہ صرف سپریم کورٹ کے جج صاحبان پر مشتمل کمیشن کو ہی قبول کیا جائے گا جس کی سربراہی چیف جسٹس خود کریں۔ میں نے 22 اپریل کو قوم سے خطاب کے دوران یہ مطالبہ بھی تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا اور مجھے یقین تھا کہ واحد مطالبہ تسلیم کئے جانے پر اپوزیشن مطمئن ہو جائے گی اور تحقیقات کے نتائج کا اعلان کرے گی لیکن اس کے بعد ٹی او آرز کو متنازع بنا دیا گیا اور پھر اپوزیشن کی جانب سے 15 ٹی او آرز پیش کئے گئے۔ میڈیا ان ٹی او آرز کا جائزہ لے چکا ہے اور قانونی ماہرین بھی دیکھ چکے ہیں اور شائد ہی کسی پاکستانی کو اس پر شک ہو کہ اپوزیشن کی ٹی او آرز بدعنوانی او ر کرپشن کے بجائے صرف ایک شخص کے گرد گھومتے ہیں اور وہ میں ہوں۔ اس کے بعد ان ٹی او آرز کی مزید تشریح کرتے ہوئے کہا گیا کہ جہاں جہاں وزیراعظم کا لفظ آئے گا اس کا مطلب نواز شریف لیا جائے گا۔ ان ٹی او آرز کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جن افراد کا پانامہ پیپرز میں ذکر نہیں اس پر کمیشن کے قیام اور تحقیقات سے پہلے ہی باضابط فردجرم عائد کر دی گئی۔ میں ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ حکومت معاملے کی بلاتاخیر اور فوری تحقیقات چاہتی ہے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں کشمکش کی صورتحال ہوں اور دنیا میں ایک بار پھر تماشا بنے۔ ایسے معاملات میں تاخیر ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہوتی اس لئے ملکی ترقی کی جانب توجہ مبذول رکھنے کیلئے معاملے کی چھان چاہتے ہیں۔ ہم کسی مسئلے اور بات کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہتے اور پاکستان کی انا کا پرچم بلند رکھنا چاہتے ہیں۔ہمارا دامن صاف ہے اور آئینی و قانونی استثنیٰ کی ضرورت نہیں ، ہم یکطرفہ اورانتقامی احتساب کے عمل سے کئی بار گزر چکے ہیں اور آج بھی اس عمل سے گزرنے کیلئے تیار ہیں۔ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ بدعنوانی، اختیارات سے ناجائز پردہ اٹھانے، ٹیکس چوری کرنے، کک بیکس لینے اور غیر قانونی طور پرپیسہ باہر بھیجنے اورسیاسی اثر و رسوخ سے اربوں روپے کے قرضے معاف کرانے والوں کی اصل کہانی بھی ایوان کے سامنے آ جائے۔ اگر ایک میڈیا رپورٹ کو کسی تحقیق کے بغیر سیاسی عداوت،شک اور بدگمانی کی بنیاد پر بدعنوانی اور جرم قرار دیدیا گیا ہے تو ان دستاویز اور مستند ریکارڈ کو کیوں نہ دیکھا جائے جن میں ٹھوس ثبوتوں کے انبار لگے ہیں۔ ایوان کی توجہ نہایت اہم بات کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ یہ ایوان احتساب کے موثر اور جامع نظام پر غور کرے جو میثاق جمہوریت کی ایک اہم شق ہے جس پر محترمہ بینظیر بھٹو شہید اور میں نے 10 سال پہلے دستخط کئے تھے اور دیگر جماعتوں نے بھی اس کی توثیق کی تھی۔ اس ایوان میں ایسی مشاورت کا اہتمام کریں جو مروجہ نظام احتساب کی کمزوریوں پر نظر رکھتے ہوئے جامع نظام وضع کرے جس پر پوری قوم کو اعتما ہوں جس کی وجہ سے بہتان تراشی اور الزام لگانے کے کلچر کو ہمیشہ ختم کر دے۔وزیراعظم نے کہا کہ کسی پر الزام لگانے سے سیاستدان ہی بے اعتبار نہیں ہوتے بلکہ سیاست بھی بے وقار ہو جاتی ہے اور جب سیاست بے وقار ہو جائے تو جمہویت بھی بے توقیر ہو جاتی ہے۔ ایک مطالبہ یہ بھی سامنے آیا کہ پارلیمینٹ میں آ کر حقائق پیش کر دوں تو معاملہ ختم ہو جائے گا۔ یہ معاملہ اب یوں ختم نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اسے ایسا ہونا چاہئے، بات چل ہی نکلی ہے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ضرور ہونا چاہئے اور قوم کو اصل حقائق کا پتہ چلنا چاہئے۔ میرے دل میں پارلیمینٹ کی بہت عزت ہے، یہ ایوان 20 کروڑ عوام کی نمائندگی کرتا ہے، یہ ایوان آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کی تابندہ علامت ہے۔ شاہراہ دستور پر دیئے گئے دھرنوں کے دوران ایوان کا کردار ایک سنہری باب ہے اور اس ایوان کا نمائندہ ہونا میرے لئے بھی اعزاز کا باعث ہے۔ سب کچھ کھلی کتاب کی طرح ہے، میرے پاس نہ چھپانے کیلئے پہلے کچھ تھا نہ آج ہے ، میرا خاندان واحد خاندان ہے جس نے سیاست میں کچھ بنایا یا کمایا نہیں البتہ گنوایا ہے۔ میں کاروبار سے سیاست میں داخل ہوا، سیاست سے کاروبار میں نہیںآیا۔ میں ایسی باتوں سے گریز کرنا چاہتا ہوں لیکن دوسروں پر کیچڑ اچھالنے والوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ بطور وزیراعظم اور وزیراعلیٰ عوامی فلاح و بہبود کے کام کرنے والے کئی اداروں کو مفت سرکاری زمینیں دی ہوں گی، مالی گرانٹس دی ہوں گی، مشینری کی درآمد میں ٹیکسوں کی چھوٹ دی ہوگی۔ ہمارے خاندان کے زیر انتظام چلنے والے اتفاق ہسپتال اور شریف میڈیکل کمپلیکس بڑے رفاہی ادارے ہیں لیکن ان کے لئے ایک انچ سرکاری زمین اور مالی گرانٹ نہیں دی گئی اور نہ ہی کوئی اور رعایت دی گئی ہے۔ کیا کرپشن کرنے اور سرکاری وسائل سے تجوریاں بھرنے والوں کا طرز عمل ایسا ہی ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خاندان کے کاروبار کی تفصیلات ایوان کو بتاتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے میرے خاندان کے کاروبار کی کہانی محنت، مشقت اور عزم و ہمت و رزق حلال کیلئے جدوجہد کی کہانی ہے جس میں قرضہ، چوری، کمیشن، کک بیکس، پرمٹ، یا کسی بھی قسم کی خیانت کا شائبہ تک نہیں۔ہم نے کسی بھی کاروبار کیلئے حاصل کئے گئے قرضوں کی پائی پائی ادا کی ہے۔ ہمارے کاروبار کا آغاز قیام پاکستان سے 11 سال اور آج سے 80 برس قبل اتفاق فا?نڈری سے ہوا جس کا سب سے قیمتی اثاثہ میرے والد محترم کا اللہ پر پختہ ایمان، محنت دیانت اور امانت تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کاروبار نے ترقی کی اور 1970ء4 تک اتفاق فا?نڈریز کو پاکستان میں سٹیل اور انجینئرنگ کی سب سے بڑی صنعت کا مقام مل چکا تھا لیکن 1972ء میں حکومت وقت نے انہیں قبضے میں لے کر نیشنلائز کر دیا اور ہمیں مشینری، زمین اور دیگر اثاثوں کے معاوضے کے طور پر ایک پیسہ بھی ادا نہیں کیا گیا۔ اس سے قبل اتفاق فاؤنڈری کا منافع کروڑوں روپے میں تھا اور نیشنلائزیشن کے وقت سالانہ ٹرن اوور ساڑھے چار کروڑ روپے تھا۔ اس کے پاس ایک کروڑ اسی لاکھ کے سٹاکس موجود تھے اور فیکٹری کی زمین سات سو کنال پر پھیلی ہوئی تھی۔ میں 44 سال پہلے کا ذکر کر رہا ہوں، جب ڈالر کی قیمت چار روپے، سی ایس پی افسر کی تنخواہ پانچ سو روپے ماہانہ تھی اور سونا صرف 155 روپے فی تولہ تھا۔ یہ سارے حقائق اس دور سے تعلق رکھتے ہیں جب میرا یا میرے خاندان کے کسی فرد کا سیاست سے دور تک کوئی وابطہ نہ تھا۔ 8 سال بعد اتفاق فا?نڈریز ہمیں واپس کی گئیں تویہ کھنڈر بن چکی تھیں، مشینری ناکارہ ہو چکی تھی، کروڑوں روپے منافع کمانے والی انڈسٹری چھ کروڑ روپے سالانہ خسارے میں تھی۔ میرے والد محترم نے تباہ حال ڈھانچے کو ایک بار پھر آباد کیا، ان کی محنت اور مشقت کا نتیجہ تھا کہ ایک سال کی قلیل مدت میں بے جان ڈھانچہ فعال صنعتی یونٹ بن گیا۔ یہ تفصیل ان لوگوں کیلئے پیش کر رہا ہوں جو حقائق کو جان بوجھ کر جھٹلا رہے ہیں۔ میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ سیاست کے میدان میں قدم رکھنے سے پہلے میری اور خاندان کی مالی حالت اچھی تھی۔ مجھے وراثت میں کامیاب ترقی کرتا اور پھلتا پھولتا کاروبارملا جسے محنت اور اللہ پر یقین کے ساتھ آگے بڑھایا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پوری دیانت داری کے ساتھ کاروبار کی تفصیل بیان کر دی ہے لیکن آج عالی شان گاڑیوں میں گھومنے، بڑے بڑے قطعہ ہائے زمین پر پھیلے محلات میں رہنے والے، ہیلی کاپٹروں اور جہازوں میں اڑنے والے مناسب سمجھیں تو اس ایوان اور قوم کو آگاہ کریں کہ ان کے سفر کا آغاز کیسے ہوا، 70 اور 80 کی دہائی میں وہ کہاں کھڑے تھے اور آج ان کی شاہانہ زندگی کے ذرائع آمدن کیا ہیں، کچھ لوگ یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ ہم ٹیکس نہیں دیتے، میں صرف اتنا بتا دوں کہ میرے خاندان کے صنعتی اور کاروباری اداروں نے گزشتہ 23 سال کے دوران تقریبا10 ارب روپے کے ٹیکس اور حکومتی محصولات کی شکل میں ادا کئے، اس کی پوری تفصیل ایف بی آر کے ریکارڈ میں شامل ہیں اور میں یہ تفصیل سپیکر قومی اسمبلی کی خدمت میں بھی پیش کر رہا ہوں۔ میرے ذاتی ٹیکس کے حوالے سے بھی بے بنیاد کہانیاں تراشی گئیں، میں گزشتہ 23 برس کے دوران 8 برس جبری جلاوطنی میں تھا باقی 15 برس میں ذاتی طور پر تین کروڑ 60 لاکھ روپے ٹیکس ادا کر چکا ہوں، یہ تفصیل بھی سپیکر کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ اس موقع پر وزیراعظم نے لندن میں فلیٹس سے متعلق بھی ایوان کو بتایا اور کہا کہ میں اب آتا ہوں لندن فلیٹس کے بارے میں من گھڑت کہانیوں اور بے سروپا افسانوں کی طرف۔ کاش یہاں اسلام کی تعلیمات کے مطابق بغیر تحقیق الزام لگانے کا کلچر عام نہ ہوا ہوتا، 1972ء میں اتفاق فاؤنڈریز کو ایک پیسہ معاوضہ دیئے بغیر نیشنلائز کیا گیا تو پاکستان کے بہت سے دوسرے کاروباری حضرات اورصنعت کاروں کی طرح ہمارے والد کے سامنے بھی یہ سوال آ کھڑا ہوا کہ اب کیا کیا جائے۔ پاکستان کے اندر پیدا ہو جانے والی بے یقینی اور بے بسی کے احساس نے بہت سے صنعتکاروں کو ہجرت پر مجبور کر دیا، ہمارے والد بھی کاروبار کی خاطر دبئی پہنچے اور گلف سٹیل کے نام سے ایک فیکٹری قائم کی جو دس لاکھ مربع فٹ زمین پر موجود تھی، اس وقت کے دبئی کے حکمران شیخ راشد المکتوم نے اس فیکٹری کا افتتاح کی جس کی یادگار تصویر سپیکر قومی اسمبلی کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ یہ فیکٹری 1980ء میں تقریباً 33.37 ملین درہم میں فروخت ہوئی، یعنی 9 ملین ڈالر میں فروخت ہوئی، اس وقت بھی میرا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا ، ہمارے والد محترم نے عدم تحفظ کے جس احساس کے تحت دبئی میں سرمایہ کاری کی وہ 1999ء میں درست ثابت ہوا جب ہمارا کاروبار مفلوج کر دیا گیا، گھروں پر قبضہ کیا گیا، میرے گھر کو اولڈ ایج ہوم بنا دیا گیا اور ہمیں ملک بدر کر دیا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب ہمارے گھروں، دفتروں اور کاروباری اداروں کا ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا جو بار بار تحریری تقاضوں کے باوجود واپس نہ ملا، اس سارے ریکارڈ کا کئی کئی جگہ بڑی باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور بینک کھاتوں کو کھنگالا گیا، ملک سے باہر بھی ٹیمیں بھیجی گئیں اور کرپشن، منی لانڈرنگ، ناجائز اثاثے بنانے اور ریاستی وسائل کے ناجائز استعمال سے الزامات کی یلغار میں حکومت وقت نے سرتوڑ کوشش کر لی لیکن اللہ کے فضل و کرم سے کسی بھی عدالتی فورم پر ہمارے بارے میں رتی بھر بدعنوانی ثابت نہ ہو سکی۔ ہم ایسے ظالمانہ اوریکطرفہ احتساب میں بھی سرخرو نکلے جس سے شائد ہی دوسرا کوئی خاندان گزرا ہو۔ حکومت کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود جب مالی بے ضابطگی نہ مل سکی تو ہمارے خلاف طیارہ اغواء کے مضحکہ خیز ڈرامے کا سہارا لیا گیا جس کے بعد والد محترم نے پھر کمر کس لی اور جدہ میں سٹیل مل لگائی گئی جس کی سرمایہ کاری کیلئے دبئی میں فروخت ہونے والی فیکٹری کے سرمائے نے بھی مدد کی اور بعد ازاں یہ فیکٹری 64 ملین ریال یعنی 17 ملین ڈالر میں فروخت ہوئی اور اس حوالے سے تمام ریکارڈ بھی موجود ہے۔ یہ وہ ذرائع اور وسائل ہیں جن سے لندن کے فلیٹ خریدے گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں بلاخوف و تردید حتمی طور پر واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہہ سکتا ہوں کہ جدہ سٹیل ہو یا لندن کے فلیٹ یا کوئی اور ادائیگی پاکستان سے ان کیلئے ایک روپیہ بھی باہر نہیں گیا۔ کمیشن کے قیام کے بارے میں محترم چیف جسٹس کا خط حکومت کو موصول ہو گیا ہے جس کا قانونی ماہرین جائزہ لے رہے ہیں، اگر مقصد حقیقی معنوں میں بدعنوانی کا تدارک اور بدعنوان عناصر کو بے نقاب کرنا ہے تو اس خط کی روشنی میں قابل عمل طریقہ طے کرنے میں مشکل پیش نہیں آنی چاہئے۔ میں سپیکر قومی اسمبلی سے درخواست کرتا ہوں کہ اپوزیشن کی مشاورت سے ایک پارلیمانی کمیٹی بنائیں جو اتفاق رائے سے ٹی او آرز اور دیگر معاملات کو حتمی شکل دے۔ یہاں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ایوان کی مجوزہ کمیٹی جو بھی فورم اور طریقہ کار طے کرے گی میرے بیان کردہ حقائق کی مزید تفصیل تمام تر شواہد کے ساتھ اس کے سامنے رکھ دی جائے گی تاکہ الزام اور بہتان کا سلسلہ ختم ہو اور یہ تاثر نہ دیا جا سکے کہ کچھ تو گناہوں میں لت پت ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جن کے لباس سے فرشتوں کی خوشبو آتی ہے۔ اصولوں اور اخلاقیات اور احتساب کی بات کرنی ہے تو پھر الگ الگ معیار اور پیمانے نہیں چھیڑیں گے، تلنا ہے تو سب کو ایک ہی ترازو میں تلنا ہو گا۔ 70 برس قوم کے مقدر کو ایسے تماشوں کی بھینٹ چڑھایا جاتا رہا ہے۔ خدا خدا کر کے ہم سنبھلے ہیں، ہم نے واضح منزلوں کیلئے واضح راستوں کا تعین کیا ہے، بڑی مشکل سے نوجوانوں کی مایوس آنکھوں میں امید کے چراغ روشن ہو رہے ہیں، معیشت مستحکم ہو رہی ہے، شہروں کا امن واپس آ رہا ہے، قومی سطح پر وقار اور اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے، ہر پاکستانی تسلیم کرتا ہے کہ آج کا پاکستان تین سال پہلے کے پاکستان سے زیادہ روشن، زیادہ توانا اور زیادہ مستحکم ہے۔ میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے 2018ء کا پاکستان آج کے پاکستان سے بھی کہیں زیادہ روشن، کہیں زیادہ توانا، کہیں زیادہ پرامن اورکہیں زیادہ مستحکم ہو گا۔متفقہ ٹی او آرز کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے،الگ الگ پیمانہ نہیں چلے گا ،سب کو ایک ہی ترازو میں تلنا ہو گا :نواز شریف

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ میرے پاس نہ چھپانے کیلئے پہلے کچھ تھا نہ آج ہے ، میرے خاندان کے صنعتی اور کاروباری اداروں نے گزشتہ 23 سال کے دوران تقریبا10 ارب روپے کے ٹیکس اور حکومتی محصولات کی شکل میں ادا کئے جبکہ 15 برس میں ذاتی طور پر تین کروڑ 60 لاکھ روپے ٹیکس ادا کر چکا ہوں۔ آج عالی شان گاڑیوں میں گھومنے، بڑے بڑے قطعہ ہائے زمین پر پھیلے محلات میں رہنے والے، ہیلی کاپٹروں اور جہازوں میں سفر کرنے والے مناسب سمجھیں تو وہ بھی اس ایوان اور قوم کو آگاہ کریں کہ ان کے سفر کا آغاز کیسے ہوا، معاملہ اب ایسے ہی ختم نہیں ہو گا، بات چل نکلی ہے تو اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جانا چاہئے۔ سپیکر قومی اسمبلی اپوزیشن کی مشاورت کیساتھ ایک کمیٹی بنائیں جو متفقہ اور جامع ٹی او آرز تشکیل دیں اور پھر کمیشن بنے جس کے سامنے اپنی تمام تر تفصیلات پیش کر دوں گا۔قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں ایک رپورٹ منظرعام پر آئی جسے پانامہ پیپرز کا نام دیا گیا اور اس میں پانامہ میں قائم آف شور کمپنیوں کی نشاندہی کی گئی جس سے پاکستان کے شہریوں اورپاکستان سے تعلق رکھنے والے سمندر پار پاکستانیوں کا تعلق بتایا گیا۔ اس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ان کمپنیوں کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کوئی شخص بدعنوانی کا مرتکب ہوا ہو۔ اس رپورٹ میں میرے 2 بیٹوں کا ذکر بھی آیا جو گزشتہ کئی برسوں سے وہاں مقیم ہیں اور وہاں کے قوانین اور ضابطوں کے تحت دیگر پاکستانیوں کی طرح اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔ میرے رفقاء کی رائے تھی کہ چونکہ پانامہ پیپرز میں میرا کہیں ذکر نہیں اس لئے مجھے پہل کرنے اور خود کو احتساب کیلئے پیش کرنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن میرا اپنا ردعمل یہ تھا کہ اگرچہ میری ذات کا ان پیپرز سے تعلق نہیں لیکن چونکہ میرے خاندان کا ذکر آیا ہے اس لئے یہ معاملہ ایک خودمختار اور بااختیار کمیشن کے سپرد کر دینا چاہئے جو حقائق سامنے لائے۔ میں نے اپوزیشن کی طرف سے کسی مطالبے سے بھی پہلے قوم سے خطاب کیا اور سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج صاحبان کی سربراہی میں کمیشن کے قیام کا اعلان کیا۔ میں پختہ ریقین رکھتا ہوں کہ اپنی زندگیاں انصاف کے اعلیٰ ترین ایوانوں میں گزارنے والے جج صاحبان ریٹائرڈ ہونے کے بعد بھی امانت و دیانت کے ساتھ منصفانہ اور غیر جانبدانہ طریقے سے بے لاگ انصاف کے تقاضے پورے کر سکتے ہیں لیکن مجھے افسوس ہے کہ مثبت ردعمل کے بجائے سابق جج صاحبان کو نشانہ بناتے ہوئے ایسا ماحول پیدا کر دیا گیا کہ نہایت اچھی شہریت کے حامل سابق چیف جسٹس صاحبان کیلئے کمیشن کی سربراہی قبول کرنا مشکل ہو گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس کے بعد پھر ایک کمیٹی قائم کرنے کی تجویز سامنے آئی جس پر حکومت نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا لیکن اس کے باوجود پیش رفت نہ ہو سکی۔ پھر ایف آئی اے سے تحقیقات کرانے کا کہا گیا اور یہ مطالبہ بھی تسلیم کرتے ہوئے اپوزیشن سے کہا کہ اپنے اعتماد کے افسران کو نامزد کر دیں لیکن اس پیشکش کو بھی نظرانداز کر دیا گیا۔ پھر واحد مطالبہ یہ آیا کہ صرف سپریم کورٹ کے جج صاحبان پر مشتمل کمیشن کو ہی قبول کیا جائے گا جس کی سربراہی چیف جسٹس خود کریں۔ میں نے 22 اپریل کو قوم سے خطاب کے دوران یہ مطالبہ بھی تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا اور مجھے یقین تھا کہ واحد مطالبہ تسلیم کئے جانے پر اپوزیشن مطمئن ہو جائے گی اور تحقیقات کے نتائج کا اعلان کرے گی لیکن اس کے بعد ٹی او آرز کو متنازع بنا دیا گیا اور پھر اپوزیشن کی جانب سے 15 ٹی او آرز پیش کئے گئے۔ میڈیا ان ٹی او آرز کا جائزہ لے چکا ہے اور قانونی ماہرین بھی دیکھ چکے ہیں اور شائد ہی کسی پاکستانی کو اس پر شک ہو کہ اپوزیشن کی ٹی او آرز بدعنوانی او ر کرپشن کے بجائے صرف ایک شخص کے گرد گھومتے ہیں اور وہ میں ہوں۔ اس کے بعد ان ٹی او آرز کی مزید تشریح کرتے ہوئے کہا گیا کہ جہاں جہاں وزیراعظم کا لفظ آئے گا اس کا مطلب نواز شریف لیا جائے گا۔ ان ٹی او آرز کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جن افراد کا پانامہ پیپرز میں ذکر نہیں اس پر کمیشن کے قیام اور تحقیقات سے پہلے ہی باضابط فردجرم عائد کر دی گئی۔ میں ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ حکومت معاملے کی بلاتاخیر اور فوری تحقیقات چاہتی ہے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں کشمکش کی صورتحال ہوں اور دنیا میں ایک بار پھر تماشا بنے۔ ایسے معاملات میں تاخیر ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہوتی اس لئے ملکی ترقی کی جانب توجہ مبذول رکھنے کیلئے معاملے کی چھان چاہتے ہیں۔ ہم کسی مسئلے اور بات کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہتے اور پاکستان کی انا کا پرچم بلند رکھنا چاہتے ہیں۔ہمارا دامن صاف ہے اور آئینی و قانونی استثنیٰ کی ضرورت نہیں ، ہم یکطرفہ اورانتقامی احتساب کے عمل سے کئی بار گزر چکے ہیں اور آج بھی اس عمل سے گزرنے کیلئے تیار ہیں۔ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ بدعنوانی، اختیارات سے ناجائز پردہ اٹھانے، ٹیکس چوری کرنے، کک بیکس لینے اور غیر قانونی طور پرپیسہ باہر بھیجنے اورسیاسی اثر و رسوخ سے اربوں روپے کے قرضے معاف کرانے والوں کی اصل کہانی بھی ایوان کے سامنے آ جائے۔ اگر ایک میڈیا رپورٹ کو کسی تحقیق کے بغیر سیاسی عداوت،شک اور بدگمانی کی بنیاد پر بدعنوانی اور جرم قرار دیدیا گیا ہے تو ان دستاویز اور مستند ریکارڈ کو کیوں نہ دیکھا جائے جن میں ٹھوس ثبوتوں کے انبار لگے ہیں۔ ایوان کی توجہ نہایت اہم بات کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ یہ ایوان احتساب کے موثر اور جامع نظام پر غور کرے جو میثاق جمہوریت کی ایک اہم شق ہے جس پر محترمہ بینظیر بھٹو شہید اور میں نے 10 سال پہلے دستخط کئے تھے اور دیگر جماعتوں نے بھی اس کی توثیق کی تھی۔ اس ایوان میں ایسی مشاورت کا اہتمام کریں جو مروجہ نظام احتساب کی کمزوریوں پر نظر رکھتے ہوئے جامع نظام وضع کرے جس پر پوری قوم کو اعتما ہوں جس کی وجہ سے بہتان تراشی اور الزام لگانے کے کلچر کو ہمیشہ ختم کر دے۔وزیراعظم نے کہا کہ کسی پر الزام لگانے سے سیاستدان ہی بے اعتبار نہیں ہوتے بلکہ سیاست بھی بے وقار ہو جاتی ہے اور جب سیاست بے وقار ہو جائے تو جمہویت بھی بے توقیر ہو جاتی ہے۔ ایک مطالبہ یہ بھی سامنے آیا کہ پارلیمینٹ میں آ کر حقائق پیش کر دوں تو معاملہ ختم ہو جائے گا۔ یہ معاملہ اب یوں ختم نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اسے ایسا ہونا چاہئے، بات چل ہی نکلی ہے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ضرور ہونا چاہئے اور قوم کو اصل حقائق کا پتہ چلنا چاہئے۔ میرے دل میں پارلیمینٹ کی بہت عزت ہے، یہ ایوان 20 کروڑ عوام کی نمائندگی کرتا ہے، یہ ایوان آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کی تابندہ علامت ہے۔ شاہراہ دستور پر دیئے گئے دھرنوں کے دوران ایوان کا کردار ایک سنہری باب ہے اور اس ایوان کا نمائندہ ہونا میرے لئے بھی اعزاز کا باعث ہے۔ سب کچھ کھلی کتاب کی طرح ہے، میرے پاس نہ چھپانے کیلئے پہلے کچھ تھا نہ آج ہے ، میرا خاندان واحد خاندان ہے جس نے سیاست میں کچھ بنایا یا کمایا نہیں البتہ گنوایا ہے۔ میں کاروبار سے سیاست میں داخل ہوا، سیاست سے کاروبار میں نہیںآیا۔ میں ایسی باتوں سے گریز کرنا چاہتا ہوں لیکن دوسروں پر کیچڑ اچھالنے والوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ بطور وزیراعظم اور وزیراعلیٰ عوامی فلاح و بہبود کے کام کرنے والے کئی اداروں کو مفت سرکاری زمینیں دی ہوں گی، مالی گرانٹس دی ہوں گی، مشینری کی درآمد میں ٹیکسوں کی چھوٹ دی ہوگی۔ ہمارے خاندان کے زیر انتظام چلنے والے اتفاق ہسپتال اور شریف میڈیکل کمپلیکس بڑے رفاہی ادارے ہیں لیکن ان کے لئے ایک انچ سرکاری زمین اور مالی گرانٹ نہیں دی گئی اور نہ ہی کوئی اور رعایت دی گئی ہے۔ کیا کرپشن کرنے اور سرکاری وسائل سے تجوریاں بھرنے والوں کا طرز عمل ایسا ہی ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خاندان کے کاروبار کی تفصیلات ایوان کو بتاتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے میرے خاندان کے کاروبار کی کہانی محنت، مشقت اور عزم و ہمت و رزق حلال کیلئے جدوجہد کی کہانی ہے جس میں قرضہ، چوری، کمیشن، کک بیکس، پرمٹ، یا کسی بھی قسم کی خیانت کا شائبہ تک نہیں۔ہم نے کسی بھی کاروبار کیلئے حاصل کئے گئے قرضوں کی پائی پائی ادا کی ہے۔ ہمارے کاروبار کا آغاز قیام پاکستان سے 11 سال اور آج سے 80 برس قبل اتفاق فا?نڈری سے ہوا جس کا سب سے قیمتی اثاثہ میرے والد محترم کا اللہ پر پختہ ایمان، محنت دیانت اور امانت تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کاروبار نے ترقی کی اور 1970ء4 تک اتفاق فا?نڈریز کو پاکستان میں سٹیل اور انجینئرنگ کی سب سے بڑی صنعت کا مقام مل چکا تھا لیکن 1972ء میں حکومت وقت نے انہیں قبضے میں لے کر نیشنلائز کر دیا اور ہمیں مشینری، زمین اور دیگر اثاثوں کے معاوضے کے طور پر ایک پیسہ بھی ادا نہیں کیا گیا۔ اس سے قبل اتفاق فاؤنڈری کا منافع کروڑوں روپے میں تھا اور نیشنلائزیشن کے وقت سالانہ ٹرن اوور ساڑھے چار کروڑ روپے تھا۔ اس کے پاس ایک کروڑ اسی لاکھ کے سٹاکس موجود تھے اور فیکٹری کی زمین سات سو کنال پر پھیلی ہوئی تھی۔ میں 44 سال پہلے کا ذکر کر رہا ہوں، جب ڈالر کی قیمت چار روپے، سی ایس پی افسر کی تنخواہ پانچ سو روپے ماہانہ تھی اور سونا صرف 155 روپے فی تولہ تھا۔ یہ سارے حقائق اس دور سے تعلق رکھتے ہیں جب میرا یا میرے خاندان کے کسی فرد کا سیاست سے دور تک کوئی وابطہ نہ تھا۔ 8 سال بعد اتفاق فا?نڈریز ہمیں واپس کی گئیں تویہ کھنڈر بن چکی تھیں، مشینری ناکارہ ہو چکی تھی، کروڑوں روپے منافع کمانے والی انڈسٹری چھ کروڑ روپے سالانہ خسارے میں تھی۔ میرے والد محترم نے تباہ حال ڈھانچے کو ایک بار پھر آباد کیا، ان کی محنت اور مشقت کا نتیجہ تھا کہ ایک سال کی قلیل مدت میں بے جان ڈھانچہ فعال صنعتی یونٹ بن گیا۔ یہ تفصیل ان لوگوں کیلئے پیش کر رہا ہوں جو حقائق کو جان بوجھ کر جھٹلا رہے ہیں۔ میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ سیاست کے میدان میں قدم رکھنے سے پہلے میری اور خاندان کی مالی حالت اچھی تھی۔ مجھے وراثت میں کامیاب ترقی کرتا اور پھلتا پھولتا کاروبارملا جسے محنت اور اللہ پر یقین کے ساتھ آگے بڑھایا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پوری دیانت داری کے ساتھ کاروبار کی تفصیل بیان کر دی ہے لیکن آج عالی شان گاڑیوں میں گھومنے، بڑے بڑے قطعہ ہائے زمین پر پھیلے محلات میں رہنے والے، ہیلی کاپٹروں اور جہازوں میں اڑنے والے مناسب سمجھیں تو اس ایوان اور قوم کو آگاہ کریں کہ ان کے سفر کا آغاز کیسے ہوا، 70 اور 80 کی دہائی میں وہ کہاں کھڑے تھے اور آج ان کی شاہانہ زندگی کے ذرائع آمدن کیا ہیں، کچھ لوگ یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ ہم ٹیکس نہیں دیتے، میں صرف اتنا بتا دوں کہ میرے خاندان کے صنعتی اور کاروباری اداروں نے گزشتہ 23 سال کے دوران تقریبا10 ارب روپے کے ٹیکس اور حکومتی محصولات کی شکل میں ادا کئے، اس کی پوری تفصیل ایف بی آر کے ریکارڈ میں شامل ہیں اور میں یہ تفصیل سپیکر قومی اسمبلی کی خدمت میں بھی پیش کر رہا ہوں۔ میرے ذاتی ٹیکس کے حوالے سے بھی بے بنیاد کہانیاں تراشی گئیں، میں گزشتہ 23 برس کے دوران 8 برس جبری جلاوطنی میں تھا باقی 15 برس میں ذاتی طور پر تین کروڑ 60 لاکھ روپے ٹیکس ادا کر چکا ہوں، یہ تفصیل بھی سپیکر کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ اس موقع پر وزیراعظم نے لندن میں فلیٹس سے متعلق بھی ایوان کو بتایا اور کہا کہ میں اب آتا ہوں لندن فلیٹس کے بارے میں من گھڑت کہانیوں اور بے سروپا افسانوں کی طرف۔ کاش یہاں اسلام کی تعلیمات کے مطابق بغیر تحقیق الزام لگانے کا کلچر عام نہ ہوا ہوتا، 1972ء میں اتفاق فاؤنڈریز کو ایک پیسہ معاوضہ دیئے بغیر نیشنلائز کیا گیا تو پاکستان کے بہت سے دوسرے کاروباری حضرات اورصنعت کاروں کی طرح ہمارے والد کے سامنے بھی یہ سوال آ کھڑا ہوا کہ اب کیا کیا جائے۔ پاکستان کے اندر پیدا ہو جانے والی بے یقینی اور بے بسی کے احساس نے بہت سے صنعتکاروں کو ہجرت پر مجبور کر دیا، ہمارے والد بھی کاروبار کی خاطر دبئی پہنچے اور گلف سٹیل کے نام سے ایک فیکٹری قائم کی جو دس لاکھ مربع فٹ زمین پر موجود تھی، اس وقت کے دبئی کے حکمران شیخ راشد المکتوم نے اس فیکٹری کا افتتاح کی جس کی یادگار تصویر سپیکر قومی اسمبلی کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ یہ فیکٹری 1980ء میں تقریباً 33.37 ملین درہم میں فروخت ہوئی، یعنی 9 ملین ڈالر میں فروخت ہوئی، اس وقت بھی میرا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا ، ہمارے والد محترم نے عدم تحفظ کے جس احساس کے تحت دبئی میں سرمایہ کاری کی وہ 1999ء میں درست ثابت ہوا جب ہمارا کاروبار مفلوج کر دیا گیا، گھروں پر قبضہ کیا گیا، میرے گھر کو اولڈ ایج ہوم بنا دیا گیا اور ہمیں ملک بدر کر دیا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب ہمارے گھروں، دفتروں اور کاروباری اداروں کا ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا جو بار بار تحریری تقاضوں کے باوجود واپس نہ ملا، اس سارے ریکارڈ کا کئی کئی جگہ بڑی باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور بینک کھاتوں کو کھنگالا گیا، ملک سے باہر بھی ٹیمیں بھیجی گئیں اور کرپشن، منی لانڈرنگ، ناجائز اثاثے بنانے اور ریاستی وسائل کے ناجائز استعمال سے الزامات کی یلغار میں حکومت وقت نے سرتوڑ کوشش کر لی لیکن اللہ کے فضل و کرم سے کسی بھی عدالتی فورم پر ہمارے بارے میں رتی بھر بدعنوانی ثابت نہ ہو سکی۔ ہم ایسے ظالمانہ اوریکطرفہ احتساب میں بھی سرخرو نکلے جس سے شائد ہی دوسرا کوئی خاندان گزرا ہو۔ حکومت کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود جب مالی بے ضابطگی نہ مل سکی تو ہمارے خلاف طیارہ اغواء کے مضحکہ خیز ڈرامے کا سہارا لیا گیا جس کے بعد والد محترم نے پھر کمر کس لی اور جدہ میں سٹیل مل لگائی گئی جس کی سرمایہ کاری کیلئے دبئی میں فروخت ہونے والی فیکٹری کے سرمائے نے بھی مدد کی اور بعد ازاں یہ فیکٹری 64 ملین ریال یعنی 17 ملین ڈالر میں فروخت ہوئی اور اس حوالے سے تمام ریکارڈ بھی موجود ہے۔ یہ وہ ذرائع اور وسائل ہیں جن سے لندن کے فلیٹ خریدے گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں بلاخوف و تردید حتمی طور پر واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہہ سکتا ہوں کہ جدہ سٹیل ہو یا لندن کے فلیٹ یا کوئی اور ادائیگی پاکستان سے ان کیلئے ایک روپیہ بھی باہر نہیں گیا۔ کمیشن کے قیام کے بارے میں محترم چیف جسٹس کا خط حکومت کو موصول ہو گیا ہے جس کا قانونی ماہرین جائزہ لے رہے ہیں، اگر مقصد حقیقی معنوں میں بدعنوانی کا تدارک اور بدعنوان عناصر کو بے نقاب کرنا ہے تو اس خط کی روشنی میں قابل عمل طریقہ طے کرنے میں مشکل پیش نہیں آنی چاہئے۔ میں سپیکر قومی اسمبلی سے درخواست کرتا ہوں کہ اپوزیشن کی مشاورت سے ایک پارلیمانی کمیٹی بنائیں جو اتفاق رائے سے ٹی او آرز اور دیگر معاملات کو حتمی شکل دے۔ یہاں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ایوان کی مجوزہ کمیٹی جو بھی فورم اور طریقہ کار طے کرے گی میرے بیان کردہ حقائق کی مزید تفصیل تمام تر شواہد کے ساتھ اس کے سامنے رکھ دی جائے گی تاکہ الزام اور بہتان کا سلسلہ ختم ہو اور یہ تاثر نہ دیا جا سکے کہ کچھ تو گناہوں میں لت پت ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جن کے لباس سے فرشتوں کی خوشبو آتی ہے۔ اصولوں اور اخلاقیات اور احتساب کی بات کرنی ہے تو پھر الگ الگ معیار اور پیمانے نہیں چھیڑیں گے، تلنا ہے تو سب کو ایک ہی ترازو میں تلنا ہو گا۔ 70 برس قوم کے مقدر کو ایسے تماشوں کی بھینٹ چڑھایا جاتا رہا ہے۔ خدا خدا کر کے ہم سنبھلے ہیں، ہم نے واضح منزلوں کیلئے واضح راستوں کا تعین کیا ہے، بڑی مشکل سے نوجوانوں کی مایوس آنکھوں میں امید کے چراغ روشن ہو رہے ہیں، معیشت مستحکم ہو رہی ہے، شہروں کا امن واپس آ رہا ہے، قومی سطح پر وقار اور اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے، ہر پاکستانی تسلیم کرتا ہے کہ آج کا پاکستان تین سال پہلے کے پاکستان سے زیادہ روشن، زیادہ توانا اور زیادہ مستحکم ہے۔ میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے 2018ء کا پاکستان آج کے پاکستان سے بھی کہیں زیادہ روشن، کہیں زیادہ توانا، کہیں زیادہ پرامن اورکہیں زیادہ مستحکم ہو گا۔

مزید :

صفحہ اول -