غوطہ خوروں کو سمندر کی تہہ میں تاریخ کا بڑا خزانہ مل گیا، سکوں پر کس کی تصاویر بنی ہوئی تھیں؟ جان کر آپ کیلئے بھی یقین کرنا مشکل ہوجائے گا

غوطہ خوروں کو سمندر کی تہہ میں تاریخ کا بڑا خزانہ مل گیا، سکوں پر کس کی تصاویر ...
غوطہ خوروں کو سمندر کی تہہ میں تاریخ کا بڑا خزانہ مل گیا، سکوں پر کس کی تصاویر بنی ہوئی تھیں؟ جان کر آپ کیلئے بھی یقین کرنا مشکل ہوجائے گا

  

تل ابیب (نیوز ڈیسک) اسرائیل کی ایک قدیم بندرگاہ کے قریب غوطہ خوروں کو سمندر کی تہہ میں ایسا نایاب خزانہ مل گیا کہ جسے دیکھنے والے ماہرین آثار قدیمہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے۔

ویب سائٹ i24news.tvکے مطابق اسرائیل کی آثار قدیمہ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ نوادرات کا یہ خزانہ قدیم قیصریہ کی بندرگاہ کے قریب دریافت ہوا۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ خزانہ 1600سال قبل یہاں ڈوبنے والے ایک تجارتی بحری جہاز میں لدا تھا۔ ماہر غوطہ خوروں ران فائن سٹائن اور اوفر رانان نے ڈیڑھ ہزار سال قبل ڈوبنے والے اس بحری جہاز کی باقیات کا سراغ لگایا۔

مصر میں ہزاروں سال پرانی لاش دریافت، جسم پر ایسے الفاظ لکھے تھے کہ آپ بھی ’استغفار‘ کا ورد کریں گے

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

اسرائیلی حکام کے مطابق دریافت ہونے والے خزانے میں کانسی کے قدیم مجسمے بھی شامل ہیں، جنہیں قدیم مذاہب کے دیوی دیوتاﺅں کی پرستش کے لئے بنایا گیا تھا۔ ان میں سورج دیوتا ”سول“ کا مجسمہ، چاند دیوی ”لیونا“ کا مجسمہ، ایک افریقی غلام کا سر اور کئی جانوروں اور پرندوں کے مجسمے بھی دریافت ہوئے ہیں۔ ریت میں محفوظ ہوجانے والے یہ مجسمے ڈیڑھ ہزار سال گزرنے کے باوجود شاندار نظر آتے ہیں۔

قدیم اور نایاب مجسموں کے علاوہ نایاب سکوں سے بھرے متعدد ظروف بھی برآمد ہوئے۔ ان سکوں پر آج سے 17صدیاں قبل سلطنت روم پر حکمرانی کرنے والے شہنشاہ کانسٹنٹین کی تصویر کندہ ہے۔ یہ رومی شہنشاہ پہلے مغربی سلطنت اور پھر پوری رومن سلطنت کا حکمران بنا۔ اسرائیلی ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ درجنوں مجسموں اور ہزاروں سکوں پر مشتمل ڈیڑھ ہزار سال پرانا خزانہ دریافت ہونا بہت بڑا تاریخی واقعہ ہے، جس کی گزشتہ تین دہائیوں کے دوران کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس