حق بات کرنا میرا جرم ، جو جتنا بڑا کرپٹ وہ پارٹی لیڈر شپ اور حکمرانوں کے اتناہی قریب ہے :ڈاکٹر فہمیدہ مرزا

حق بات کرنا میرا جرم ، جو جتنا بڑا کرپٹ وہ پارٹی لیڈر شپ اور حکمرانوں کے ...
حق بات کرنا میرا جرم ، جو جتنا بڑا کرپٹ وہ پارٹی لیڈر شپ اور حکمرانوں کے اتناہی قریب ہے :ڈاکٹر فہمیدہ مرزا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بدین(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کی منحرف سینئر رہنما ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا ہے کہ میرا جرم یہ ہے کہ میں نے حق بات کی ہے، اب جو جتنا بڑا کرپٹ ہے  وہ پارٹی لیڈر شپ اور حکمرانوں کے اتناہی قریب اور عزیز ہے،روٹی ، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے،شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کے نام پر ووٹ لینے والوں نے نہ صرف عوام سے روٹی کپڑا اور مکان چھین لیا ہے بلکہ اب تو پینے کا پانی بھی عوام سے چھین کر ان سے جینے کا حق چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق  ڈی سی چوک بدین پر ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سابق سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ اب شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کی پیپلزپارٹی نہیں رہی نہ ہی ان کا منشور نہ ہی ان کا مشن رہا ہے، اب جو جتنا بڑا کرپٹ وہ حکمرانوں کے اتناہی قریب اور عزیز ہے، عوام کی خدمت کی بجائے عوام کو ان کے حقوق سے محروم کیا جا رہا اور لوٹ مار عام ہے ،پہلے بدین کے عوام سے ان کو ترقیاتی کاموں سے محروم رکھا ،پھر ان کے حصے کے پانی پر ڈاکا ڈال کر علاقے کی زرعی معیشت کو تباہ کیا گیا ،اب تو ظلم کی انتہا یہ ہے عوام سے پینے کے پانی کو بھی چھین لیا گیا ہے، اس موقع پر انہوں نے گندے پانی کی بوتلیں لہراتے ہوئے پیپلز پارٹی کی قیادت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ظالمو یہاں آؤ اور ان بوتلوں میں سے ایک گھونٹ پانی پی کر دکھاؤ ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا  جینا مرنا عوام کے ساتھ ہے، ہم خوشی غمی کے ساتھی ہیں ،عوام نے ہمیشہ ہم پر اعتماد کیا اور جب بھی موقع ملا  ہم نےعوام کی حقیقی خدمت کی اور  علاقے کی تعمیر و ترقی عوامی خوشحالی اور فلاح بہبود کے لیئے ریکارڈ کام کرائے۔ انہوں نے کہا میری پارٹی عوام ہے ،جو پارٹی عوام کی خدمت پر یقین رکھتی ہو اور عملی طور پر عوام کے حقوق کے لیئے جدوجہد کرے گی میں اس کے ساتھ ہوں گی۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ ان کا جرم صرف یہ ہے انہوں نے حق اور سچ کی بات کی ، بدین کی عوام کے حقوق کی بات کی ، سندھ دشمن سازشوں کے خلاف آواز بلند کی انہوں نے کہا کہ   پہلے پارٹی ٹکٹ ہونے کے باعث میں پارٹی فیصلوں کی پابند تھی، اب میری زبان بندی ختم ہو چکی اور میں اب کھل کر عوام کے حقوق کے لیئے آواز بلند کروں گی۔

مزید : علاقائی /سندھ /بدین