خورشید شاہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئے ، سٹیرنگ کا کنترول عمران خان کے ہاتھ میں نہیں

خورشید شاہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئے ، سٹیرنگ کا کنترول عمران خان کے ہاتھ میں ...

 وزیراعظم محمد نوازشریف نے اپوزیشن کے پر زور اصرار پر بالآخر گزشتہ رو زپارلیمنٹ سے رجوع کیا اور اپوزیشن کے مطالبے کے جواب میں قومی اسمبلی سے چالیس منٹ پر مبنی طویل خطاب میں اپنی مالی حیثیت کے حوالے سے تفصیلات بتائیں اپوزیشن گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے تکرار کررہی تھی کہ وزیراعظم پانامہ لیکس پر اپنی پوزیشن ؛پارلیمنٹ میں آکر واضح کریں مزید برآں اپوزیشن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو جب سیاسی مدد کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ پارلیمنٹ سے رجوع کرتے ہیں لیکن عام حالات میں پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دیتے ایک طرف اپوزیشن کا مطالبہ دوسری جانب چیف جسٹس کی جانب سے عدالتی کمیشن کی تشکیل کی حکومتی درخواست مستر د ہونے کے بعد وزیراعظم پر سیاسی دباؤ بڑھ گیا تھااسی اثنا میں ایک طرف توقومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنماء سید خورشید شاہ پر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بیعت کرتے ہوئے وزیراعظم کے سیاسی امتحان کیلئے سات سوالات پر مشتمل ایک امتحانی پرچہ مشترکہ طورپر ترتیب دیا تو دوسری طرف آشکار ہو اکہ عمران خان بھی آف شور کمپنی کے نا صرف مالک رہے بلکہ شائد پاکستان میں آف شور کمپنی کے حوالے سے وہ ایک بانی شخصیت ہیں اس انکشاف میں مشترکہ اپوزیشن کے مشترکہ سوالنامہ کی سیاسی شدت کو قدرے معتدل کردیا اسی بناء پر حکومتی صفوں میں اپوزیشن کے سوالنامہ کے جواب کیلئے کسی حد تک ایک اعتماد اور اطمینان کی فضا نظر آنے لگی اسی بناء پر وزیراعظم کے لہجے میں بھی تیزی نظر آئی گزشتہ روز وزیراعظم نے اپوزیشن کے مطالبہ پر ہی قومی اسمبلی میں آکر پانامہ لیکس سے پیدا ہونے والے سیاسی بھنور سے اپنی کشتی نکالنے کے لئے اپنی تمام تر مالی تفصیلات پارلیمان کے سامنے رکھیں لیکن اپوزیشن نے وزیراعظم کی تقریر کا پارلیمنٹ میں جواب دینے اور کرپشن کے طوفان اور بحران کے کسی ٹھوس حل کیلئے پارلیمانی پیشرفت کاموقع گزشتہ روز بائیکاٹ کی نذر کردیا قوم منتظر تھی کہ وزیراعظم پارلیمنٹ میں آکر اپوزیشن کو جواب دے رہے ہیں تو اپوزیشن اپنا موقف پارلیمنٹ میں بیان کرے گی لیکن اپوزیشن نے وزیراعظم کی پارلیمنٹ میں تقریر کا جواب باہر آکر میڈیا کے سجائے ہوئے سٹیج پر دینا مناسب سمجھا ،دلچسپ امر یہ ہے کہ وزیراعظم کی طویل تقریر کے جواب میں اپوزیشن رہنماؤں نے پارلیمنٹ میں چند لمحوں کی تقریر میں کچھ کلمات کہے اور واک آوٹ کرگئے جس کے نتیجہ میں اس بحث کے کسی منطقی انجام پر پہنچنے کی توقعات لگانے والوں کو مایوسی ہوئی جبکہ عمران خان بھی پارلیمنٹ میں اپنا نقطہ نظر پیش کرنے سے قاصر رہے جس کا کریڈٹ بہر حال اپوزیشن رہنماء سید خورشید شاہ کو جاتا ہے اب اپوزیشن کی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر سید خورشید شا ہ بیٹھے ہیں اور عمران خان کا سٹئیرنگ پر کنٹرول نہیں،یہ ایک کھلا تضاد ہے کہ حکومت کے پارلیمنٹ سے باہر سب سے بڑے حریف عمران خان ہیں لیکن پارلیمنٹ میں وہ سید خورشید شاہ کی گاڑی پر سوار ہیں ، عمران خان کی سیاست کی ساری بنیاد روایتی سیاست کو چیلینج پر مبنی ہے گزشتہ روز اپوزیشن نے پانامہ لیکس کے کسی منطقی حل یا کرپشن کے خاتمہ کیلئے کسی سنجیدہ ٹھوس اور طویل مدتی میکانزم کی تشکیل کا ایک اہم موقع گنوادیا ایسا لگتا ہے کہ شائد عمران خان تو نہیں لیکن سید خورشید شاہ کرپشن اور پانامہ لیکس پر کسی ٹھوس اقدام کے بجائے سیاسی ہوائی فائرنگ کر ترجیح دینگے کیو نکہ پاکستان پیپلزپارٹی کو بھی کرپشن کے الزامات کا سامنا ہے اگرچہ بظاہر لگتا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کی تقریر کے بعد اپوزیشن لیڈر کے طرز عمل سے حکومت پر دباؤ بڑھا ہے لیکن بعض سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز کے بائیکاٹ سے حکومت کو فیس سیونگ ملی ہے تاہم اسلام آباد کے سیاسی ماحول میں نظرآرہاہے کہ ائندہ محاذآرائی بڑھے گی لیکن شائد اپوزیشن رہنماء سید خورشید شاہ اس کو ایک خاص حد سے اگے نہ بڑھنے دیں وزیراعظم کی پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے ٹرمز آف ریفرنس پر اتفاق کیلئے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی تجویز صائب نظر آتی ہے کیونکہ جب تک اتفاق رائے سے ملک میں کرپشن کے خاتمے کیلئے اعلیٰ تحقیقاتی فورم نہیں بنتا اور کسی جامع میکانزم پر اتفاق اور اس پر مطلوبہ قانون سازی نہیں ہوتی صرف الزامات کی سیاست ہی ہوسکتی ہے جو اس وقت وفاقی دارالحکومت میں عروج پر ہے

مزید : کراچی صفحہ اول