وزیر اعظم کا خطاب حقائق مسخ کرنے کے مترادف ہے ،سیاسی رہنماء

وزیر اعظم کا خطاب حقائق مسخ کرنے کے مترادف ہے ،سیاسی رہنماء

لاہور(جاوید اقبال‘ شہزاد ملک )متحدہ اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں وزیراعظم میا ں محمد نواز شریف کے خطاب کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم کا خطاب حقائق مسخ کرنے کے مترادف ہے انہو ں نے اپوزیشن کے سولات کا جواب دینے کی بجائے خانہ پری کی ان کا خطاب جان چھڑانے کے برابر تھا ۔اس امر کا اظہار انہوں نے ’’روز نامہ پاکستان‘‘ سے اپنے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم کا خطاب ایک خانہ پری تھا انہوں نے پارلمنٹ میں آ کر ایشو پر روائتی بات کی اپوزیشن کے سوالات کے جوابات نہیں دئیے ہم ان کے خطاب کو مسترد کرتے ہیں ۔مسلم لیگ (ق) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کامل علی آغا نے کہا کہ وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر اسمبلی میں آکر حقائق چھپائے اور جھوٹ کا سہارا لیا ۔تحریک انصاف کے رہنما عبدالعلیم خان نے کہا کہ نواز شریف کا قومی اسمبلی میں خطاب انتہائی مایوس کُن اور اصل حقائق سے فرار حاصل کرنے کی ناکام کوشش کے علاوہ کچھ نہیں تھا ۔پیپلز پارٹی کے رہنماء لطیف کھوسہ نے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر سے لگتا ہے کہ ان کے پاس اپوزیشن کے سوالوں کے جواب نہیں تھے ا یک جھوٹ چھپانے کیلئے حکمران سینکڑوں جھوٹ بول رہے ہیں ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سنئیر ممبر علامہ افتخار حسین نقوی نے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر اپنی جگہ مگر انہوں نے اپوزیشن کے سوالوں کے جواب نہیں دئیے تو متحدہ اپوزیشن نے بھی قوم کو مایوس کیا ہے۔جے یو آئی (ف) کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد نے کہا کہ اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی نے جو روش اختیار کی اس سے لگتا ہے کہ ان کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے ۔مسلم لیگ (ن) کے چئیرمین راجہ ظفر الحق نے کہا کہ وزیراعظم اسمبلی میں آئے مگر افسوس کہ متحدہ اپوزیشن ایوان سے بھاگ گئی اور سچے تھے تو وہ وزیراعظم سے سوال کرتے وہ جواب دیتے لیکن یہ تو واک آؤٹ کرکے بھاگ آئے جو اچھی روائت نہیں ہے ۔مشاہد اللہ خاں نے کہا کہ اپوزیشن نے جو بھی مطالبہ کیا حکومت نے وہ وپورا کیا پہلے اپوزیشن کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرکے بھاگ گئی اور اب وزیراعظم کا خطاب سن کر بھاگ گئی حالانکہ یہ مطالبہ بھی اپوزیشن کا ہی تھا اپوزیشن بتائے کہ وہ چاہتی کیا ہے ۔

مزید : صفحہ اول