القاعدہ کی اعلیٰ قیادت کااپنا ہیڈ کوارٹر شام منتقل کرنے کا فیصلہ

القاعدہ کی اعلیٰ قیادت کااپنا ہیڈ کوارٹر شام منتقل کرنے کا فیصلہ

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) ڈرون حملوں سے بری طرح کمزور ہونے کے بعد پاکستان میں القاعدہ کی اعلیٰ قیادت نے اپنا متبادل ہیڈ کوارٹر شام منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ نیو یارک ٹائمز کی تازہ اشاعت میں انٹیلی جنس اور انسداد دہشت گردی سے متعلق اعلیٰ امریکی اور مغربی حکام کے حوالے سے چھپنے والی ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ القاعدہ کی قیادت سمجھتی ہے کہ ان کی دہشت گرد تنظیم کا مستقبل اب شام سے وابستہ ہے اور اس نے پہلے ہی خفیہ طریقے سے اپنے انتہائی تجربہ کار درجن سے زیادہ جنگجوؤں لیڈر شام بھیج دئیے ہیں۔ مغربی حکام کا کہنا ہے کہ اس نقل و حرکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس تنظیم کی نظر میں شام کی کتنی اہمیت ہے۔ رپورٹ کے مطابق القاعدہ شام میں اپنی شاخ ’’نصرہ فرنٹ‘‘ کے ذریعے وہاں داعش کو پوری قوت سے چیلنج کرنے کی تیاری کر رہی ہے جس سے اس کی رقابت اب کھل کر سامنے آگئی ہے۔ یاد رہے کہ 2013ء میں عراق اور شام میں کام کرنے والے دہشت گردوں کے ایک گروہ نے ’’نصرہ فرنٹ‘‘ سے علیحدگی اختیار کرکے داعش کے نام سے اپنی نام نہاد خلافت قائم کرلی تھی۔رپورٹ کے مطابق اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اب القاعدہ کا سپریم لیڈر ایمن الظواہری ہے جو پاکستان کے کسی خفیہ مقام سے پارٹی کنٹرول کر رہا ہے۔ اس نے 2013ء میں ’’نصرہ فرنٹ‘‘ کو تقویت پہنچانے کیلئے اپنے سینئر جنگجو کارندے شام بھیجے تھے۔ بعد میں 2014ء میں ایمن نے خراسانی کے نام سے قائم القاعدہ کا سیل شام بھیجا جس کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ مغرب پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کرتا رہا ہے۔ اخبار نے مغربی تجزیہ نگاروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ شام میں القاعدہ کی موجودگی داعش کیلئے ایک بڑا چیلنج ہوگی اور مغرب پر حملے کرنے کے لئے اس سے نسبتاً زیادہ قریب آجائے گی اور عراق، ترکی، اردن اور لبنان سے جنگجو بھرتی کرنے اور ان کی نقل و حمل کی فراہم کرنے کی بہتر پوزیشن میں آجائے گی۔ اخبار نے مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے ایک مبصر چارلس لسٹر کا ایک تبصرہ نقل کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ دراصل القاعدہ اور داعش دونوں ’’امارت‘‘ قائم کرنا چاہتے ہیں لیکن اس سلسلہ میں ان میں شدید رقابت جاری ہے اور ان کا طریقہ کار ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے۔

مزید :

صفحہ اول -