قومی اسمبلی ۔۔ ایک دلچسپ فکس میچ کی کہانی

قومی اسمبلی ۔۔ ایک دلچسپ فکس میچ کی کہانی
 قومی اسمبلی ۔۔ ایک دلچسپ فکس میچ کی کہانی

  

وزیر اعظم قومی اسمبلی میں آئے۔ اپنی طرف سے انہوں نے وضاحت دے دی۔ اس وضاحت سے کوئی مطمئن ہے کہ نہیں۔ یہ الگ بات ہے لیکن جب وزیر اعظم میاں نواز شریف قومی اسمبلی میں آئے تو حزب اختلاف نے ان سے براہ راست سوال و جواب کرنے سے گریز کیا ہے۔ اسی طرح اپوزیشن نے وزیر اعظم کا خطاب بھی تحمل سے سنا۔ اپوزیشن نے وزیر اعظم کی تقریر کے جواب میں تقاریر کرنے سے بھی اجتناب کیا۔ اپوزیشن نے ایوان میں کسی بھی قسم کی بد مزگی سے اجتناب کیا۔ حتیٰ کہ عمران خان نے بھی ایوان میں وزیر اعظم کی موجودگی میں بھی کسی قسم کی الزام تراشی سے مکمل اجتناب کیا۔ اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم کو اس قدر فری ہینڈ ایک فکس میچ کا عکاس ہے۔ جو گزشتہ روز قومی اسمبلی میں کھیلا گیا۔

اپوزیشن نے پہلے وزیر اعظم کو قومی اسمبلی میں بلانے کے لئے پورا زور لگا یا۔ کئی دن قومی اسمبلی کا بائیکاٹ کئے رکھا۔ وزیر اعظم سے سوال پر سوال کئے جا رہے تھے۔ ایک ایسا ماحول بنایا جا رہا تھا۔ کہ وزیر اعظم قومی اسمبلی سے فرار ہی اس لئے ہیں کہ وہ قومی اسمبلی میں سوال و جواب سے بچنا جاتے ہیں۔ ماحول بن گیا تھا کہ وزیر اعظم قومی اسمبلی سے بھاگ رہے ہیں۔ لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر کہ جب اس سارے ماحول کے بعد میاں نواز شریف قومی اسمبلی میں آئے تو اپوزیشن کیوں واک آؤٹ کر گئی۔ نہ کوئی سوال پوچھا گیا۔ نہ کوئی تقریر کی گئی۔ بس وزیر اعظم کو خالی میدان دیا گیا۔ فری ہینڈ دیے دیا گیا۔ یہ فکس میچ نہیں تو اور کیا ہے؟

عمران خان کا معاملہ تو بالکل سمجھ سے بالاتر ہے۔ وہ تو لندن سے بھاگ کر اسی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے آئے تھے۔ انہوں نے لندن میں اعلان کیا کہ وہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کے قومی اسمبلی سے خطاب کے موقع پر قومی اسمبلی میں موجود ہونا چاہتے ہیں۔ وہ جب اسلام آباد پہنچے تو انہوں نے کہا کہ وہ قومی اسمبلی میں خطاب کریں گے۔ وہ اپنی بھی وضاحت قومی اسمبلی میں دیں گے۔ سارا دن شور رہا کہ عمران خان وزیر اعظم کی موجودگی میں خطاب کرنا چاہتے ہیں۔ کبھی خبر آتی تھی کہ وزیر اعظم صرف قائد حزب اختلاف کی تقریر سنیں گے۔ پھر خبر آئی کہ وہ عمران خان کا بھی خطاب سننے کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔ پھر خبر آئی کہ کہ وزیر اعظم سے سوال و جواب ہونگے ۔ایسا لگ رہا تھا تحریک انصاف نہائت جارحانہ رویہ اپنائے گی۔ عمران خان قومی اسمبلی میں بھی کنٹینر والی تقریر کریں گے ۔ لیکن پھر عمران خان نے بھی قومی اسمبلی میں تقریر نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تحریک انصاف نے بھی خاموشی سے تقریر سنی۔ اور عمران خان اور ان کی جماعت نے بھی وزیر اعظم کو فری ہینڈ دے دیا۔ عمران خان کی یہ توجیح کس طرح قبول کی جا سکتی ہے کہ ان سے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے درخواست کی اس لئے انہوں نے تقریر نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ تحریک انصاف خورشید شاہ کی اتنی طابع کب سے ہوئی کہ خورشید شاہ کے کہنے پر نواز شریف کو فری ہینڈ دینے لگی۔ لگتا ہے کہ عمران خان کے ساتھ بھی اس بار حکومت نے میچ فکس کر لیا ہے۔

