قومی اسمبلی میں دو منٹ کی تقریر کرنے کا حکم شیریں مزاری نے دیا ،واک آﺅٹ تمام جماعتوں کا متفقہ فیصلہ تھا :خورشید شاہ

قومی اسمبلی میں دو منٹ کی تقریر کرنے کا حکم شیریں مزاری نے دیا ،واک آﺅٹ تمام ...
قومی اسمبلی میں دو منٹ کی تقریر کرنے کا حکم شیریں مزاری نے دیا ،واک آﺅٹ تمام جماعتوں کا متفقہ فیصلہ تھا :خورشید شاہ

  

اسلا م آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہاہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری نے  انہیں آ کر حکم دیا کہ آپ نے اپنی تقریر صرف دو منٹ کی کرنی ہے ،قومی اسمبلی سے واک آﺅٹ پیپلز پارٹی ،تحریک انصاف اور ایم کیوایم کا متفقہ فیصلہ تھا ۔

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے گزشتہ ورز کے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے ماضی کے مقابلے میں انتہائی سمجھداری دکھائی ہے ،وزیراعظم نوازشریف کے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کے بعد واک آﺅٹ کرنے کافیصلہ اپوزیشن کا متفقہ تھا اس میں ایم کیوایم بھی شامل تھی ،واک آﺅٹ کی سب سے بڑی حمایتی پی ٹی آئی تھی ۔انہوں نے کہا کہ شیریں مزاری ان کے پاس آئیں اور وہ کافی سخت تھیں ،انہوں نے کہا کہ آپ نے اپنی تقریر صرف دومنٹ کی کرنی ہے جس میں تمام چیزیں آ جائیں ،تحریک انصاف اپنے نوجوانوں کو سمجھائے کہ واک آﺅٹ کاپریشر پی ٹی آئی کا تھا ۔

خورشید شاہ کا کہناتھا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں واک آﺅٹ کافیصلہ کیا گیا تھا ،میں اور عمران خان کل قومی اسمبلی سے خطاب کریں گے اور اپنا موقف پیش کریں گے ،نوازشریف کی تقریر سے متعلق مزید 70سوالات تیار کیے ہیں اور وہ تمام سوالات قومی اسمبلی میں اٹھائیں گے ۔انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ کے اپوزیشن اتحاد سے الگ ہونے پر کہا کہ وہ ایم کیوایم کو واپس لانے کی کوشش کریں گے ۔ان کا کہناتھا کہ پانامالیکس صرف پی ٹی آئی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ پوری قوم کا ایشو ہے ،جس وقت دبئی پیسہ بھیجا گیا اس وقت سٹیٹ بینک کی اجازت کے بغیر پیسہ نہیں بھیجا سکتاتھا۔

قائد حزب اختلاف کا کہناتھا کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار جو کچھ کہہ رہے ہیں ،میں یہ سمجھتاہوں کہ وہ چوہدری نثار نہیں بلکہ حکومت کہہ رہی ہے ،وفاقی وزیر کو نہیں جچتا کہ وہ فائل لے کر اپوزیشن کو بلیک میل کریں ،چوہدری نثار کے پاس میرے خلاف ثبوت ہیں تو سامنے لائیں ۔انہوں نے کہا کہ ان سے حکومت اور اپوزیشن سمیت سب خوش ہیں ،یہ اللہ کی مہربانی ہے ،اعتزاز احسن پارٹی لائن کے مطابق ہی بات کر رہے ہیں اگر وہ خود سے بات کر رہے ہوتے توپارٹی انہیں روک دیتی ،اعتزاز احسن کے ساتھ 30سال سے چل رہے ہیں ،ہم لڑیں گے نہیں کیونکہ ایک دوسرے کو بہت اچھے سے جانتے ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ اپوزیشن کمزور ہونے سے حکومتیں نہیں چلتیں ،اپوزیشن کا ٹوٹنا حکومت کیلئے دھچکا ہوگا ،ہم مانتے ہیں کہ نوازشریف کا نام پانامالیکس نہیں ہے ۔

صحافی حامد میر نے خورشید شاہ سے سوال کیا کہ حکومت اس وقت کافی پر اعتماد اور مضبوط نظر آرہی ہے آپ کا اس بار میں کیا خیال ہے ؟جس پر خورشید شاہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں کچھ بھی ہو سکتاہے ،چیئرمین سینٹ رضا ربانی ہوشیار ہو جاﺅ کے نعرے لگا رہے ہیں ،جب طوفان آتاہے تو بعض کمزور درخت بھی رہ جاتے ہیں اور ٹہنیاں ٹوٹ جاتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بکھری ہوئی اپوزیشن کو اکھٹا کیاہے ،اپوزیشن کا اصل مقصد جمہوریت کو بتانا ہے ۔

مزید : قومی /اہم خبریں