ہائی کورٹ نے وفاقی خاتون محتسب یاسمین عباسی کے خلاف کارروائی کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفر کردیا

ہائی کورٹ نے وفاقی خاتون محتسب یاسمین عباسی کے خلاف کارروائی کا معاملہ سپریم ...
ہائی کورٹ نے وفاقی خاتون محتسب یاسمین عباسی کے خلاف کارروائی کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفر کردیا

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی حکم عدولی اورعدالت کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کرنے پروفاقی خاتون محتسب یاسمین عباسی کے خلاف کارروائی کے لئے معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفر کردیا ہے۔مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے 24صفحات پرمشتمل اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ وفاقی خاتون محتسب یاسمین عباسی کا رویہ محتسب ایکٹ 2013ئکی دفعہ 5کے زمرہ میں آتا ہے جس کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کو محتسب کوبوجوہ اس کے عہدہ سے ہٹانے کا اختیار حاصل ہے۔فیصلے میں مزید قرار دیا گیا ہے کہ سلیم جاوید بیگ کی درخواست پر حکم امتناعی کے باوجود خاتون محتسب نے اس کے خلاف کارروائی جاری رکھی جس پر سلیم جاوید بیگ کی طرف سے توہین عدالت کی درخواست دائر گئی،اس درخواست پرعدالت نے خاتون وفاقی محتسب کو درخواست گزار کے خلاف ہر قسم کی چارہ جوئی سے روک دیا، عدالت عالیہ کے حکم امتناعی کے خلاف خاتون محتسب نے توہین آمیز رویہ اپنایا اور عدالت میں پیش نہیں ہوئیں جس پر عدالت نے خاتون محتسب کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یاسمین عباسی کا رویہ محتسب ایکٹ 2013ئکی دفعہ 5 کی زد میں آتا ہے، دفعہ 5کے تحت وفاقی محتسب کو ہٹانے کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ہے، دفعہ 5کے تحت ایسا شخص جوذہنی طور پر کام کرنے کااہل نہ ہو اسے اسے محتسب کے عہدہ سے سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی کرکے فارغ کرسکتی ہے۔علاوہ ازیں کونسل کے ذریعے فرائض میں کوتاہی پر بھی وفاقی محتسب کو ہٹایا جا سکتا ہے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ خاتون محتسب نے آئینی عدالت کے ساتھ توہین آمیز رویہ اپنایا، ہائیکورٹ نے خاتون وفاقی محتسب کی سلیم جاوید بیگ ایڈووکیٹ کے خلاف کارروائی بھی غیرقانونی قرار دے دی۔واضح رہے کہ خاتون محتسب یاسمین عباسی نے جسٹس سید منصور علی شاہ کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردیئے تھے جس پرسپریم کورٹ پہلے ہی یاسمین عباسی کے خلاف ازخود نوٹس لے کر انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کر چکی ہے۔

مزید : قومی