اغوا کا ر بے رحم تھے ،4دنوں میں 500کوڑے مارے ،کمر بلیڈوں کے کاٹی ،شہباز تاثیر

اغوا کا ر بے رحم تھے ،4دنوں میں 500کوڑے مارے ،کمر بلیڈوں کے کاٹی ،شہباز تاثیر

  

لندن (مانیٹر نگ ڈیسک)مقتول گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیرتقریباً ساڑھے چار سال بعد آٹھ مارچ 2016 کو اغوا کاروں کے چنگل سے رہا ہوئے۔بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اغوا کاروں نے ان پر بہیمانہ ظلم کیے اور اذیتیں پہنچائیں لیکن اس کے باوجود خدا کو ان کی زندگی منظور تھی اور وہ انھیں بچاتا رہا۔’انھوں نے مجھے شروع میں کوڑے مارنے شروع کیے۔ تین چار دنوں میں انھوں نے مجھے پانچ سو سے زیادہ کوڑے مارے۔ اس کے بعد میری کمر بلیڈوں سے کاٹی۔ پلاس (زمبور) لے کے میری کمر سے گوشت نکالا۔ پھر میرے ہاتھوں اور پیروں کے ناخن نکالے۔ مجھے زمین میں دبا دیا، ایک دفعہ سات دن کے لیے اور ایک دفعہ تین دن کے لیے۔ پھر مزید تین دن کے لیے۔ جب انھوں نے میرا گوشت جسم سے کاٹا تھا تو اتنا خون بہا کہ ایک ہفتہ بہتا رہا اور زخم بند نہیں ہو رہا تھا۔ وہ مجھ سے بینک اکاؤنٹ مانگتے رہتے تھے۔ ان میں رحم نہیں تھا۔ ان کے دل نہیں تھے۔ میں بس اللہ سے صبر کی دعا کرتا تھا۔ آخر میں میں اتنا سخت ہو گیا تھا کہ میں کہتا جو کرنا ہے کر لو۔’وہ مجھے بھوکا رکھتے تھے۔ میرے پہرے داروں کا رویہ بہت برا تھا۔ انھوں نے میرا منہ سوئی دھاگے سے سی دیا۔ مجھے سات دن یا شاید دس دن کھانا نہیں دیا۔ میری ٹانگ پر گولی ماری گئی۔ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ وہ میری ہڈی کو نہیں لگی اور نکل گئی۔’میرے منہ پر شہد کی مکھیاں بٹھائیں تاکہ میرے خاندان والوں کو دکھا سکیں کہ میری شکل بگڑ گئی ہے۔ مجھے ملیریا ہو گیا لیکن مجھے دوائی نہیں دی گئی۔ مجھے کہتے تھے کہ ہمیں بینک اکاؤنٹ دو۔’وہ فلم بنانے کے لیے اذیت دیتے تھے۔ میں پوری رات نماز پڑھتا تھا، نماز کے بعد نفل اور نفل کے بعد دعا فجر تک۔‘’میں صرف ایک گروپ کے ساتھ تھا اور وہ تھا اسلامک موومنٹ آف ازبکستان۔ میں صرف ایک گروپ کے پاس ہی رہاجب تک افغانی طالبان اور ازبک گروپ کی بیعت کے اوپر لڑائی نہ ہوئی تھی۔ یہ اس لیے ہوا کہ ازبکوں نے فیصلہ کیا کہ وہ داعش کے ساتھ جائیں گے کیونکہ ان کی نظر میں وہ صحیح خلافت تھی اور افغان طالبان کی صحیح نہیں تھی۔ تب میں افغان طالبان کے ہاتھوں میں آ گیا۔ مگر وہ خود بھی نہیں جانتے تھے کہ میں کون ہوں۔ میں نے انھیں کتنی بار کہا کہ میں ازبکی نہیں ہوں۔ وہ کہتے کہ میں ازبکی ہوں اور میں نے ان کے ساتھ جنگ کی تھی اور اس لیے پکڑا گیا تھا۔ اس لیے مجھے جیل میں پھینکو۔ تو گروپ تو ان کے درمیان جنگ سے پہلے ایک ہی تھا۔ جس کی وجہ سے میں الحمد اللہ آزاد بھی ہوا۔’مجھے لاہور سے میر علی لے کر گئے جو وزیرستان میں ہے اور میر علی سے مجھے ہر مہینے منتقل کرتے رہتے تھے۔ میں میر علی میں 2014 کی جون تک تھا جب انہی ازبکیوں نے کراچی ایئرپورٹ پر حملہ کیا۔ انھیں پہلے سے پتہ تھا کہ حکومت اور فوج کی طرف سے کیا ردِ عمل آئے گا اس لیے انھوں نے مجھے شوال منتقل کر دیا جس کا راستہ شاید دتہ خیل سے جاتا ہے۔ ادھر میں فروری 2015 تک تھا۔ اس کے بعد مجھے گومل کے راستے افغانستان کے علاقے زابل لے جایا گیا۔ وہ جگہیں بدلتے رہتے تھے۔ کہیں ایک مہینہ کہیں دو مہینے۔ ایک مرتبہ ڈرون حملوں کی وجہ سے میں ڈیڑھ سال تک ایک خاندان کے ساتھ رہا۔ کسی کو پتہ نہیں تھا کہ میں کون ہوں اور شاید افواہ بھی اڑی تھی کہ شہباز تاثیر ڈرون حملے میں مر چکا ہے۔ لیکن الحمد اللہ میں بچ گیا تھا۔’صرف ڈرون حملے ہی نہیں تھے، جیٹ حملے بھی تھے۔کبھی کبھار گھنٹوں تک بمباری ہوتی ہے۔ القاعدہ کا ایک سینیئر کمانڈر ابو یحییٰ اللبی ڈرون حملے میں مارا گیا۔ مجھے تو بہت بعد میں پتہ چلا۔ میں اس کے ساتھ ہی ایک دوسرے کمرے میں تھا۔ جب ڈرون حملہ ہوا تو چھت اور دیوارمیرے اوپر گری، لوگ آئے انھوں نے مجھے دیکھا۔ میں ملبے میں دبا تھا، مٹی میں اٹا ہوا تھا لیکن میرا دم گھٹا اور مجھے کھانسی آ گئی۔ ایک ازبکی نے مجھے دیکھا اور کہا کہ ان لاشوں کو ایک گاڑی میں ڈال دو۔ میں اتنا زیادہ زخمی تھا کہ دو مہینے تک چل بھی نہیں سکتا تھا۔ اس نے مجھے سب بتایا کہ تمہارے ساتھ ابو یحییٰ اللبی تھا، وہ جب مرا تو وہ زیرِ زمین کمرے میں تھا۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ ازبکیوں کی بیعت تھی افغان طالبان کے ساتھ۔ جب یہ اعلان ہو گیا کہ ملا محمد عمر کی وفات ہو چکی ہے تو ان لوگوں نے کہا کہ افغانی طالبان کی کوئی جائز حیثیت نہیں رہی۔ خلافت کا اعلان شام اور عراق میں ہو چکا ہے، ابو بکر البغدادی خلیفہ ہے، امیر ہے ہم اس کی بیعت لیں گے۔ اس پر ان میں تنازع ہوا۔ افغان طالبان یہ سمجھتے ہیں کہ امیر المومنین صرف افغان طالبان میں سے ہو سکتا ہے اور اسے پٹھان ہونا چاہیے، پشتون۔ اس کے علاوہ ان کے لیے سب کچھ ناقابلِ قبول ہے۔ جب ازبکیوں نے ان کی قانونی حیثیت پر اعتراض کیا تو انھوں نے انھیں ختم کیا، پورے گروپ کو ختم کیا، پوری قیادت کو ختم کیا۔ تین دن وہاں صرف موت تھی۔ مجھے وہاں سے بھاگنے کا موقع ملا اور میں بھاگ گیا۔ مجھے پہاڑ پر چڑھتے ہوئے افغان طالبان نے پکڑ لیا۔ وہ سمجھے کہ میں ازبک ہوں۔ وہ مجھے مارتے ہوئے نیچے لے آئے۔ مجھے دوسرے ازبکوں کے ساتھ قیدی بنا کر ساتھ بٹھایا۔ پھر ایک گاؤں میں بھیجا گیا جہاں قاضی آئے اور انھوں نے سزائیں سنائیں۔ اور ہمیں چھ مہینے سے دو سال تک کی سزائیں سنائی گئیں اور ایک افغان جیل میں بھیجا گیا۔ ادھر مجھے ایک افغانی طالبان ملا، اس نے میری مدد کی۔ اس میں تھوڑا وقت لگا۔ دو تین مہینے۔ لیکن اس نے میرے لیے ایک راستہ کھولا، جس کی وجہ سے میں اس جیل سے نکلا۔ اور افغانستان سے کچلاک موٹر سائیکل پر آیا۔ اس میں مجھے آٹھ دن لگے۔ مجھے 29 فروری کو رہا کیا گیا اور آٹھ مارچ کو میں نے گھر فون کر کے کہا تھا کہ میں آ گیا ہوں۔

مزید :

صفحہ اول -