پولیس چھوٹو گینگ کے رکن ماجد کے ہاتھوں اغواہونے والی لڑکی کے عدالت میں بیان ریکارڈ نہ کراسکی مغویہ کے والدین کا احتجاج ‘نوٹس لینے کا مطالبہ

پولیس چھوٹو گینگ کے رکن ماجد کے ہاتھوں اغواہونے والی لڑکی کے عدالت میں بیان ...

مظفر گڑھ(نامہ نگار) گڑھ کے محلہ قادر آباد کے رہائشی ماجد ولد عبدلکریم نے شاہ جمال کی لڑکی نگینہ دختر محمد یوسف جوئیہ کواغواء کر لیا اور (بقیہ نمبر23صفحہ12پر )

اسے لیکر اپنے بہنوئی خالد کے پاس راجن پور کچے کے علاقے میں چھوٹو گینگ کے پاس پہنچ گیا جس کے چند روز بعد ہی چھوٹو گینگ کے خلاف آپریشن شروع ہو گیا چنانچہ ماجد ملزم نے اپنے بہنوئی خالد اور واجد کے ہمراہ ہتھیار ڈال دیئے چھوٹو گینگ اور ان کے ارکان کی خواتین کو مقامی وڈیرے ریاض گل مزاری کے حوالے کر دیا گیا جہاں سے خان گڑھ کا عبدلکریم اپنی بیٹی زوجہ خالد اور مغویہ نگینہ کو بھی وہاں سے ۱۲ اپریل کو لے آیا جبکہ مغویہ نگینہ کے والدین مقامی وڈیرے ریاض گل مزاری کے پاس پہنچے تو انہیں علم ہوا کہ نگینہ کو عبدلکریم لے آیا ہے جس کی اطلاع انہوں نے شاہ جمال پولیس کو دی ۔مغویہ لڑکی نگینہ دختر محمد یوسف جوئیہ کو شاہ جمال پولیس نے ۴۶۱کے بیان قلم بند کرانے کے لیے علاقہ مجسٹریٹ مظفر گڑھ کے پاس پیر کو پیش کرنا تھا لیکن پولیس نے پیش نہ کیا ۔جبکہ ملزم ماجد کے والد اور لڑکی اغواء کیس کے نامزد ملزم عبداالکریم نے ایڈیشنل سیشن جج مظفر گڑھ کی عدالت سے ۱۲ مئی تک ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرا لی۔مغویہ کے والدین دن بھر مجسٹریٹ کی عدالت میں انتظار کرتے رہے جنہوں نے میڈیا کو بتایا کہ اگر انہیں ان کی بیٹی نہ ملی تو وہ پولیس رویہ کی خلاف احتجاجا خود سوزی کر لیں گے۔پولیس ان سے تعاون نہین کر رہی وزیر اعلی اس کا نوٹس لیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر