، آل پاکستان واپڈا ہائیڈروالیکٹرک ورکرز یونین کی احتجاجی ریلی

، آل پاکستان واپڈا ہائیڈروالیکٹرک ورکرز یونین کی احتجاجی ریلی

  

لاہور(خبرنگار) محکمہ بجلی واپڈا کے محنت کشوں نے آل پاکستان واپڈا ہائیڈروالیکٹرک ورکرز یونین سی بی اے کے زیراہتمام دیگر صنعتی اداروں بمعہ ٹرانسپورٹ، کان کنی، ٹیکسٹائل، انجینئرنگ، موٹروے میں دنیا میں سب سے زیادہ کارکنوں کے آئے دن المناک حادثات کو روکنے اور اْنہیں صحت مند اور محفوظ حالات کار مہیا کرانے اور فرسودہ سیفٹی کے سوسالہ سے دیرینہ لیبر قوانین میں ترقی پسندانہ ترامیم کے اجراء اور اْن کے موثر نفاذ کے لئے ایک احتجاجی ریلی نسبت روڈ سے نکالی جس میں سینکڑوں محنت کشوں نے شرکت کی یہ ریلی نے نسبت روڈ، میکلوڈ روڈ، ایبٹ روڈ تک مارچ کیاملک میں محنت کشوں کو حادثات سے محفوظ وصحت مند حالات کار اور آئے روز المناک حادثات روکنے کے لئے زبردست نعرہ بازی سے آواز اْٹھائی گئی مظاہرین نے ان مطالبات کے حق میں بینرز اور قومی پرچم اْٹھا رکھے تھے ریلی کو خطاب کرتے ہوئے بزرگ مزدور راہنماء خورشیداحمد جنرل سیکرٹری نے واضح کیا کہ محکمہ بجلی میں لائن سٹا ف کے غیر محفوظ حالات کار کی وجہ سے دنیا میں سب زیادہ جانکاہ المناک حادثات ہورہے ہیں جس کی سالانہ تعداد 200 سے زائد ہے جبکہ اس سے کہیں زیادہ بجلی کا کرنٹ لگنے سے معذور ہوجاتے ہیں ا قوام متحدہ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان میں ٹرانسپورٹ سے سب سے زیادہ حادثات کی وجہ سے موت کا لقمہ بننے والے ممالک میں شامل ہے اور آئی ایل او کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں کوئلہ کی کانوں سے محنت کشوں کی اموات سب سے زیادہ ہے ٹیکسٹائل انڈسٹری میں آئے دن غیر محفوظ حالات کار کی وجہ سے لاکھوں کارکن کچھ عرصہ کے بعد پیشہ وارانہ بیماری کا شکار بنتے ہیں اسی طرح بلدیہ ٹاؤن کراچی اور پنجاب کی فیکٹریوں میں ٹیکسٹائل کی صنعتوں میں محنت کش زندہ جل گئے ہیں سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی وفاقی وصوبائی حکومتوں کو ہدایات کا اجراء کیا ہے کہ وہ کارکنوں کو حادثات وپیشہ وارانہ بیماریوں سے محفوظ کرنے کے لئے موثر اقدامات کریں اْنہوں نے وزیراعظم پاکستان اور صوبائی وزراء اعلٰے اور محکمہ بجلی کی انتظامیہ سے پْرزور مطالبہ کیا کہ وہ کارکنوں کے کام پر حادثات روکنے کے لئے لیبر قوانین کا موثر نفاذ کریں ۔

احتجاجی ریلی

مزید :

پشاورصفحہ آخر -