سات سوالوں کے جواب نہ پانے والی اپوزیشن نے 70سوالات تیار کرلئے

سات سوالوں کے جواب نہ پانے والی اپوزیشن نے 70سوالات تیار کرلئے
سات سوالوں کے جواب نہ پانے والی اپوزیشن نے 70سوالات تیار کرلئے

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سات سوالوں کے جواب کے حصول میں ’ناکام‘اپوزیشن نے 70سوالات تیار کرلئے۔اپوزیشن نے پاناما لیکس کے حوالے سے ہونے والے قومی کے اجلاس پر عدم اطمینان کا اظہا ر کرنے کے بعد آج وزیراعظم سے پوچھنے کیلئے مزید 70سوالات تیار کئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں پاناما لیکس پر موجودہ سیاسی صورتحال اور اپوزیشن کے سات سوالات کے حوالے سے قومی اسمبلی میں خطاب کیا تھا جس میں انہوں نے بقول حزب اختلاف اپوزیشن کے سوالا ت کا جواب نہیں دیا بلکہ جو نئی باتیں ان سنائیں ان میں سے مزید 70سوالات نے جنم لیا ہے۔

اپوزیشن کا کہنا تھا کہ اب وزیراعظم کو سات نہیں بلکہ ستر سوالوں کا جواب دینا پڑے گا ۔اپوزیشن جماعتوں نے خورشید شاہ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں ان 70سوالوں پر مشتمل سوالنامہ کو تیار کر لیا ہے ۔نیا سوالنامہ 12صفحات پر مشتمل ہے۔

نئے سوالنامہ میں پوچھا گیا ہے کہ نوازشریف حکومت وضاحت کرے کہ ان کے خاندان نے بیرون ملک پیسہ کیسے بھجوایا؟ کیا یہ بات درست نہیں 1995-96 کی مدت میں مزید 3 اپارٹمنٹس خریدے گئے؟

کیا وزیراعظم نے اپنے نابالغ بچوں کے ٹیکس گوشوارے جمع کروائے؟ 1993 میں پارک لین اپارٹمنٹ 17 کی خریداری کے وقت حسن نواز 17 سال کے تھے۔ کیا یہ درست نہیں کہ حسن نواز نے 2004 میں لندن میں 12 فلیٹ خریدے؟

وزیراعظم وضاحت کریں ، انکے خاندان نے ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک پیسے بھجوائے ، کیا یہ حقیقت نہیں کہ 1988 سے 1991 تک 5 کروڑ 68 لاکھ ڈالر باہر بھجوائے گئے۔ وزیر اعظم نے 1988 سے 1991 تک صرف 887 روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔ ہنڈی کے ذریعے تمام رقم باہر بھجوانے کا مقصد کالے دھن کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔

مزید استفسار کیا گیا کہ کیا آپ تسلیم کرینگے کہ 1988 میں 7 لاکھ ڈالرعمان بینک شارجہ سے لاہور بھجوائے گئے۔ 1990 میں نواز شریف نے رمضان شوگر مل کیلئے فیصل بینک سے 30 ملین ڈالر قرض لیا۔

مزید : قومی /اہم خبریں