ٹیکنالوجی ذہن سازی نہیں کرتی

ٹیکنالوجی ذہن سازی نہیں کرتی
ٹیکنالوجی ذہن سازی نہیں کرتی

  



دنیا میں روزانہ ہزاروں نئی ویب سائٹس منظر عام پر آتی ہیں، ان میں سے چند ایک ہی شہرت کے بام عروج تک پہنچ پاتی ہیں۔ پاکستان میں بھی بہت سے لوگ مختلف مقاصد کے لئے بہت سی ویب سائٹس چلا رہے ہیں۔ زبان و بیان کے حوالے سے دیکھا جائے تو اردو اور انگریزی دونوں طرز کی سائٹس نظر آتی ہیں۔ حالیہ کچھ عرصے میں فیس بک، گوگل، پھر ونڈوز اور موبائل پر اردو فونیٹک اور یونی کوڈ میں لکھنے کی آسانی کی وجہ سے قاری اور لکھاری دونوں کا رجحان اردو بلاگنگ اور بتدریج اردو سائٹس کی طرف بڑھا ہے۔ سوشل میڈیا کی تعریف میں یوں تو بہت کچھ آ جاتا ہے، فورمز، سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس، پکچر شئیرنگ، مائکرو بلاگنگ، بک مارکنگ، چیٹ، گروپس، بزنس اور پروفیشنل پروفائلنگ، ویڈیو شئیرنگ، میوزک اور آڈیو شیئرنگ، سوشل آرٹس اور وکیز وغیرہ۔ بہرحال ہمارے ہاں زیادہ مقبولیت میں فیس بک کو ہی نمایاں مقام ہے۔ اردو میں لکھنے والوں کے ہاں فیس بک پر بات سٹیٹس لگانے سے آگے بڑھی تو لمبے پیغامات، پھر آہستہ آہستہ فین فالونگ بنی تو فیس بکی کالمز، یا بلاگ وغیرہ دوسری سائٹس کو چھوڑ کر اردو میں انفرادی طور پر لکھے جانے لگے اور اچھا لکھنے والوں نے پذیرائی بھی پائی۔ اب ایک سلسلہ چل نکلا، کچھ لکھنے والوں کو یہاں بھی کچھ پڑھنے والے مل گئے اور چل سو چل۔ لکھنے والوں نے ایک دوسرے کو بھی شامل کیا اور رسمی اور غیر رسمی، نظریاتی اور مفاداتی گروپنگ بھی ہوگئی۔ اس اثنا میں کچھ اردو ویب سائٹس شروع ہوئیں جنہوں نے صرف بلاگز یا سوشل میڈیا کے لکھاریوں کو جمع کر کے یونی کوڈ میں پبلش کرنا شروع کر دیا۔ اس میں بھی کچھ سائٹس کو اچھا ریسپانس ملا تو ہر ایک مارکیٹ کی طرح اس میں بھی کھمبیاں اگ آئیں۔ پرانے لکھاریوں میں من ترا حاجی بگویم، تْو مرا ملا بگو کے مصداق ایک دوسرے کی شان میں قصیدے اور تعریف و توصیف بھی برسنے لگی۔ دوسرا اثر یہ ہوا کہ جس کو بھی میری طرح چار دن لگا کر اردو ٹائپ کرنی آ گئی وہ بھی اپنے آپ کو لکھاری کہنے سننے پر اصرار کرنے لگا۔ لکھاریوں بلکہ ویب سائٹس کی گروہ بندی ہو گئی۔ کچھ کھلم کھلا لبرل ازم کی نام لیوا تو کچھ رائٹ ونگ کی نمائندہ۔ کسی نے بظاہر غیر جانب داری کا چولا اوڑھا۔ بہت سا کچھ جو پاکستانی معاشرے میں ممنوعہ تھا یا صرف انگلش میں ہی کہا جا سکتا تھا وہ چیزیں اور موضوعات اردو سائٹس میں بھی منظر عام پر آئے اور ان کو زبان زد خاص و عام بنانے کی کوشش کی گئی۔ خیر اچھا کانٹینٹ، نئے لکھاری اور نئے موضوعات بھی سامنے آئے۔ کچھ ویب سائٹس نے کانفرنس یا سیمینار بھی کروائے۔ ریٹنگ نما ویوز کی دوڑ بھی لگی۔ بس اصل بات یہی تھی کی جس کا چورن جہاں بک سکتا تھا، اس نے بیچا۔۔۔ جس کے ہاتھ جو لگا لے اڑا۔۔۔۔

