ہائی کورٹ:کانسٹیبل کے قتل کے مقدمہ کے سزائے موت اور عمر قید کے3ملزم بری

ہائی کورٹ:کانسٹیبل کے قتل کے مقدمہ کے سزائے موت اور عمر قید کے3ملزم بری
ہائی کورٹ:کانسٹیبل کے قتل کے مقدمہ کے سزائے موت اور عمر قید کے3ملزم بری

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے کانسٹیبل کے قتل میں ملوث سزائے موت کے ایک اور عمر قید کے دو مجرموں کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس سید شہباز علی رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سزائے موت کے مجرم سرفراز عرف سفری، عمر قید کے مجرم محمد اختر اور محمد شاہد کی اپیلوں کے خلاف درخواست پر سماعت کی، مجرموں کی طرف سے چودھری عثمان نسیم ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ شیخوپورہ نے شواہد نظر انداز کر کے تینوں مجرموں کی سزا سنائیں، مجرموں کے خلاف کانسٹیبل علی احمد ورک کے قتل کا الزام تھا لیکن وقوعہ رات کے وقت ہوا جس کا کوئی عینی شاہد موجود نہیں ہے، ٹرائل کے دوران بھی گواہوں کے بیانات میں تضاد موجود ہے اور نہ ہی مجرموں کی شناخت پریڈ کروائی گئی لیکن اس کے باوجود ٹرائل کورٹ نے تینوں مجرموں کو سزا سنا دی، انہوں نے استدعا کی مجرموں کی سزا کالعدم کر کے انہیں بری کرنے کا حکم دیا جائے، سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ کے دوران گواہوں نے مجرموں کے خلاف بیان دیا، تینوں مجرم کانسٹیبل کے قتل میں ملوث ہیں، ایسے مجرموں کے ساتھ رعایت نہیں برتی جا سکتی، دو رکنی بنچ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد تینوں کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔

مزید :

لاہور -