ڈان لیکس۔ پانامہ لیکس اور سندھ میں فنڈز کی لڑائی

ڈان لیکس۔ پانامہ لیکس اور سندھ میں فنڈز کی لڑائی
ڈان لیکس۔ پانامہ لیکس اور سندھ میں فنڈز کی لڑائی

  



ملکی ترقی میں جہاں سی پیک کی باز گشت سنائی دے رہی ہے اور خوشحالی کی طرف جاتا ہوا پاکستان واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے وہیں پانامہ کیس اور ڈان لیکس کے مسائل ابھی تک اُچھالے جا رہے ہیں۔ہر اپوزیشن کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ حکومتِ وقت کو دباؤ میں رکھے، مگر اُس کے لئے پارلیمینٹ کا راستہ چھوڑ کر سڑکوں اور دھرنوں کا سہارا لیا جا رہا ہے اور آج کل تو ایسے ایسے لوگ بھی جلسے کر رہے ہیں جنہیں کرپشن کے بارے میں کئی خطابات سے نوازا جا چکا ہے۔

پہلے ڈان لیکس کی طرف چلتے ہیں، فوج کی طرف سے ٹویٹ کا آنا کوئی اچھا عمل نہیں تھا اور اگر حکومت اور فوج نے اِس غلط فہمی کو دور کرلیا ہے تو اس کے بعد عمران خان کا یہ کہنا کہ عوام مطمئن نہیں، کوئی سمجھ میں آنے والی بات نہیں، کیا انہیں تعلقات میں دراڑیں ڈالنے کیلئے سیاست کرنی ہے یا مُلک کو سنوارنے کیلئے؟ ہر چیز کو منفی سیاست کی طرف لے جانا بہت بڑی لیڈر شپ کے شایانِ شان نہیں، اقتدار کا حصول مثبت عمل ہے اور اس کے حصول کا طریقہ کار بھی مہذب اور شائستگی سے بھرپور ہونا چاہئے۔ گزارش ہے کہ سب کو مثبت رویوں کی ضرورت ہے۔ دوسرا معاملہ پانامہ کا ہنگامہ ہے۔ عدالتوں میں تو کام ہوتا رہا، جبکہ عدالتوں کے باہر پانامہ ایک ہنگامے اور ڈرامے کی شکل اختیار کر گیا اور دونوں طرف سے بڑھکیں عوام پر بُرا تاثر چھوڑتی رہیں جب عدالت عالیہ نے فیصلہ دیا تو ان یقین دہانیوں کے باوجود کہ ہم عدالت کا فیصلہ من و عن تسلیم کریں گے تو پھر جھگڑا کس بات کا۔ عدالت نے جے آئی ٹی تشکیل دے دی ۔ وہ کام بھی تیزی سے کر رہی ہے، مگر کوئی نہ کوئی نئی تاویل روزانہ سنائی جاتی ہے جے آئی ٹی کی کارروائی کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ لوگ کیوں بھول جاتے ہیں کہ عدالت عالیہ نے جے آئی ٹی کو آزاد نہیں چھوڑا اور ہر 15دن بعد رپورٹ طلب کی ہے، مگر یہ اعتراضات کرنے والے اور شام کو ٹاک شوز میں گفتگو کرنے والے بلاوجہ شور مچاتے ہیں جو دباؤ ڈالنے کا طریقہ ہے۔سیاست دان اس طریقہ سے خود کو پستیوں کی طرف لے جا رہے ہیں ان کو کسی ایک نکتہ پر تو پہرہ دینا چاہئے۔ پانامہ لیکس کا معاملہ عدالت عالیہ کے سپرد ہے اس کی فکر کرنے کی بجائے عوام کو اپنے وہ پروگرام دیں جو ملکی ترقی، عوام کی بہتری اور قوم کے متحد ہونے کے لئے ہوں۔ بہت ہو چکی پانامہ اور ڈان لیکس پہ سیاست‘ اب چھوڑیں عدالت پہ اور اپنے اپنے صوبوں میں محنت کریں۔

تیسرا مسئلہ ہے کراچی میں شہری مسائل اور سندھ میں گڈ گورننس کا مسئلہ نہ تو نقل کنٹرول ہوئی نہ آئی جی کا جھگڑا، نہ ہی پانی ملا شہریوں کو اور نہ ہی بجلی، رینجرز کی وجہ سے جو امن آیا شاید اسے بھی تہس نہس کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اور عوام میں بے چینی ہے، مصطفی کمال سندھ حکومت سے وہ مطالبات کر رہے ہیں جو جائز ہیں۔ عوام کی فیور میں ہیں اور حکومت کے کرنے کے کام ہیں۔ بلدیاتی ادارے ہوں تو وہ بھی تو حکومت کا حصہ ہیں۔ کراچی کا کچرا اٹھانے کے لئے بحریہ ٹاؤن کو میدان میں آنا پڑا۔ یہ وہ حکومت ہے جو صرف بلدیاتی اداروں کے فنڈز روک کر کی جا رہی ہے اور ہر معاملے میں وہاں کرپشن کا راج ہے، بعض لوگ تو یہ سوال بھی اٹھا ہے ہیں کہ سیہون شریف میں شہید ہونے والوں کا معاوضہ پہلے دس لاکھ فی کس اور پھر ایک کروڑ فی کَس کر کے کس کو فائدہ پہنچایا گیا اور حق داروں کو دس لاکھ بھی ملے کہ نہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی بڑی جماعت ہو کر سندھ میں بہت چھوٹا کردار ادا کر رہی ہے۔ سندھ حکومت جب سکھر، حیدر آباد اور کراچی کو بہتر نہ کر سکی تو اندرونِ سندھ والوں کا کیا حال ہو گا اللہ جانے یا سندھ کے سیاستدان۔

مزید : کالم