لیکن بہت عرصے سے کمی سی محسوس ہوتی رہی کہ سوشل میڈیا اور ان اردو بلاگ سائٹس پر جس طرز عمل نے سچی بات مایوس کرنا شروع کیا وہ بے ساختگی کی عدم موجودگی اور خیالات کی تازگی کا فقدان ہے۔ اکثریت کے ہاں وہ جو ایک سوشل میڈیا کا بے دھڑک لکھنے کا رجحان تھا، جو شگفتگی تھی اور جو اپنے حلقہ احباب سے تبادلہ خیال کا مزا تھا وہ نہ رہا۔ یہاں بھی سادگی کی جگہ تصنع نے لے لی۔ غیر جانبدارنہ تجزیہ کو ہم خیالی کی مجبوری کھا گئی۔ خاص طور پر جو ویب سائٹس دوڑ میں آگے نکل گئیں وہ اور ان کے لکھاری ہر کار بے کار بات کو ایک دوسرے کے لئے دفاع کرنا فرض عین سمجھنے لگے۔ لبرل ازم اور سیکولرازم کا پرچار کرنے والے اگر کسی جگہ غلطی کر بیٹھیں تو باقیوں کے لئے اس پر کھڑے ہونا مجبوری بن گئی۔ رائٹ ونگ اور نظریاتی یا اسلام پسندی والے گروہ کا تو یہ خیر شروع سے ہی بھائی بندی والا معاملہ تھا۔ تنگ ذہنیت، تعصب اور انا پرستی کے جو مظاہرے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے حامیان کرتے ہیں، اسی کا اعادہ قارئین کی جانب سے نظر آنے لگا۔ جو فسادیوں کو جہادی ثابت کرنے پر تلے ہیں ان کے فالوورز بھی ان ہی کی طرح شدت پسندی کو جائز سمجھتے ہیں۔ کچھ قاری ایسے بھی ہیں جن کی رالیں زنانہ پوسٹ کو دیکھ ٹپکنا شروع ہو جاتی ہیں اور قلابے زمین و آسمان کے ملا دئے جاتے ہیں، چاہے لکھنے والی نے رج کے چول ماری ہو یا ادھر ادھر سے خیال لے کر جوڑا ہو۔ کچھ قاری کسی کا سارا آرٹیکل چھوڑ کر ایک لفظ کے پیچھے پڑ جاتے ہیں، اور کچھ کی روزی روٹی صرف شئیر کرنے کی حد تک ہے، لیکن اس میں بھی لکھاری کی صرف وہ تحریر جو ان کے نظریات کو وارا کھائے۔

قاری طبقہ ایک ایسا بھی ہے جس کا بس نہیں چلتا تو نے اس نے نوک زبان سے گولیوں جیسی گالیاں دینا وطیرہ بنا رکھا ہے۔ مثلاً ٹویٹ ہوا، فوج واہ واہ۔ ٹویٹ واپس، فوج کے سارے گناہ ہی گناہ۔ کوئی جماعت یہ چاہتی ہے دشمنوں میں صرف انڈیا، امریکہ اسرائیل کو تہس نہس کر دیا جائے لیکن خبردار متشدد قبیلے کو کچھ کہا وہ ہمارے اسلامی بھائی ہیں اور یہ ان کا محض ردعمل ہے۔ اور کوئی فورم یہ چاہتا ہے پاکستان میں ہر اسلام پسند پر بجلیاں گرادی جائیں۔ جن کا حب مغرب میں بس نہیں چلتا کہ پاکستان کو ٹھیکے پر دلوا دیں۔ لیکن ذرا سی کارروائی اپنے قبیلے پر ہوجائے تو ان کے بین اور سیاپے کیا کہنے۔ دوسری طرف آپ سیاست یا حکومت پر لکھو، آپ پی ٹی آئی والے (زرداری سے پہلے جیالا ہونے کا الزام لگتا تھا)، کپتان پر تنقید کر دو، آپ پٹواری۔ بعینہ ہر تحریر کے بعد آپ فوراً شعیہ، بریلوی، وہابی، قادیانی، ملا، غدار، محب وطن، دہریہ اور لبرل یا تنگ نظر ڈکلیئر کر دئے جاتے ہیں۔

