سپریم کورٹ، 100سال سزا پانیوالے3ملزم بری کرنیکا حکم

سپریم کورٹ، 100سال سزا پانیوالے3ملزم بری کرنیکا حکم
سپریم کورٹ، 100سال سزا پانیوالے3ملزم بری کرنیکا حکم

  

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پنجاب کے علاقے خوشاب میں22ہزار روپے کی ڈکیتی،فائرنگ اور دیگر دفعات کے تحت 100سال کی سزا پانے والے تین ملزمان محسن رضا، افتخار اور غلام شبیر کی اپیل منظور کرتے ہوئے انکی رہائی کا حکم دیدیا، انسداد دہشتگردی کی عدالت اور ہائی کورٹ نے ملزمان کو 302،324،148,149,353, ,395کے دفعات کے تحت مجموعی طور پر 100سال سزا سنائی تھی۔ دوران سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ یہ کہانی تھانیدار کی بنائی ہوئی ہے ،ہوسکتا ہے اس کہانی کے عوض متعلقہ تھانے کے تھانیدار کو تمغہ بھی ملا ہو۔ کیس کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی تو ملزموں کے وکیل میر محمد غفران خورشید امتیازی عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ میر ے موکلان پر ڈکیتی کا الزام ہے اور اس کے بعد پولیس پر فائرنگ کرنے کا الزام بھی ہے ، جبکہ پولیس پر جن ملزمان نے فائرنگ کی وہ مفرور ہیں ،میرے موکلان نے خود گرفتاری دی، اس کے باوجود بھی پولیس نے جعلی دفعات لگائیں۔ جس پر ٹرائل کورٹ اورہ ائی کورٹ نے ملزمان کو 100 سال قید کی سزا سنا دی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ حیرانگی ہے ڈکیتی کے پرچے میں ایک سو سال سزا ہو گئی اور سزا بھی انکو ہوئی جو گھر کے اندر موجود تھے ، وہ وہاں سے اگر فائر کر بھی دیں تو اس سے کسی کو نقصان نہیں ہوا ہوگا، ریکارڈ کے مطابق گھر کی دیواریں اونچی تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گھر کے اندر سے باہر کے ہدف کو نشانہ بنانا ممکن نہیں، دلائل مکمل ہونے کے بعد فاضل عدالت نے درخواست گزاروں کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں الزامات سے بری کر دیا۔

مزید :

اسلام آباد -