مکالمہ

مکالمہ
مکالمہ

  



گومل یونیورسٹی میں انتظامی و دفاعی اداروں کی لیڈشپ اور طلبہ کے درمیان بامقصد مکالمہ کیلئے،ملکی ترقی و قومی یکجہتی میں نوجوانوں کے کردار،کے عنوان سے ایک بھرپور سمینار کا انعقاد کیا گیا،جسمیں مغربی سرحدات پہ کشیدگی، دہشتگردی کے خاتمہ،مرکز گریز تحریکوں کی غیر فطری افزائش،قومی سلامتی کا حقیقی تصور اور قبائلی علاقوں کو پرامن بنا کے قومی دھارے میں لانے جیسے موضوعات پہ سٹوڈنٹس کے سوالات نے اس مباحثہ کو زیادہ پُرمغز وبامعنی بنا دیا،اس موقعہ پہ طلبہ کے سوالات کا جوابات دیتے ہوئے انسپکٹر جنرل فرنٹئیر کور میجر جنرل عابد لطیف نے کہا کہ نوجوان نسل کسی بھی معاشرے کا وہ توانا عنصر ہے جن کی صلاحیتوں کو اگر ریگولیٹ کر لیا جائے تو وہ تعمیر ملت کے علاوہ پیداواری عمل میں موثرکردار ادا کرسکتی ہے،اسی لئے مملکت کو کمزور کرنے کی خاطر دشمن ہماری نوجوان نسل کو ذہنی خلفشار میں مبتلا کر کے بے مقصدیت اور انتشار کی جانب دھکیلنے کی کوشش کرتا رہے گا تا ہم آج کے اس سمینار سے یہ عیاں ہوا کہ ہماری نوخیز نسلیں سماجی ارتقاء کا کامل شعور اور قومی سلامتی کا درست ادراک رکھنے کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں کو تعمیر ملت کے مقدس عمل میں بروئے کار لانے کی اہلیت سے بہرور ہیں،سمینار سے گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سرور،کمشنر ڈیرہ ڈویژن عبدالغفور بیگ،ریجنل پولیس آفیسر محمد کریم خان،سٹیشن کمانڈر بریگیڈئر محمد عاطف منشاء،شعبہ ابلاغ عامہ گومل یونیورسٹی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر وسیم اکبر شیخ،ڈاکٹر فاروق گل،گومل یونیورسٹی کی طالبہ رداوفا گل،عامر مختار اور علی حسن شاہد نے بھی خطاب کیا،تقریب میں میڈیکل کالج کے طلبہ و طالبات سمیت ضلع بھر کے کالجوں کے اساتذہ و طلبہ کی قابل لحاظ تعداد شریک ہوئی۔جنرل عابد لطیف نے گومل یونیورسٹی میں اپنی نوعیت کے اس منفرد سیمنا ر کے انعقاد پر وائس چانسلراور طلبہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ خوشگوار ماحول میں اعمال ریاست اور اس نوجوان نسل کے درمیان بامقصد مکالمہ ہم آہنگ تسلسل کا وسیلہ بنے گا،جنہوں نے مستقبل میں اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے، آج اس ماحول میں طلبہ کو کھل کر اپنا ما فی الضمیر بیان کرنے کا موقعہ ملا تو ہمیں بھی معاشرے کے سوچنے کے انداز اور اجتماعی زندگی کی بوقلمونی کا ادراک ہوا۔

یہ سیکھنے اور سیکھانے کا دوطرفہ عمل تھا جس سے طلبہ اور ریاستی اہلکار یکساں فیض یاب ہوئے۔فاٹا سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے قبائلی علاقوں میں حفاظتی انتظامات کی سختیوں کی گھٹن اور وہاں سماجی زندگی کی ہموار روانی کو جلد ممکن بنانے کی بات کی تو انہیں بتایا گیا کہ اسی یونیورسٹی کے ساٹھ سے زیادہ طلبہ کو جنوبی وزیرستان ایجنسی کا دو روزہ دورہ کرا کے وہاں ہونے والی ڈیولپمنٹ کا براہ راست مشاہدہ کرایا گیا،قومی اداروں نے تقریباً 95 فیصد آئی ڈی پیزکی بحالی ممکن بنائی جس کے نتیجہ میں لاکھوں قبائلی آبائی علاقوں کو لوٹ جانے کے قابل ہوئے،انہیں وہاں گھر بنانے کیلئے نقد امداد سمیت صحت،تعلیم اور نقل و حمل کی بہترین سہولتوں کے علاوہ معاشی سرگرمیوں کے وسیع مواقع مہیا کئے گئے۔جنرل عابد لطیف نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جن کی کل آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے،ہم اس بہترین انسانی مواد کو کارآمد بنا کے اقوام عالم میں اعلی مقام پا سکتے ہیں،نوجوانوں کو ہر شعبہ میں،صرف اپنے لئے ہی نہیں،پوری انسانیت کیلئے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دینے کی ترغیب دی جائے تو نونہالان قوم کے ذہنی افق مزید وسیع ہوں گے تاہم ہائبرڈ وار کی حرکیات نے عہد جدید کو زیادہ پرخطر اور اجتماعی حیات کو پیچیدہ تر بنا دیا،عصر حاضر کی جنگوں میں جدیدترین ہتھیاروں کے علاوہ نفسیاتی حربوں کو بروئے کار لانے کا رجحان عروج پہ ہے۔