چلو یہ تو عوام ہے، پڑھنے والے ہیں، اچھے برے جیسا معاشرہ، ویسے سوشل میڈیا کے صارفین۔ ہر کسی سے ایک جیسی انڈرسٹینڈنگ کی توقع نہیں۔ جس مائنڈ سیٹ کو آپ نے کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور موبائل لے دیا، اس نے بجائے اس سے سیکھنے کے اپنا نظریہ تھری جی فور جی سے ٹھوکنا شروع کر دیا۔ ٹیکنالوجی ذہن سازی نہیں کرتی، صرف سہولت دیتی ہے۔ چنانچہ اپنی نفرتوں اور محبتوں کے گرافکس دھڑا دھڑ بننے لگے۔ جیسا دودھ، ویسی ملائی، سو ان کا گلہ کیا۔ لیکن سب سے زیادہ جس بات سے جی متلانے لگتا ہے وہ لکھنے والوں کا بھی یہی رویہ ہے۔ اپنے کوچہ سے کچھ گرزنے والوں مسلسل ملامت کا نشانہ۔ جیسے ہی کسی دوسرے فلانے کی نئی تحریر دروازے پر آئی، تو گن نکالی سیدھا فائر، اور بعد میں لاش سے پوچھنا، ہاں تو بھائی آپ کہنے کیا آئے تھے؟ اوپر سے لایعنی مباحث، وقت کا ضیاع، دلیلوں کی بھرمار، ایک سائٹ لکھتی ہے تو دوسری پرسے شیلنگ شروع ہو جاتی ہے۔ ادھر سے پھر جوابی حملہ۔ یقین نہ آئے تو قندیل بلوچ اردو میں لکھ کر فیس بک میں سرچ کر لیں اورایک لفظ فاحشہ کو لے کر جوٹکراؤ ہے، مجھے یقین ہے آپ کی طبیعت مکدر کرنے کے لئے کافی ہوگا۔ سب سائٹس کے دعوے کھوکھلے سے، معیار کے وعدے سیاست دانوں والے۔ جو کام دس سالوں سے چینلز کر رہے تھے اس میں جو کسر رہ گئی تھی پچھلے دو سالوں میں ان ویب سائٹس نے پوری کر دی۔ قاری آج اور بھی کنفیوز ہے۔ اصل ایشوز جن پر سوچ بچار چاہیئے ان سے دور ہے۔ جن پر بات ہونی چائیے اس پر بولنے کو کسی کے پاس کچھ نہیں۔ کہاں وہ لکھاری اور دانشوران کہ جن کی تحریر کا ایک ایک فقرہ یا تاثر مجموعی آپ کی زندگیوں کے اصول دیتا تھا، کہاں یہ رننگ کمنٹری جیسی ہڑبونگ کہ جنہوں نے دن رات ہر نیوز پر غیر ضروری تبصرہ کرنا ہے۔ جن کو شام کے اخبار بھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں وہ تحاریر ہائی لائٹ کر کے شائع کی جاتی ہیں۔

لکھنا سب کا حق ہے، لیکن چھپنا سب کا حق نہیں، اس بات کو بھی سمجھنا ہوگا۔ لہذا ہمارے لکھنے اور پڑھنے والوں کو کچھ سوچنا ہوگا، اور خیر سے سائٹس چلانے والوں کو بھی۔ چاہے جس نظریہ کے بھی لوگ ہوں، کچھ پروفیشنل ازم لانا پڑے کا اور یہ انویسٹمینٹ کے بنا ممکن نہیں۔ دنیا بھر میں جو ویب سائٹس یا بلاگ سائٹس مقبول ہیں، وہ محض فیس بک کے اٹکل پچو یا مفت کے گروپس بنا کار داد و تحسین پر نہیں چل رہیں۔ خود پاکستان میں بھی ہر شعبہ کے اچھے بلاگرز کی ایک فہرست ہے، جو دونوں زبانوں میں لکھنا جانتے ہیں۔ آپ اپنی ویب سائٹس کو ایک اچھے اخبار کی طرح چلائیں۔ آپ اچھے لکھاریوں کو تحریر کا معاوضہ دیں، اپنا ایڈیٹوریل سٹاف تنخواہ پر رکھیں۔ ویب سائٹس کی ڈیویلپمنٹ اور سوشل میڈیا مارکیٹنگ معیاری طریقے سے کروائیں۔ دنیا میں کوئی بھی پراجیکٹ فنڈنگ کے بنا نہیں لانگ ٹرم چلتا۔ ویب سائٹ کو بھی اس قابل ہونا چاہیئے کہ اشتہارات دوسرے طریقوں سے کما سکے۔ ورنہ مفت کی ایڈمنسٹریٹر دیہاڑیوں اور ویلے لکھاریوں سے یہی کچھ برآمد ہونا ہے جو اب ہو رہا ہے کہ بیس تحریروں میں سے لگ بھگ دو کام کی، باقی بس نام کی۔

ہم جیسوں پر جون ایلیا کی بات صادق آتی ہے،

"ہمارا المیہ یہ ہے کہ شاید جن کو ابھی پڑھنا چاہیئے، وہ بھی لکھ رہے ہیں!"

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