کرپشن سے پاک قائد اعظم کا پاکستان قومی مسائل پر اتفاق رائے سے!

کرپشن سے پاک قائد اعظم کا پاکستان قومی مسائل پر اتفاق رائے سے!

تجزیہ: چودھری خادم حسین

کرپشن سے پاک قائد اعظم کا پاکستان، دہشت گردی اور لاقانونیت کا خاتمہ یا بیرونی خطرات ان سب مسائل کا حل قومی اتفاق رائے اور جمہوری انداز میں اپنی رائے کا اظہار اور جدوجہد ہی سے ممکن ہے وزیر اعظم محمد نواز شریف دیر بعد قومی اسمبلی میں آئے تو عمران خان بھی لندن سے پلٹ آئے ہیں۔ پارلیمنٹ ہی جمہوری حکومتوں کا وہ مقام ہے جہاں تنازعات بھی ختم ہو سکتے ہیں، پانامہ لیکس پر بہت کچھ ہوا۔ الزام جوابی الزام اور محاذ آرائی کی کیفیت پیدا ہوئی اس میں یہ امر فراموش کر دیا گیا کہ امریکی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے بھارت کی ریشہ دوانیاں بڑھ رہی ہیں۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی کے مزاج اور گفتگو میں تبدیلی آ چکی ہے۔ ان حالات میں یہی عرض کیا تھا کہ اندرونی مسائل اور بیرونی خطرات سے عہدہ برآ ہونے کے لئے کم از کم قوی مسائل پر تو اتفاق رائے ہونا چاہئے۔ مگر یہاں تو الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہو گیا اور بڑھ بڑھ کر ایک دوسرے کے خلاف حملے شروع کر دیئے گئے۔ آج گئی کل گئی والا سلسلہ جاری ہو گیا اور پھر اس حمام میں سب ننگے ہونا شروع ہو گئے ۔

یہ امر سمجھ سے بالاتر ہو گیا کہ میثاق جمہوریت میں طے کردہ اصول کے مطابق پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں احتساب کمشن کے لئے بل پیش ہوا مجلس قائمہ کے سپرد ہو گیا تو پھر اس پر معمولی اختلافات دور کر کے اسے منظور کیوں نہ کیا گیا۔ ایسا ہو گیا ہوتا تو آج اتنا تردد کرنے کی ضرورت نہیں تھی پاناما لیکس بھی اسی کے سپرد ہو جاتی۔ وزیر اعظم نے خطاب کیا۔ پارلیمنٹ کو بہتر جانا تو اس کا نتیجہ بھی بہتر نکلا ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ہر کوئی خود کو پارسا قرار دیتے ہوئے بھی کرپشن کے خاتمے پر متفق ہے اور یہ تو یک نکاتی ایجنڈا ہے ۔ اس پر کافی عرصہ قبل عمل ہو جانا چاہئے تھا۔ اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ ہر ایک کو اپنا اپنا موقف اختیار کرنے کا حق ہے اور جمہوریت میں اختلاف رائے کا حق تسلیم کیا جاتا ہے تاہم جہاں قومی اہمیت کا مسئلہ ہووہاں جلد ہی اتفاق رائے بھی ہو جاتا ہے اگر ایسا اب تک نہیں ہوا تھا تو اسے سیاست دانوں کی ناکامی شمار کیا جا رہا تھا اور بعض عاقبت نا اندیش اصل مسئلہ کو چھوڑ کر سیاست اور سیاست دانوں کو برا کہہ کر آمریت کا پر چار کرنے لگے تھے۔ یہ مان لینا چاہئے کہ ان کو یہ موقع بھی خود سیاست دانوں نے مہیا کیا۔ وزیر اعظم یہ فیصلہ پہلے بھی کر سکتے تھے لیکن تاخیر کی گئی، سیاسی موسم کو شدید سے شدید تر کیا گیا اور جب موقع آیا تو یہ ٹھنڈا بھی ہو رہا ہے۔

یہ بات سوفیصد درست ہے کہ یہ وقت ایجی ٹیشن کی سیاست کا نہیں ہے اور جس کسی نے بھی عمران خان کو یہ بات سمجھائی کہ محاذ آرائی مفید ہے اس نے خیر خواہی نہیں کی تھی، دھرنا کے دنوں میں پارلیمنٹ طاقتور ہو گئی اور اب وہ جلسے کر رہے ہیں تو ان کا اجازت ہے۔ یہ ایک سیاسی جماعت کے طور پر ان کا حق ہے۔ تاہم سارے حقوق آئین کے اندر جمہوری روایات کے مطابق ہی ہونا اور استعمال کرنا چاہیں کہ یہی طریقہ ہے ۔ بلاشبہ ملک میں ترقی اور استحکام کی ضرورت ہے جس کے لئے مسلسل عمل اور جدوجہد جاری ہے قربانیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ سیاسی قائدین کو شعور کا مظاہرہ کرنا ہو گا دیر آید درست آید ہی سہی۔

خیال تھاکہ وزیراعظم اپوزیشن کو دعوت دیں گے کہ آؤ مل کر احتساب کا طریق کار طے کرلیں، لیکن انہوں نے صرف اپنے خاندان کے ابتدائی کاروبار کی تفصیل بتانے پر ہی اکتفا کیا، یوں جس قومی اتفاق رائے کی توقع تھی وہ نہیں ہوسکا بلکہ بعد میں اور اختلاف بڑھ گیا کہ اپوزیشن واک آؤٹ کرکے باہر آگئی۔ سید خورشید شاہ نے اعلان کیا کہ اپوزیشن اپنا لائحہ عمل کل (منگل) اجلاس میں طے کرے گی۔ عمران خان جو لندن سے خصوصی طور پر آئے تقریرتو نہ کرسکے لیکن پارلیمنٹ سے باہر میڈیا کے سامنے اپنے الزام دہرا گئے۔ وزیراعظم کی تقریر محدود ذاتی کاروبار کے حوالے سے تھی اور زور اس بات پر تھا ’’میں سیاست سے کاروبار میں نہیں، کاروبار سے سیاست میں آیا‘‘۔ یوں جو تنازعہ ختم ہونے کی توقع لگائی گئی وہ پوری نہیں ہوئی۔

مزید : تجزیہ