دشمن پانچویں درجہ کی جنگ میں نوجوان نسل کو گمراہ کر کے انکی صلاحیتوں کو اپنی ہی مملکت کے خلاف استعمال کرنے میں مہارت رکھتا ہے،جدید نظریہ جنگ میں باصلاحیت نوجوان کی سوچ ہی دشمن کا پہلا ہدف بنتی ہے،جن کی مضطرب روح اور بے پناہ توانائی مناسب رہنمائی نہ ملنے کی بدولت باآسانی صراط مستقیم سے بھٹک سکتی ہے،اسی نفسیاتی کشمکش سے نبردآزما ہونے کے لئے ہمیں نوجوانوں کی ذہنی و جسمانی تربیت اور فکری راہنمائی کیلئے اعلی تعلیمی ادارے کے کردار کو زیادہ موثر بنانے کی ضرورت ہو گی۔ قومی سلامتی کے ذمہ داراداروں نے گومل یونیورسٹی جیسے نظرانداز کردہ تعلیمی ادارے کی طرف نظرالتفات پھیر کے امید کی کرن پیداکر دی،بدقسمتی سے خیبر پختون خوا کی دوسری قدیم یونیورسٹی اس وقت تعلیمی پسماندگی،انتظامی بحران اور مالی مشکلات کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے جس سے نکلنے کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی،یہاں اعلی ترین سطح پہ فیصلہ سازی کے فقدان نے یونیورسٹی اہلکاروں کو مسائل کے حل کی خاطر عدالتوں کی راہ دکھائی،چنانچہ ایک بے مقصد مقدمہ بازی نے جہاں اس عظیم مادرعلمی کواقتصادی بدحالی کے دہانے پر لا کھڑا کیا وہاں اسی رجحان نے انتظامی اتھارٹی کو بھی مضمحل بنا دیا،یہ غیرضروری مقدمات یونیورسٹی کے وسائل کا بڑا حصہ چوس کے ماحول پہ بے یقینی کی یبوست وارد کرتے ہیں،افسوس کہ کرپشن نے یونیورسٹی اہلکاروں کی بصیرت کو کند کر دیا،اگر اوپر کی کمائی نہ ملے تو انکا عمل انہضام بگڑ جاتا ہے،بلاشبہ تعلیمی ادارے ہمارے ذہنوں کے لئے آلاتی رجحانات مہیا کرتے ہیں لیکن یہاں خود ارباب اختیارکے اذہان بنجر اور دل نور علم سے خالی ہیں،ہمارے اساتذہ کو مستقبل کے دبستانوں سے دلچسپی نہیں رہی اور اہل مدرسہ فقط اپنی آرزوں کے اسیر بن کے رہ گئے،بلاشبہ تعلیم جب تک فرد کی شخصی آرزوں اور اجتماعی ذمہ دارویوں میں مطابقت پیدا نہ کر دے اور ایسے میلانات کو جِلا نہ بخشے جو اپنے کردار کو اجتماعی بہبود کے مطابق بنائیں،وہ ایک بے مقصد ذہنی مشق کے سوا کچھ نہیں ہوتی،سپینسر نے کہا تھا کہ تعلیم میں ادبیات کم اور سائنس زیادہ ہو جس کا مقصد ذہن کی مسلسل نشو ونما اور زندگی کی مستقل تنویر ہو۔

بدقسمتی سے پچھلے تیس سالوں سے سیاسی مداخلت نے یونیورسٹی کے اعلی ترین عہدوں کو سیاسی کارکنوں کی میراث بنا کے تعلیمی ماحول کو پراگندہ کر دیا،ایک مدت سے خیبرپختون خوا کے گورنر نے یونیورسٹی کے اعلی ترین مناسب پر تعیناتیاں معطل رکھ کے رجسٹرار، کنٹرولرامتحانات، ڈائریکٹرفنانس اور ڈائریکٹر اکیڈیمک جیسی اہم پوسٹوں کو بازیچہ اطفال بنا کر انتظامی اتھارٹی کو تحلیل کردیا،لاریب ایک ہمہ گیر زوال نے اس مقدس ادارے کوجمودکی تاریکی میں ڈبو کے ایسی فضا پیدا کی جسمیں غیرمحدود کرپشن،علاقائی و لسانی نفرتوں اور مرکز گریز تحریکوں کو پنپنے کے مواقع ملے،جس سے ایک علمی ادارہ دھڑے بندیوں میں بٹ گیا، یونیورسٹی کے اعلی عہدہ پہ براجمان کئی اہلکار کھلے عام سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہو کے پرتشدد تحریکوں کو خام مواد فراہم کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں، اگر اب بھی ریاست چند لوگوں کو تھکا دینے والی اور ناشائستہ کشمکش سے الگ کر لے تو اس مادرعلمی کے سدھرنے کا امکان مل جائے گا،لیکن بااختیار اداروں نے اگر اس مادرعلمی کو بدنام کرداروں سے نجات دلانے میں غفلت برتی تو اسکے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔

مزید : رائے /کالم


loading...