داعش کی ’کلس ‘پر راکٹوں کی بارش،مہاجرین کو پناہ دینے والا شہر جنگ کا مرکز بن گیا

داعش کی ’کلس ‘پر راکٹوں کی بارش،مہاجرین کو پناہ دینے والا شہر جنگ کا مرکز بن ...
داعش کی ’کلس ‘پر راکٹوں کی بارش،مہاجرین کو پناہ دینے والا شہر جنگ کا مرکز بن گیا

  

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک)ترکی کا شہر کلس جہاں ہزاروں شامی مہاجرین پناہ لیئے ہوئے ہیں اب داعش کے حملوں کی زد میں ہے۔جنوری سے اب تک داعش کلس پر 70بار راکٹوں سے حملہ کرچکی ہے جبکہ اس دوران خواتین اور بچوں سمیت 21افراد جاں بحق ہوچکے تھے۔

غیر ملکی خبررسا ں ادارے کے مطابق شام کے ہزاروں مہاجرین کیلئے جنت کہلانے والا شہر کلس اب جنگ میں صف اول کا کردار ادا کررہا ہے اور جنگ کا مرکز بن گیا ہے۔ جہاں شب و روز شام کے داعش کے زیر قبضہ علاقوں سے آنے والوں کی بمباری نے مہاجرین اور مقامی لوگوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔

ایک ترکش دکاندار مہمت بیکال کا کہنا ہے کہ داعش کی جانب سے ہونے والی راکٹوں کی بارش سے بچنے کیلئے دس سیکنڈ سے پہلے کسی شئے کے نیچے چھپ کر جان بچانا پڑتی ہے تاخیر کی صورت میں زندگی گئی سمجھیں۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

45سالہ مہمت کا کہنا ہے کہ راکٹوں کی بارش کے وقت یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی خوفناک زلزلہ آگیا ہو ہر طرف تباہی اور آہ و بکا پھیل جاتی ہے۔کئی مکانا ت زمین بوس ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا روزانہ سونے سے پہلے اپنے اہلخانہ کو شب بخیر کہنا نہیں بھولتا کیا خبر صبح کو رہیں نہ رہیں۔

مہمت نے بتایا کہ اس شہرنے ہزاروں شامیوں کیلئے در وا کیئے اور اب جنگ بھی اس کے دروازوں تک پہنچ گئی ہے۔اور اب ہر جگہ یہی گفتگو ہوتی ہے کہ آج راکٹ کہاں گرے گا۔انہوں نے کہا حکومت کی جانب سے حفاظتی اقدامات تو کجا حکومت انہیں احتجاج کرنے کی بھی اجازت نہیں دے رہی۔

مزید : بین الاقوامی