سعودی کمپنیوں پر آئندہ تین ماہ میں ہیکرز کے بڑے حملے ہوں گے:ٹیکنالوجی ماہر

سعودی کمپنیوں پر آئندہ تین ماہ میں ہیکرز کے بڑے حملے ہوں گے:ٹیکنالوجی ماہر
سعودی کمپنیوں پر آئندہ تین ماہ میں ہیکرز کے بڑے حملے ہوں گے:ٹیکنالوجی ماہر

  

جدہ (محمد اکرم اسد) آئندہ تین ماہ کے دوران سعودی عرب کی بیشتر کمپنیوں کے کمپیوٹر نظام پر ہیکرز کے حملے ہوسکتے ہیں۔ ان کمپنیوں کا ہیکرز سے محفوظ رکھنے والا نظام پرانا ہوچکا ہے۔ یہ بات سعودی عرب کے انفارمیشن ماہر نے کہی۔

سعودی عرب کی 29فیصد کمپنیوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ ان کے الیکٹرونک سسٹم کی سب سے بڑی کمزوری ان کا دفاعی نظام ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی نظام سے ہیکرز زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق مقامی کمپنیوں میں کام کرنے والے 60 فیصد ملازمین کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا دفاعی نظام ناکارہ اور پرانا ہوچکا ہے مگر وہ اس بارے میں نہیں جانتے۔ ان کے خیال میں دفاعی نظام کو بہتر بنانے کی ذمہ داری کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں کی ہے ۔ بعض نے اعتراف کیا کہ ان کے سسٹم پر ہونے والے حملوں سے کمپنی مالکان بے خبر ہیں۔ ماہرین کے مطابق جیسے کمپنیاں اپنے ملازمین کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے تربیت دیتی ہیں اسی طرح انہیں ہیکرز سے محفوظ رکھنے کی تربیت بھی دی جائے۔ 50 فیصد ملازمین ہیکرز سے محفوظ رہنے کی بنیادی معلومات سے بھی واقف نہیں ہیں۔ سائبر کرائم کے ماہر محمد السریعی نے کہا کہ مختلف اداروں کو ہیک کرنے کے لئے تین طریقے سب سے زیادہ معروف ہیں۔ پہلا یہ کہ سوشل ویب سائٹ بنا کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں، دوسرا ای میلز بھیجنے کا ہے اور تیسرا طریقہ پیغامات کا ہے جس کے ذریعے وہ سسٹم تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔

مزید : عرب دنیا