آمریت اور ترقی ۔۔۔ (آخری قسط)

آمریت اور ترقی ۔۔۔ (آخری قسط)
 آمریت اور ترقی ۔۔۔ (آخری قسط)

  

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی کی نازل کردہ شریعتوں نے غیر مفید اور غیر ورزشی کھیل وتفریح‘ کام میں حارج ہونے والے نشہ جوئے بازی‘ سود خوری وغیرہ ایسی چیزیں حرام قرار دی ہیں کیونکہ یہ مفید ہونے کے بجائے سخت نقصان دہ ہیں اسی حاجت اور استفادہ کے پیش نظر بعض لوگوں نے مہتر کو جراح پرترجیح دی ہے۔ کیونکہ عوام کے لئے اس کا پیشہ جراح کے پیشے سے زیادہ سودمند ہے۔ اسی طرح نانبائی کو ’’شاعر‘‘ پر ترجیح دی گئی ہے۔ کیونکہ اس کی افادیت زیادہ ہے۔

آزاد انسان اپنی شخصیت کا تنہا اور واحد مالک ہوتا ہے اور اپنی قوم کا مخلص خادم ہوتا ہے جب کوئی قوم ہیئت کے لحاظ سے ترقی کے اس درجہ پر پہنچ جاتی ہے کہ اس کا ہر فرد اپنی جان ومال قوم پرنچھاور کردینے کے لئے ہر وقت آمادہ رہتا ہے تو اس وقت سے قوم اپنے سپوتوں کی جانی ومالی قربانیوں کی احتیاج سے نجات پالیتی ہے۔

غم ودولت کی معراج باقی تمام تربیتوں سے اسی طرح نمایاں حیثیت رکھتی ہے جس طرح سرجسم کے باقی اعضاء سے پھر جس طرح سرعقل اور بیشتر دوسرے حواس کا مرکز ہونے کی وجہ سے تمام جسمانی اعضاء پر حکومت کرتا ہے۔ اسی طرح آئین پسند حکومتیں اپنے افراد اور جماعتوں کی علمی و مالی ترقی کی اساس پر قدرت رکھنے کی وجہ سے ان افراد واقوام پر غالب آجاتی ہیں جنہیں منحوس آمریت جہالت وافلاس کے اندھیرے غار میں دھکیل چکی ہے۔

رہا اخلاق اور روحانی ترقی کا مسئلہ تو یہ بہت طویل بحث چاہتا ہے اور اس کتاب کی حدود میں نہیں سماسکتا۔ اس کے سرچشمے الہامی کتابوں اخلاقی تحریروں اور مشاہیر عالم کی سوانح حیات میں موجود ہیں۔ تاہم یہاں اتنا واضح کردینا ضروری ہے کہ ترقی کے اس میدان میں بھی آزاد انسان اس منزل سے ہمکنار ہوچکا ہے کہ اپنی ذاتی زندگی کو وہ محض ثانوی حیثیت دیتا ہے اس کی نظر میں اہم ترین شے اس کی قومی زندگی ہوتی ہے۔ اور اس کے بعد ذاتی آزادی ذاتی عزت اور اپنے خاندان کو جگہ دیتا ہے اور کبھی تو اس کا احساس تمام عالم انسانیت کو اپنے احاطہ میں لے لیتا ہے اور وہ سمجھنے لگتا ہے کہ دنیا کے تمام انسان ایک قوم ہیں اور تمام دنیا اس کا وطن اور کبھی اخلاقی وروحانی ترقی انسان کو اس درجہ پر پہنچادیتی ہے کہ وہ حکومت واقتدار کوچھونے میں بھی عار محسوس کرنے لگتا ہے کیونکہ اس میں نخوت پسندی کی بوملتی ہے اور تجارت کے پیشہ سے گریز کرتا ہے کیونکہ اس میں کسی قدر فریب اور چاپلوسی سے کام لیناپڑتا ہے وہ بے غرض صاحب قلم بننا چاہے گا یا ہل اور ہتھوڑے کا پیشہ اختیار کرنا پسند کرے گا مختصر یہ کہ تقدیر نے جن کاموں کو آمریت سے گلوخلاصی کرانے کا موقع دیا ہے وہ مادی واخلاقی شرافت و عزت نفس سے اس قدر مالا مال ہوتی ہیں کہ آمریت کے گرفتار خواب میں بھی ان کا خیال نہیں کرسکتے۔

کیا اسیران آمریت ان خوشیوں کا تصور کرسکتے ہیں جن سے یہ مہذب ومتمدن قومیں بہرور ہورہی ہیں جبکہ وہ ان کے خواب وخیال سے ماورا ہیں بھلا یہ اسیر کیاجانیں کہ علم وتربیت کی لذت کیسی ہوتی ہے؟ شرافت کا نشہ کیسا ہے؟ دولت وفیاضی کی مسرت کیا ہے؟ دنیامیں نیک نامی کی خوشی کیا ہے؟ صحت مند افکار اور ان کی ترویج کی لذت کیسی ہے؟ ان اسیروں اور حیوان صفت انسانوں کی تمام مسرتیں اور لذتیں صرف اسی میں مضمر ہیں کہ بہیمانہ زندگی بسر کریں اور اپنے پیٹ کو جانوروں کی قبر یا نباتات کا گھورہ بنائیں اور چاہے اپنی شہوانی خواہشات کی تسکین کریں گویا ان کی شہوانی قوت ایک ایسا پھوڑا ہے جو ہر وقت پیپ بہاتارہے۔

انسان کی سب سے زیادہ مفید ترقی یہ ہے کہ اس نے حکومت کی تشکیل اور تنظیم کی آمریت اس ترقی کی راہ میں آہنی دیوار حائل کردیتی ہے حالانکہ جو آئینی حکومت جملہ طاقتوں پر قانونی اقتدار کاحکم رکھتی ہے اس میں قانون سازی کا مجاز صرف قوم کو قراردیا جاتا ہے عدالتوں کاوقار اتنا بڑھا دیاجائے کہ وہ امیر وغریب سب پر مساوی حکم چلائیں وہ اپنے بے لاگ عدل میں سب سے بڑی عدالت یعنی عدالت الیہہ کا نمونہ پیش کریں یہی نہیں بلکہ متمدن ملکوں میں افسران اور احکام جو عوام کی خدمت پر مامور ہیں اس طرح جکڑدیئے جاتے ہیں کہ وہ اپنے فرائض کے حلقہ سے ایک قدم بھی باہر نہیں نکال سکے گویا فرشتے ہیں جو کسی حکم کی بھی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ پھر خود قوم اتنی بیدار ہوتی ہے کہ اپنی حکومت کا پورا پورا محاسبہ کرتی ہے ایک لحظہ کے لئے بھی اس سے غافل نہیں ہوتی اور معمولی سے معمولی لغزش پر بھی اسے سختی سے تنبیہ کرتی ہے۔

آزاد قوموں نے جب اپنی حالت اس حد تک مستحکم اور کامل بنالی تو خدا نے بھی انہیں آمریت اور اس کی تباہ کاریوں سے نجات دے دی۔ کیونکہ وہ اعلی ترین ہستی کبھی ایسے لوگوں پر اپنا قہر نازل نہیں کرتی جو برابر اپنی اصلاح کرتے رہیں۔(ختم شد)

مزید :

کالم -