تا ہم ایک دوسرا موقف یہ بھی ہے کہ اپوزیشن کا اس طرح فری ہینڈ دینا اپوزیشن کی مجبوری تھی۔ فری ہینڈ نہ دیتی تو کیا کرتی۔ ایوان میں حکمران جماعت کی اکثریت تھی۔ خود شیخ رشید نے اعتراف کیا ہے کہ ایوان میں حکمران جماعت کے موجود ارکان کی تعداد 140 تھی۔ جبکہ متحدہ اپوزیشن کے ارکان کی تعداد مل کر بھی اس سے نصف تھی۔ اگر اپوزیشن بد تمیزی کرتی تو اسے بھر پور جواب ملتا۔ ایوان میں ہنگامہ آرئی ہوتی۔ اگر گو نواز گو کے نعرہ لگتے تو جواب میں حکمران جماعت کے ارکان بھی نعرہ بازی کرتے۔ اسمبلی مچھلی منڈی بن جاتی۔ ہو سکتا ہے کہ اتنی بد مزگی ہو جاتی کہ تب بھی اپوزیشن کو اسمبلی سے بھاگنا ہی پڑتا۔ اور پھر سب یہ بھی کہتے کہ اپوزیشن کو تحمل سے بات سننی چاہئے تھی۔ جمہوریت کو خطرہ میں ڈال دیا گیا ہے۔

ایک تجزیہ یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم کی تقریر کے بعد ۔ اپوزیشن کے فرینڈلی رویہ کے بعد۔ چیف جسٹس کے جوابی خط کے بعد، پانامہ کا معاملہ لٹک گیا۔ اپوزیشن کے پاس اب اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ مشترکہ ٹی او آرز کے لئے حکومت کے ساتھ بیٹھے۔ اس ضمن میں وزیر اعظم نے سپیکر قومی اسمبلی کو ایک پارلیمانی کمیٹی بنانے کے لئے کہا ہے۔ جو ٹی او آرز طے کرے۔ یہ کمیٹی کیا چند دن میں کام مکمل کر لے گی۔ میری رائے میں اس کمیٹی کے کئی اجلاس ہو نگے۔ کئی بار ڈیڈ لاک ہو نگے۔پھر دوبارہ بات ہو گی۔ اس طرح معاملہ لٹک جائے گا۔

حکومتی جماعت کا یہ بھی موقف ہے کہ تین ماہ اہم ہیں۔ اگر تین ماہ گزر گئے تووہ بچ جائیں گے۔ اس لئے کسی نہ کسی طرح تین ماہ گزارانے ہیں۔ بس پھر حالات کنٹرول میں ہو نگے۔ کہا جا رہا ہے کہ ابھی مئی ہے ۔ جون بھی گرم ہو گا۔ بلکہ جون میں گرمی بڑھ جائے گی۔ جولائی میں گرمی آخر میں ہو گی۔ لیکن اگر معاملہ جولائی تک نہ گیا تو خطر ناک ہو گا۔ اس لئے فی الحال ایسا لگ رہا ہے کہ خورشید شاہ نے آصف زرداری کی لاج رکھی ہے۔ اگر وہ بلاول کی بات مانتے تو ماحول کچھ اور ہوتا ۔ لیکن انہوں نے آصف زرداری کی بات مانی ہے۔اجلاس کے بعد کی پریس کانفرنسیں تو آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کامیاب کوشش تھی۔ اور کچھ نہیں۔ سب فکس تھا۔ پریس کانفرنس بھی فکس میچ کا حصہ تھیں۔ اور کسی میں بھی فکس میچ کے رولز توڑنے کی ہمت نہیں تھی۔

مزید : کالم