شجاع قوم پٹھان کی تاریخی داستان، قسط نمبر 53

شجاع قوم پٹھان کی تاریخی داستان، قسط نمبر 53
شجاع قوم پٹھان کی تاریخی داستان، قسط نمبر 53

  

پنی، پانینی، پنینی پر ایک نظر

قبل ازیں پنی کاذکر ہو چکا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اس کا تعارف بھی کیا جائے۔ اس کو غیر افغان مورخین نے پانینی اورپنینی کے نام سے یادکیا ہے لیکن اس کا اصل اور صحیح نام پنی تھا۔ اور وہ نسلا ان اسرائیلی جلاوطنوں کے اولاد سے تھا جو مادیوں کے ملک میں جلا وطن ہو چکے تھے ۔افغان مورخین نے اسکو غرغشت افغان قبیلہ سے منسلک بتایا ہے۔ غرغشت یعنی وہ اسرائیلی افغان قبائل جو غرجستان یا گرجستان میں آباد ہو چکے تھے اور وہاں ان کی اپنی ریاست بھی بن گئی تھی۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔ لہٰذا ان کا ایک گروپ یعنی قبیلہ بنایا گیا تھاجس سے افغانوں کا تیسرا بڑا قبیلہ غرغشت کے نام سے موسوم کیاگیا۔ غرغشت میں تین بڑے قبائل شامل تھے۔ جن کے نام یہ ہیں دانی، مندو، اور بابی، دانی کے چار بیٹے ، کاکڑ، ناغر، پنی، دادی تھے۔ بموجب بیان تاریخ خان جہانی و مخزن افغانی پنی کے اٹھارہ بیٹے تھے اور اسکے تمام بیٹوں کے نام سے الگ الگ خیل اور قبیلے بن گئے ہیں۔ پنی کے بڑے بیٹے کا نام یہودا اور یہوداکے ایک بیٹے کا نام پتھان تھا۔ شجرہ نسب یوں ہے۔ پنی بن دانی بن غرغشت بن قیس عبدالرشید ۔واضح ہو کہ دانی قبیلہ (بنی دان) شام میں بھی موجود تھا جس کاذکر کتاب مقدس کے قضاۃ (اردو) باب اٹھارہ صفحہ ۲۲۹

شجاع قوم پٹھان کی تاریخی داستان، قسط نمبر 52 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

یوں ہوا ہے

’’بنی دان کے گھرانے کے چھ سو مرد جنگ کے ہتھیار باندھے ہوئے (مقام ) صرعہ واستال سے روانہ ہوئے۔۔۔بنی دان نے شہر بنایا اور اس میں رہنے لگے اور اس شہرکانام اپنے باپ دان کے نام پرجواسرائیل کی اولادتھا ۔ دان ہی رکھا لیکن پہلے اس شہر کا بس تھا،اسکا ایک بیٹانام سمسوسن تھا۔

یعنی دور قضاۃ کے مشہور رہنما اوربہادر شخص سموسن نامی اس دانی خاندان سے تھا۔ اب ایک اور دانی کے متعلق بھی ذکر ضروری ہے۔ وہ دانی ایل بنی ہے جو اسرائیل اسیران میں تھا اور وہ خورس شاہ ایران کے بابل کو فتح کرنے کے وقت بابل میں موجود تھا۔ اور دارا کے ابتدائی عہد میں زندہ تھا جس کا ذکر کتاب مقدس میں دانی ایل کے عنوان سے کیا گیا ہے۔ پنی بن دانی کا زمانہ بھی اس کے ساتھ ایک ہی معلوم ہوتاہے۔ دوئم یہ کہ دانی ایل بنی کی سمجھداری اور علمی مدارج بہت ہی اونچے ہیں اور یہی علمی قابلیت اور سمجھداری پنی مذکورہ میں بھی ظاہر ہے لہٰذا غالب رائے یہ ہے کہ پنی اس دانی نبی کا بیٹا ہے اور افغان مورخین کے شجرہ نسب کے مطابق بھی پنی بن دانی درج ہے۔ پنی اس وقت افغانوں کا ایک بڑا نامور قبیلہ ہے اور مختلف مقامات پرپھیلا ہوا ہے یہاں تک کہ ضلع چٹاگانگ میں بھی ایک قصبہ پنیا کے نام سے موجود ہے ۔ غرغشت قبائل کااپنا وطن کوہ سلیمان کا علاقہ ہے ان میں سے قبیلہ پنی زیادہ تر علاقہ سیوی (سبی) میں آباد ہیں۔

جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے  کیلئے یہاں کلک کریں۔

پٹھانوں کی تاریخ پر لکھی گئی کتب میں سے ’’تذکرہ‘‘ ایک منفرد اور جامع مگر سادہ زبان میں مکمل تحقیق کا درجہ رکھتی ہے۔خان روشن خان نے اسکا پہلا ایڈیشن 1980 میں شائع کیا تھا۔یہ کتاب بعد ازاں پٹھانوں میں بے حد مقبول ہوئی جس سے معلوم ہوا کہ پٹھان بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے آباو اجداد اسلام پسند تھے ۔ان کی تحقیق کے مطابق امہات المومنین میں سے حضرت صفیہؓ بھی پٹھان قوم سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہودیت سے عیسایت اور پھر دین محمدیﷺ تک ایمان کاسفرکرنے والی اس شجاع ،حریت پسند اور حق گو قوم نے صدیوں تک اپنی شناخت پر آنچ نہیں آنے دی ۔ پٹھانوں کی تاریخ و تمدن پر خان روشن خان کی تحقیقی کتاب تذکرہ کے چیدہ چیدہ ابواب ڈیلی پاکستان آن لائن میں شائع کئے جارہے ہیں تاکہ نئی نسل اور اہل علم کو پٹھانوں کی اصلیت اور انکے مزاج کا ادراک ہوسکے۔

مزید : شجاع قوم پٹھان