غیر ضروری لوگ پاکستان کی سیاست پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، اپوزیشن وہ راستہ اختیار کرے کہ بعد میں پچھتانا نہ پڑے: مولانا فضل الرحمان

غیر ضروری لوگ پاکستان کی سیاست پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، اپوزیشن وہ راستہ ...
غیر ضروری لوگ پاکستان کی سیاست پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، اپوزیشن وہ راستہ اختیار کرے کہ بعد میں پچھتانا نہ پڑے: مولانا فضل الرحمان

  

ڈیرہ اسماعیل خان (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میں سالہا سال سے یہ بات کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کی سیاست پر وہ لوگ قبضہ کرنا چاہتے ہیں جو سیاست میں غیر ضروری عناصر ہیں اور ہر طرف سے فارغ ہیں۔ پاکستان میں یہ آوازیں یہاں کی نہیں بلکہ کہیں باہر کی ہیں اور سب نے دیکھ لیا کہ لندن میں جا کر ایک پاکستانی مسلمان کو چھوڑ کر یہودی سالے کی انتخابی مہم چلائی گئی۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے جلسہ عام میں خطبہ استقبالیہ دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میں وزیر اعظم کو اطمینان دلاتا ہوں کہ عوام کی ایک بہت بڑی صف آپ کی پشت پر ہے اور یہ اللہ کی تائید کی علامت ہے ہم اس بات کی حمایت کرتے ہیں کہ پاکستان میں امن و استحکام ہو۔ بنوں کے بعد آج ڈی آئی خان میں اس بات کا مشاہدہ کررہے ہیں کہ سب لوگ وزیر اعظم کے ساتھ کھڑے ہیں اور جمہوریت کے خلاف کسی سازش کو ناکام نہیں ہونے دیں گے۔ حزب اختلاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے کہوں گا کہ اختلاف کرنا جمہوری پارٹیوں کا حق ہے لیکن ان حدود میں رہ کر جن میں جمہوریت کو تحفظ ملنے کی ضمانت ملے ایسا نہ ہو کہ بعد میں پچھتانا پڑے۔

انہوں نے نام لیے بغیر عمران خان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاناما کے حوالے سے وزیر اعظم نے پوری دنیا کے حکمرانوں سے پہلے احتساب اور کمیشن کی بات کی لیکن انہوں نے اس کمیشن کو مسترد کردیا اور ایک سابق بیورو کریٹ کے ماتحت بننے والے کمیشن کا مطالبہ کیا۔ وزیر اعظم کو پارلیمنٹ میں بلانے کا مطالبہ کیا لیکن آپ لوگ بھاگ گئے ، ایف آئی اے کی تحقیقات سے آپ مکرے اور اب چیف جسٹس کے ماتحت بننے والے کمیشن سے بھاگنا چاہتے ہیں ۔ بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے وزیر اعظم نہیں تم خود چور نکلے ہو تمہارے پاس 1983 میں اتنا پیسہ تھا کہ تم نے ٹیکس سے بچنے کیلئے آف شور کمپنی بنائی لیکن 1987 میں تم وزیر اعلیٰ کے آگے پلاٹ کیلئے ہاتھ پھیلا رہے تھے ۔

مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت کی کارکردگی بدترین ہے۔ اس حکومت کی وجہ سے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پی سی ایس افسران بائیکاٹ پر مجبور ہوئے اور کالی پٹیاں باندھ کر پارلیمنٹ کے اجلاس میں شریک ہوئے۔میں ڈیرہ اسماعیل خان کو بین الاقوامی تجارت کا مرکز بنانا چاہتا ہوں اسی لیے اقتصادی راہداری اور اس سے وابستہ ریلوے لائن بھی یہاں سے گزرے گی ۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -