چولہا جلانا مشکل ہو گیا ، 6بیماروں کا علاج کیے کراؤں ؟

چولہا جلانا مشکل ہو گیا ، 6بیماروں کا علاج کیے کراؤں ؟

  

 پشاور(عمران رشید)غریب کے گھر جہاں چولہا جلانا مشکل ہو وہاں مہلک بیماریوں کے علاج کی کون سوچ سکتا ہے ؟ایسا ہی حال چارسدہ کے رہائشی جواں سال گل نواز کا ہے جو بے روزگار ہونے کے ساتھ اپنی بوڑھی اور بیمار والدہ ،پانچ معذور بہنوں اور اپنے چار بچوں کا واحد کفیل ہے، اس کا گزر بسر دریا کے کنارے موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں دھو کر ہورہا ہے چارسدہ کے گاؤں آگرہ پایان کے رہائشی گل نواز ولد خالو خان نے سردریاب کے کنارے روزنامہ پاکستان کو اپنی دکھ بھری کہانی سناتے ہوئے عمران خان سے نوکری دلانے اور امداد کی اپیل کی ہے ،فریادی کے مطابق وہ والدین کا ایک ہی بیٹا جبکہ 8بہنیں ہیں ،جن میں سے 3 بہنیں شادی شدہ ہیں جبکہ باقی پانچ قوت سماعت اور گویائی سے محروم ہیں ،والد ہ بوڑھی اور بیمار ہیں جبکہ والد واپڈا سے 1998 ؁ میں ریٹائرڈ ہونے کے بعد انتقال کرچکے ہیں ،واپڈا میں اپنے ڈرائیور والد کی جگہ ملازمت کے لئے کئی بار درخواستیں دے چکا ہے لیکن نوکری نہیں ملی ،سر چھپانے کی واحد جگہ سیلاب سے متاثرہ مکان ہے جو کسی بھی وقت گرسکتا ہے ،وہ سردریاب کے کنارے روز گھر سے کپڑا ساتھ لاکر گاڑیاں اور موٹر سائیکل دھوتا ہے جس کے عوض کوئی 10اور کوئی 20تیس روپے دے دیتا ہے جس سے گھر میں ایک یا دو وقت کے لئے چولہا جل جاتا ہے ،بیمار ماں کے علاج معذور بہنوں کی کفالت، بچوں کی تعلیم اور صحت کا خیال بھی اس کے بس کی بات نہیں ، گل نواز کی والدہ نے اپنی فریاد بیان کرتے ہوئے کہا کہ غربت بہت بر ی چیز ہے جس میں اپنا یا پرایا کوئی نہیں پوچھتا بس خدا کے سہارے زندگی کے دن کاٹ رہے ہیں ،زندگی کی مشکلات سے تنہا لڑنے والے گل نواز نے خصوصاً چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان سے اپیل کی کہ اسے اپنے والد کی جگہ ملازمت دی جائے تاکہ وہ اپنے گھرانے کی خوراک کا بہتر انتظام کر سکے اور بوسیدہ مکان کی مرمت میں مدد کی جائے اس کا کہنا تھا کہ اسے صرف عمران خان پر اعتماد ہے ۔

مزید :

پشاورصفحہ اول -